یاداشت بڑھانے کے شوقین بزرگ اور جوانوں‌ کو دہی کی عادت ڈالنی ہو گی

شیئر کریں:

جیسے جیسے عمر بڑھتی رہتی ہے انسان کی یاداشت ساتھ چھوڑنے لگتی ہے ایسی صورت حال میں‌
لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایسے ہی افراد کے لیے سائنسدانوں‌ نے ایک تحقیق کی ہے
جس کا یاداشت کیکو پورا کرنے میں کافی حد تک مدد مل سکتی ہے۔

یاداشت کے مسائل سے دوچار افراد سے چند سوال کیے گئے مثلا
کیا آپ ذہنی مسائل کا شکار ہیں؟
کیا آپ چیزوں کو رکھ کر بھول جاتے ہیں؟
کیا یاداشت کی کمی وجہ سے آپ کی پروفیشنل اور ذاتی زندگی مثاثر ہو رہی ہے؟
ان ہی سوالات کے گرد تحقیق کی گئی اور پھر ان سب مسائل کا سستا ترین حل تلاش کیا گیا۔

صرف آپ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں 15 کروڑ سے زائد لوگ ذہنی مسائل اور یاداشت کی کمی کے مسائل
کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

جب عمر میں اضافہ ہوتا ہے تو انسان کی ذہنی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔
مگر ذہنی مسائل سے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
اچھی خبر یہ ہے کہ ذہنی امراض کا انتہائی سستا اور آسان حل آئرلینڈ کے یونیورسٹی کالج کروک نے تلاش کرلیا۔
سائنس دانوں نے اپنی ریسرچ کے دوران چوہوں پر تجربات کیے۔
اس تحقیق میں تین سے چار ماہ اورانیس سے بیس ماہ عمر کے چوہوں کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا۔
ایک گروپ کو دہی کھلایا گیا جبکہ دوسرے گروپ کو دہی نہیں دیا گیا۔
سائنس دانوں نے پایا کہ دہی کھانے والے بوڑھے چوہوں کی ذہنی صلاحت دہی نہ کھانے والے نوجوان چوہوں
سے بہتر رہی۔
یونیورسٹی کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دہی کھانا ذہنی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔
وہ لوگ جو یاداشت کی کمی کا شکار ہیں اگر وہ دہی کا استعمال کریں تو ان کی یاداشت ٹھیک ہوسکتی ہے۔
سائنس دانوں نے بتایا کہ دہی میں قدرتی طور پر پروبائیوٹکس ہوتے ہیں۔
یہ پروبائیوٹکس انسان کی ذہنی نشو نما کے لیے انتہائی مفید اور مدد گار ہیں۔
دہی نہ صرف انسانی دماغ کے لیے بہتر ہے بلکہ اس کے اندر پائے جانے والے دوست بیکٹریا دہی کو نظام انہضام
اور دفاعی نظام کی مضبوطی کے لیے ابھی انتہائی ہیں۔
تو بس سب کچھ چھوڑیئے اور دہی کو اپنی خوراک کا لازمی حصہ بنا لیجئے


شیئر کریں: