پیر محل کی بوڑھی چپل دنیا بھر میں‌ پسند کی جانے لگی

شیئر کریں:

پیر محل سے امیر حمزہ

کیا آپ جانتے ہیں پاکستان چین، امریکا اور دیگر ممالک سے جوتے امپورٹ ہی نہیں کرتا بلکہ پاکستان
کا شہر ایسا بھی ہے جس کی چپل دنیا کے کئی ممالک کو ایکسپورٹ کی جاتی ہے۔
پنجاب کی تحصیل پیرمحل میں روایتی چپل بنائی جاتی ہے۔ پیرمحل میں چپل سازی کی صنعت تقریبا
بچاس سال قبل شروع ہوئی۔ چپل بننانے کا سلسلہ پیرمحل کے ایک بازار سے شروع ہوا

ایک بوڑھی خاتون بازاروں اور اسکولوں میں چپل میں فروخت کرتی تھی اس لیے اسے بوڑھی کی چپل
کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

پیرمحل کی چپل نا صرف پاکستان بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی اپنی مضبوطی اور خوبصورتی
کی وجہ سے مشہور ہے۔
امریکا، کینڈا، برطانیہ اور چین سمیت دیگر ممالک میں بھی یہ دیسی ساختہ چپل پسند کی جاتی ہے۔
پیرمحل کے نیم والے بازار میں چپل سازی کا نسل در نسل جاری ہے۔
کاریگروں کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر بننے والی چپل کا خام مال فیصل آباد اور لاہور سے حاصل ہوتا ہے۔
ماہر کاریگر روایتی مشینوں پر میٹریل کی گھسائی، رگڑائی اور سلائی کرتے ہیں۔
چپل کے ایک بیج کو بنانے میں دو سے تین دن کا وقت لگتا ہے۔

ماہر کاریگروں کی محنت کے بعد ایک ایسا شاہکار سامنے آتا ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ
پاوں ٹوٹ جائے مگر چپل نہیں ٹوٹٹی۔
خریدار بھی پیرمحل کی چپل سے خوش ہیں۔
کہتے ہیں اس دیسی چپل کو مزدور طبقے کی ضرور کے مطابق بنایا گیا تھا۔
اس پانی میں بھی استعمال کریں تب بھی چپل دو سے تین سال خراب نہیں ہوتی۔
اگر حکومت مقامی صنعتوں کو توجہ دے تو پاکستان چین سمیت دیگر ممالک کی صنعت کو ٹکر
دے سکتا ہے۔


شیئر کریں: