عمران صدیقی کی ڈھاکا کے میڈیا کو افغان صورتحال اور پاکستان کی پوزیشن پر بریفنگ

شیئر کریں:

ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمشنر عمران احمد صدیقی نے مقامی میڈیا کو افغانستان کی سیکیورٹی صورت پر
پاکستان کی پوزیشن کے بارے میں آگاہ کیا۔
عمران احمد صدیقی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان مسلسل افغان جنگ کو بات چیت کے ذریعے حل پر زور
دیتے رہے۔ وزیراعظم کے ویژن کے مطابق پاکستان نے دوہا امن عمل میں بھرپور تعاون کیا۔

ہائی کمشنر نے کہا کہ کابل پر طالبان کا اچانک قبضہ غیر متوقع تھا۔ جس طرح افغانستان کی فوج نے بغیر
کسی مزاحمت کے ہتھیار ڈالے وہ حیران کن تھا۔

لیکن یہاں اہم بات یہ ہے بغیر کسی خون خرابے کے افغانستان میں اقتدار کی منتقلی ہوئی۔ افغانستان کے نگران
سیٹ اپ پر پاکستان کی گہری نظر ہے۔ امید ہے کہ افغانستان کی سیاسی صورت حال میں وقت کے ساتھ
مزید بہتری آئے گی۔

ہائی کمشنر نے مزید کہا کہ پاکستان افغان وفد اور تمام سیاسی جماعتوں کی اگست 2021 میں میزبانی بھی۔
پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے تاجکستان ، ازبکستان ، ترکمانستان اور ایران کا دورہ کیا
جہاں پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورت حال اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور ہم آہنگی بڑھانے کے لیے معاہدہ طے
پایا۔ ان چیلنجوں میں سرحدوں پر سیکیورٹی کی صورت حال ، مہاجرین کی آمد کا امکان ، افغان سرزمین
کو دہشت گرد تنظیموں کے استعمال سے روکنا اور منشیات کی تجارت کے ساتھ ساتھ کوویڈ 19 اور وبائی
امراض سے متعلق چیلنجز شامل ہیں۔

وزیر خارجہ نے 8 ستمبر 2021 کو ورچوئل سمٹ میں افغانستان کے پڑوسیوں کی میٹنگ کی میزبانی کی۔
اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں دیگر امور کے علاوہ افغانستان کی خودمختاری ،
آزادی اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اظہار کیا گیا۔

افغانستان میں امن کے قیام کے لیے ہمسایہ ممالک کی حمایت کا اعادہ کھلے اور جامع حکومتی ڈھانچے
کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان نے بگاڑ پیدا کرنے والے کرداروں کے امکان کے خلاف بھی خبردار کیا۔

اس بات کا اعادہ کیا کہ دہشت گرد تنظیموں کو افغانستان میں قدم جمانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان کو مناسب مالی مدد فراہم کرے۔

ایک سوال کے جواب میں ہائی کمشنر نے کہا کہ اب تک پاکستان نے أفغانستان سے 30 ممالک کے
12 ہزار سے زائد افراد کو نکالنے میں سہولت فراہم کی ہے جس میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ
سفارتی اہلکار اور بین الاقوامی تنظیموں کا عملہ شامل تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے خبردار کیا ہے افغانستان میں اگر دنیا نے مثبت کردار ادا نہ کی تو
خراب حالات نقل مکانی کرنے والوں کی لہر کو جنم دے سکتے ہیں۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان میں دہشت
گرد حملوں میں 80 ہزار پاکستانی جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ أفغان جنگ کی وجہ سے پاکستان کی
معیشت کو 150 ارب امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔

ہائی کمشنر نے بین الاقوامی برادری پر مزید زور دیا کہ وہ افغانستان میں انسانی بحران کی طرف توجہ دے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پہلے ہی افغانستان کو انسانی امداد فراہم کر رہا ہے۔

ہائی کمشنر نے کہا افغانستان کو اپنے مالی وسائل تک رسائی کی اجازت دی جائے تاکہ وہاں کی معاشی صورت
حال کی خرابی کو روکا جاسکے۔


شیئر کریں: