پی ایف جے کس خاندان کی واپسی کے لیے جدوجہد کررہا ہے؟

شیئر کریں:

تحریر عامر حسینی

کل میں دنیا نیوز میں ملازم ایک سینیئر صحافی کے ساتھ کہچری کررہا تھا- انہوں نے بتایا کہ اُن کے مالک
سیٹھ میاں عامر نے ایک طرف تو ادارے کے خسارے میں جانے کا سیاپا ڈال کر ادارے کے سب ملازمین کی
تنخواہوں میں کٹوتیاں شروع کررکھی ہیں تو دوسری طرف یہی سیٹھ 56 فیصد شئیر خرید کر ڈاکٹرز
اسپتال نیٹ ورک خرید چُکا ہے اور ایک نیا لگژری پارک بھی تعمیر کرچکا ہے۔

اس نے دفتر میں صحافیوں کو چائے کی فراہمی کی سہولت ختم کی اور جب صحافی اپنی جیب سے چائے
منگواکر پینے لگے تو کہا کہ اس طرح سے پروفیشنل ماحول خراب ہوتا ہے۔

ہر طرف سی سی کیمرے اور بگنگ آلات لگاکر صحافی ملازمین کی سخت نگرانی کی جاتی ہے۔

سی ای او آفس کے ملازمین سے سینئر صحافیوں کی تذلیل کی جاتی ہے۔

یہ سینئر صحافی پاکستان کی صحافتی ٹریڈ یونین تاریخ کے اہم کردار ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں
پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا گروپوں کے مالکان نے ویسے تو خود کو جمہوریت پسند اور نام نہاد محب
الوطن گروپوں میں تقسیم کررکھا ہے لیکن میڈیا ورکرز کے استحصال کے باب میں دونوں اطراف کے
مالکان اور سیٹھوں کا آپس میں اتحاد ہے –

اُن کا کہنا ہے کہ اس وقت صحافی ورکروں کے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ اداروں میں ورکرز کی تنخواہوں
کے درمیان پایا جانے والا فرق ہے –

میڈیا مالکان نے اپنے اداروں میں ایک صحافیوں/اینکرز/میزبان پروگرام کی چھوٹی سی اقلیت کو

Irrational packages

پر ملازم رکھا ہوا ہے اور ہر بڑے میڈیا گروپ میں صحافیوں کی تنخواہوں کو ریشنلائز کرنا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایف یو جے کا ایک دھڑا جو پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیے بیٹھا ہے، اس کی قیادت کرنے والوں میں اکثر وہ لوگ ہیں جو نام نہاد اینٹی اسٹبلشمنٹ میڈیا مالکان کی آنکھ کا تارہ ہیں یا انھیں غیر ملکی نشریاتی اداروں سے بھاری معاوضہ مل رہا ہے بلکہ وہ این جی او ورک سے بھی پیسہ کمارہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پی ایف یو جے کا دوسرا دھڑا بھی “کٹھ پتلی” قیادت کے نرغے میں ہے۔
اسلام آباد میں بیٹھا پی یو ایف جے کے دھڑے کے اکثر جانے پہچانے چہرے سب کو معلوم ہے وہ کس خاندان کی اقتدار میں واپسی کی جدوجہد میں مصروف ہیں؟

انھوں نے بتایا کہ 99 نیوز چینل کے نام سے اسی خاندان نے ایک بڑی سرمایہ کاری کرکے اپنے تابع فرمان اُن اشراف صحافیوں کو پرکشش معاوضہ فراہم کرنے کا بندوبست کیا ہے جنھیں حکومتی دباؤ پر اب جیو، ڈان میں پروگرام کرنے اور اس گروپ کے اخباروں میں لکھنے کی اسپیس نہیں مل رہی۔

انھوں نے انکشاف کیا کہ ڈان میڈیا گروپ جو اپنے آپ کو اینٹی اسٹبلشمنٹ کے طور پر پوز کرتا رہا ہے نے اپنی پالیسی 75 فیصد حکومت اور 25 فیصد اپوزیشن بنالی ہے اور 25 فیصد اپوزیشن کوریج میں اب بھی 20 فیصد کوریج نواز لیگ ہے۔

ڈان میڈیا گروپ میں کام کرنے والے ایک سینئر صحافی رپورٹر کا کہنا ہے کہ ان پر بزدار حکومت کی کرپشن اسکینڈل کو رپورٹ نہ کرنے کا دباؤ ہے۔ سابقہ ریذیڈنٹ ایڈیٹر اشعر الرحمان آئی اے رحمان کو استعفا دینے پر مجبور کیا گیا کیونکہ وہ واضح طور پر شہباز شریف کیمپ کے آدمی سمجھے جاتے تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ڈان میڈیا گروپ، جنگ، جیو میڈیا گروپ اور دنیا میڈیا گروپ کو پنجاب حکومت کے اشتہارات میں بڑی تیزی سے اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

سینئر صحافی کہتے ہیں کہ پاکستان کے اکثر بڑے پریس کلبز مکمل طور پر ایسے گروپوں کے نرغے میں ہیں جن کی صحافتی سیاست حکمران طبقات کے ساتھ اشتراک و تعاون ہے اور حکمران طبقات کی باہمی لڑائی اور تقسیم ہی اُن کے درمیان لڑائی اور تقسیم کا سبب بنتی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اس وقت پی ایف یو جے کے دھڑے ہوں یا کوئی اور صحافتی ٹریڈ یونین تنظیمیں وہ میڈیا آفسز میں حقیقی ٹریڈ یونین سیاست کے احیا اور حقیقی سی بی ایز کے قیام میں زرا دلچسپی نہیں لیتیں –

ان تنظیموں کی قیادت مزدور صحافی بیورکریٹک اشرافیہ کی صورت اختیار کرچکی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ حکومت جیسے ہی میڈیا مالکان اور اشراف صحافیوں کی اقلیت کے مفادات سے متصادم شقوں کو مجوزہ ترمیمی بل سے نکال دے گی ویسے ہی آزادی صحافت کا جوش ٹھنڈا پڑجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے میڈیا گروپوں میں کام کرنے والے مزدور صحافیوں کو اپنے اپنے اداروں میں حقیقی ٹریڈ یونین سیاست کا احیا کرنا ہوگا اور کام کی جگہ پر لڑائی شروع کرنا ہوگی- جو صحافی مزدور یہ سمجھتے ہیں کہ خاموش رہ کر یا غیر جانبداری کا لباس پہن کر وہ میڈیا مالکان، حکومت اور پریشر گروپوں کے دباؤ سے بچ نکلیں گے، اب تک اُن کو یہ احساس کرلینے کی ضرورت ہے کہ میڈیا مالکان اور حکمران طبقات کی لڑائی میں سب سے زیادہ زخم “غیرجانبدار” رہنے والوں نے کھائے ہیں۔

صحافتی مزدوروں کو میڈیا مالکان، حکمران طبقات اور حکومت کے مقابلے میں اپنے طبقاتی مفاد کے گرد منظم ہونا ہوگا تب ہی ملازمت کا تحفظ، ریشنل تنخواہ ، سہولیات و مراعات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے گا-

انفرادی سطح پر، الگ الگ ڈپریشن، اینگزائٹی کا مریض بننے سے بہتر ہے لڑا جائے۔
(مصنف سے ادارے کی پالیسی کا متفق ہونا ضروری نہیں)


شیئر کریں: