جب 9/11 حملوں نے دنیا بدل کر رکھ دی

شیئر کریں:

امریکا میں نائن الیون کے واقعے کو 20 برس بیت گئے نائن الیون وہ تاریخ ہے جب نیو یارک میں ٹوئن
ٹاورز راکھ کا ڈھیر بنے اس واقعہ نے دُنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ نائن الیون، وہ تاریخ جس نے دنیا کی
تاریخ بدل دی۔

دہشت گردوں نے امریکی ترقی کی نشانی ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو حملوں کے لیے منتخب کیا۔ نیویارک کے ماتھے
کا جھومر ورلڈ ٹریڈ سینٹر لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گیا۔

اس کارروائی میں امریکی ایئرلائن کے 2 مسافر طیارے 18 منٹ کے وقفے سے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی دونوں
عمارتوں سے ٹکرائے گئے۔ ان واقعات میں 3 ہزار کے قریب افراد جان سے گئے۔

لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کی کوشش کے دوران 343 فائر فائٹرز، نیویارک پولیس کے 23 افسران
اور پورٹ اتھارٹی کے 37 افسران بھی ان ہلاک ہوئے۔

پنٹاگون پر تباہ ہونے والے طیارے سے 189 افراد جان سے گئےجب کہ اسی دوران پنسلوانیا میں طیارہ گر کر
تباہ ہونے سے 44 افراد ہلاک ہوئے۔
ان واقعات کے بعد اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے قوم سے خطاب میں کہا کہ دہشت گرد ہماری
عمارتوں کی بنیادیں تو ہلاسکتے ہیں لیکن وہ امریکا کی بنیاد کو ہاتھ بھی نہیں لگاسکیں گے۔
صدر بش نے حملے کے چند گھنٹوں میں ہی انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا عندیہ دیا۔
جس کا آغاز 7 اکتوبر کو افغانستان میں آپریشن اینڈیورنگ فریڈم کے نام سے کیا گیا۔

نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ ٹاورز کے مقام پر تعمیر کی گئی یادگار گراؤنڈ زیرو اور میوزیم ہر سال امریکیوں
کو اس سانحہ کی یاد دلاتا رہے گا جس نے نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ
کی اس آگ میں دھکیل دیا جو نہ جانے کب بجھے گی۔

نائن الیون حملوں کے بعد دنیا بھر میں پاکستان امریکا کا سب سے اہم اور دہشت گردی کے خلاف فرنٹ
لائن اتحادی بن کر سامنے آیا۔
سابق صدر پرویز مشرف نے جہاں افغان طالبان کے خلاف امریکی و نیٹو سپلائز کے لیے پاکستان کے
طول و عرض کھول دیے
بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا کے ہوائی اڈوں اور ایئر اسٹرپس سے لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کے ذریعے
براہ راست افغان طالبان پر حملے ہوتے رہے انہی سہولیات سے پاکستان میں بھی جاسوسی کی جاتی رہی۔

اتنا کچھ کرنے کے باجود مشرف دور حکومت ہی میں کبھی پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کیا جاتا رہا تو
کبھی کولیشن سپورٹ فنڈ روک کرپاکستان کو بلیک میل کیا جاتا رہا۔
پاکستان پر کبھی طالبان کی حمایت تو کبھی کولیشن سپورٹ فنڈ کے غلط استعمال کے الزامات لگے ۔

پاک امریکا تعلقات میں بڑی دراڑ امریکی سی آئی اے اہلکاروں کی دھڑا دھڑ آمد سے پڑنا شروع ہوئی
بد اعتمادیاں بڑھنے لگیں۔
سی آئی اے کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں لاہور میں 2 نوجوانوں کا قتل ہوا ، اسامہ بن لادن کی تلاش
کے لیے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ذریعے انسداد پولیو مہم کی آڑ میں جاسوسی اور پھر ایبٹ آباد آپریشن
سلالہ پوسٹ پر نیٹو کے ہاتھوں 24 پاکستانی فوجیوں کی شہادت اور پھر نیٹو سپلائز کی بندش، پاک
امریکا تعلقات خراب تر ہوتے چلے گئے ۔

امریکا کے ساتھ تعلقات میں اونچ نیچ کی وجہ سے پاکستان نے چین اور روس کے ساتھ روابط بڑھانا شروع کیے۔
برادر اسلامی ممالک خاص طور پر ایران اور ترکی کے ساتھ بھی دوستی کے نئے رشتوں کا آغاز ہوا۔
بیس سالہ طویل جنگ کے بعد بلآخر امریکا کو أفغانستان سے نکلنا پڑا۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں کیے گئے امن معاہدے کو جوبائیڈن نے عملی جامہ پہنایا اور
أفغانستان سے دو دہائیوں بعد امریکی فوج کو نکال لیا۔طالبان ایک بار پھر أفغانستان پر قابض ہوگئے ہیں۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں أفغانستان ایک بار پھر خانہ جنگی کا
شکار نظر آرہا ہے۔
مختلف گوریلا گروپس أفغانستان میں سرگرم ہوجائیں جس کا براہ راست اثر پاکستان سمیت دیگر
ہمسایہ ممالک پر پڑے گا۔


شیئر کریں: