کھسیانی بلی کھمبا نوچے

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

امریکا کے وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کے پاکستان سے تعلقات کا از سرنو جائزہ لینے سے متعلق بیان پر تجزیے
اور تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ سب ہی اپنے اپنے انداز سے اس بیان کی تشریح کرنے میں مصروف ہیں۔

میرے نزدیک انٹونی بلنکن کا یہ بیان “کھسیانی بلی کھما نوچے” (اپنی غلطی یا ناکامی کا غصہ دوسروں پر اتارنا)
کے مترادف ہے۔ کیونکہ افغانستان سے جس عجلت میں امریکا نے اپنی فوج کو نکالا ہے اس کی مثال عصر حاضر
میں کہیں نہیں ملتی۔

ڈیڑھ سال کی مسلسل کوششوں سے قطر کے دارلحکومت دوحہ میں طالبان کے ساتھ اقتدار کی منتقلی اور فوجوں
کی واپسی کا معاہدہ پاکستان نے نہیں امریکا نے کیا تھا۔

امریکا کو خود افغانستان کی سرزمین سے نکلنے کی جلدی تھی 20 سال سے وہ وہاں پھنسا ہوا تھا اور باہر
نکلنے کا اسے کوئی راستہ دیکھائی نہ دیتا تھا۔ اندھیرے سے باہر نکلنے کے لیے چراغ پاکستان ہی نے روشن
کیا تھا اب اسی پر دغا بازی کے بیانات داغے جاری کیے جارہے ہیں۔

یہ بات زہن نشیں کرنے کی ضرورت ہے کہ اب یہ 1980 اور 2001 ایک نہیں کہ پتھر کے دور میں پہنچادینے
کی دھمکی پر ہم زیر ہو جائیں گے۔

پاکستان کو مختلف عالمی اداروں کے ذریعے دباؤ میں لینے کی بھی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ایف اے
ٹی ایف کی تلوار پہلے ہی لٹکائی ہوئی ہے۔ امریکا پاکستان سے تو ڈومود کا مطالبہ کرتا ہے لیکن خود اس نے
دہشت گردوں سے معاہدہ بھی کرلیا۔ جن کی حکومت 2001 میں ختم کی ان ہی کو معاہدہ کے ذریعے اقتدار
واپس بھی دے دیا اب پاکستان پر غصہ کیسا؟

طالبان یا پاکستان کے ساتھ یہ کیسی مخالفت ہے کہ ایک فوجی زخمی کروائے بغیر امریکا پرامن طور پر افغانستان سے نکل گیا؟

کیا امریکا زمینی حقائق سے آگاہ نہیں؟
پاکستان وہی ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا۔ 80 ہزار سے زائد عام شہری اور سیکیورٹی فورسز کے جوان امریکا کی شروع کی گئی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوئے۔
انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ اربوں ڈالر کی معیشت تباہ ہوئی اور ملک میں امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا ہوا۔
یو این ایچ سی آر کے مطابق پاکستان میں اب بھی 14 لاکھ کے قریب رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں لیکن اصل تعداد 30 لاکھ سے بھی زائد ہے۔
پندرہ اگست کو سقط کابل کے بعد 5 ہزار سے زائد افغان مہاجرین پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس کا بوجھ امریکا پر پڑ رہا ہے یا پاکستان پر؟
امریکا کے وزیر خارجہ کون ہوتے ہیں پاکستان کو مشورہ دینے والے کہ افغانستان کو اُس وقت تک تسلیم نہ کیا جائے جب تک طالبان خواتین کو حقوق نہیں دے دیتے۔ معاہدہ کرتے ہوئے امریکا کو اس کا خیال نہیں آیا؟ اس وقت تو جلدی تھی کہ کسی طریقے سے افغانستان سے بوریہ بستر لپیٹا جائے اب انسانی حقوق کے چیمپئین بن رہے ہیں۔
امریکا کو اپنے گریبان میں جھانکنا پڑے گا کہ وہ اس طرح بیانات کے ذریعے خود کو بےقصور قرار نہیں دلوا سکتا۔ سب جانتے ہیں اور تو اور امریکی عوام بھی انتظامیہ کے اس فیصلے پر حیران ہیں اور پریشان بھی۔
امریکا اور پوری دنیا کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ افغانستان کی صورت حال کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے تو پھر پاکستان افغانستان میں بدامنی کا متحمل کیسے اور کیوں کر ہوسکتا ہے؟
افغانستان میں حالات بہتر ہوں گے تو پاکستان سمیت پورے خطے میں خوشحالی آئے گی۔ اس لیے امریکا کو کھسیانی بلی کھمبا نوچے والی حرکت کرنے سے باز رہنا چاہیے۔


شیئر کریں: