عزاداری یا تجارت؟ دین فروشوں نے غم حسین علیہ السلام کو دھندا بنالیا

شیئر کریں:

تحریر عزادار

عزاداری سیدالشہدا کے لیے فرش عزا دنیا بھر میں صدیوں سے بچھائے جارہے ہیں۔ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ والیہ وسلم حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری بڑی قربانیوں کے بعد یہاں تک پہنچی ہے۔ اس میں علمائے حق کا اہم کردار رہا ہے لیکن آج کے ڈیجیٹل دور میں سب کچھ بدلنے لگا ہے۔

مجالس سیدالشہدا جسے درسگاہ کا درجہ حاصل رہا ہے یہاں سے علم کے پیاسے سیراب ہوتے ہیں اور بھٹکے ہوؤں کو منزل ملتی ہے۔ بدقسمتی سے دور حاضر کے بعض نام نہاد علما، ذاکرین، نوحہ خوانوں اور بانیان نے عزاداری کے مقصد کو پس پشت ڈال دیا ہے۔
بعض افراد نے اس روحانی پلیٹ فارم کو پیٹ کی دوزخ بھرنے کا وسیلہ بنا لیا ہے۔ ذکر حسین علیہ السلام کرنے کی اجرت تو لیتے ہی تھے اب اپنی تقریروں اور نوحوں پر کاپی رائٹ کے حقوق بھی محفوظ کر لیے ہیں۔
آج کے نام نہاد ذاکرین، علما اور مفکرین نے ممبر کو کاروبار بنا لیا ہے۔ اس ممبر کو انتہائی متبرک مانا جاتا ہے اور اس کا مقصد معاشرے کی اصلاح کرنا ہوتا ہے۔ مگر وقت کا ستم کہیں کہ چند اداکار نما بدنما کردار اس ممبر پر برجمان ہوچکے ہیں۔ پڑھے لکھے علما کا اس مقدس ممبر تک پہنچنے کا راستہ مسدود کیا جارہا ہے۔
تیز و تند جملے بولنے والے علما اور ذاکرین نے اپنے گینگ بنا لیے ہیں۔ یہ گینگ اچھے، سنجیدہ اور معاشرے کی اصلا ح کرنے والے علما کو آگے بڑھنے نہیں دیتا۔
کہتے ہیں فنکاروں کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں مگر دور حاضر کے ممبر پر براجمان ان نام نہاد ذاکرین اور علما کے کوئی اصول نہیں۔
انہیں مجلس بڑھنے کے بھی پیسے چاہیں اور تقایر کے جملہ حقوق بھی اپنے ہی پاس رکھنے ہیں۔ محرم کے پہلے عشرے کی بڑی مجالس چندے سے ہوتی ہیں۔ مومنین تو اس نیت سے چندہ دیتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہ السلام کی بارگاہ میں ان کی حاضری لگے گی اور وہ اسے قبول کریں۔ انہیں کیا علم کہ امام حسین اور اہل بیت علیہ السلام کا نام لے کر بعض ضمیر فروش فرش عزا سے اپنا کاروبار چمکا رہے ہیں۔
مجالس کے پیسے ایک طرف اور یوٹیوب سے ہونے والی آمدن کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ ممبر رسول صلی اللہ علیہ والیہ وسلم پر بیٹھنے والوں نے اپنے اپنے یوٹیوب چینل بنا رکھے ہیں اور ان کی تقاریر پہلے اپنے چینل پر نشر ہوتی ہیں جس سے یہ لاکھوں روپے کماتے ہیں۔
یہ ذاکر مجلس پڑھنے کا منہ مانگا معاوضہ وصول کرتے ہیں تو ان کی تقریر پر حق بھی بانیان مجلس اور سوگواروں کا بنتا ہے نا کہ ان کے اپنے یوٹیوب چینل کا۔


ایک عزادار کا کہنا ہے کہ جب یہ افراد شہدائے کربلا کی ذکر کرنے کے پیسے وصول کرچکے ہیں تو ان کی تقریر کا انٹلیکچوئل رائٹ عام لوگوں کا ہونا چاہیے کہ وہ جب چاہیں جہاں چاہیں ان کی تقریریں استعمال کرسکیں۔
لیکن یہاں تو گنگا الٹی بہتی ہے۔ اگر کوئی غلطی سے تقریر استعمال کرلے تو ان کی سوشل میڈیا ٹیم کارروائی شروع کردیتی ہے۔ آرٹس معاوضہ لینے کے بعد اپنی پرفارمنس پر کوئی حق نہیں رکھتا۔ اب اس کی پرفارمنس صاحب خانہ یا منتظم جس طرح استعمال کرے اس کا آرٹس کلیم نہیں کر سکتا۔ پھر یہ کیسے علما ہیں جو مجلس کے بھی پہلے سے طے شدہ پیسے لیتے ہیں اور پھر وہی تقریر اپنے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کر کے کماتے ہیں۔
ان علما کا کہنا ہے کہ براہ راست تقریر اس لیے نشر نہیں کر سکتے کہ ہمارے خلاف پرچہ درج ہو سکتا ہے۔ اگر مسئلہ یہی ہے تو ممبر ایک زمہ داری کا مقام ہے نہ کہ اشتعال دلانے کا۔ آپ ممبر غیرضروری اور غلط بات کرتے ہی کیوں ہیں؟
مساجد اور امام بارگاہوں میں لگے لاؤڈ اسپیکر کی آواز بھی تو دور دور تک جاتی ہے کیا اس پر پرچہ درج نہیں ہو سکتا کیا؟
ایف آئی آر کو براہ راست نشر نہ کرنے دینے کا بہانہ بنانے والے یہ علما لاوڈ اسپیکر کے استعمال کو برا نہیں سمجھتے کیونکہ ریٹنگ کے علاوہ مجمع کی واہ واہ بھی چاہیے ہوتی ہے۔
ایک اور نکتہ جس کی جانب آپ لوگوں کی توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہوں کہ کورونا وائرس کی موجودگی میں مراجعوں کے فتووں اور ہدایات کے باوجود عزاداروں کو مجالس میں آنے پر مجبور کیا گیا۔ لوگوں کی اکثریت بغیر احتیاطی تدابیر اختیار کر کے مجالس میں شریک ہوئے جس کی وجہ سے عزادار متاثر ہوئے لیکن انہیں داد تو مل گئی۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان دین فروشوں سے تو گلوکار اور اداکار بہتر ہیں جو پروفیشنل ہیں اور کسی کنسرٹ کے پیسے وصول کرلیں تو شہریوں کو اس کنسرٹ میں ہونے والی گلوکاری کے انٹلیکچول رائٹ دے دیے جاتے ہیں۔

علامہ شہنشاہ نقوی، برطانوی نژاد پاکستانی مولانا علی رضا رضوی اور دیگر کئی ایسے نام جن کو سننے کے لیے مومنین بے قرار رہتے ہیں اور ان کی تقریروں کا انتظار کرتے ہیں لیکن یہ بھی ترجیح اپنے دھندے کو دیتے ہیں کسی کو اجازت نہیں کی دہلیز پر کوٹھا کھولے۔ ان کی تقاریر ان کے یوٹیوب چینلز پر ہی شیئر ہوں اور کسی کو اجازت نہیں کہ وہ وہاں سے کاپی کرکے کہیں استعمال کرلے۔
مولانا نصرت بخاری کی بعض مجالس میں کسی اور کو کیمرا لگانے کی اجازت نہیں دی گئی لیکن ممبر سے وہ باتیں خوب کرتے ہیں۔

انتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ دس محرم یعنی یوم عاشور کو علامہ شہنشاہ نقوی کے آفیشل پیج پر شام غریباں کی مجلس نشر کی گئی اور اس کی اسکرین پر “علامہ شہنشاہ آفیشل” کا واٹر مارک چلاتے رہے۔ تعف ہے دین فروشوں پر جنہوں نے کمرشل بنیادوں پر چلنے والے نیوز چینلز کا بھی ریکارڈ توڑ دیا۔

دنیا میں دس محرم کی قیامت سے بڑا کوئی دن نہیں، اس دن پر کسی بھی اہل ایمان کو آل رسول صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کے مصائب کے سوا کچھ نہیں سوجھتا لیکن علامہ شہنشاہ نقوی اور ان کی ٹیم کو اس دن بھی خون حسین علیہ السلام کو بیچنے سے فرست نہ ملی۔

ایک عزادار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خون حسین کا سودا کرنے والے نام نہاد مولیوں کو یزید کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس کی وجہ سے ان کا بزنس چل رہا ہے۔ یہ علما مجالس کو محدود کر کے کن لوگوں کی مدد کر رہے ہیں؟
بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ بعض مومنین اپنے موبائل فون سے گھر میں ضعیف والدین یا بیرون ملک اہل خانہ کو مجلس میں شریک کر لیا کرتے تھے ان کے موبائل فون تک بند کرادیے جاتے ہیں۔
ایک بانی نے بات نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم پر دباؤ تھا کہ علما کی ٹیم کے سوا کوئی بھی اسے نشر نہیں کر سکتا۔
ایسے ہی دین فروش لوگ ہرفرقے میں موجود ہیں۔ لیکن شاید اب ان کا وقت گنا جاچکا ہے۔ کوئی چیز جب اپنی حد پار کرجاتی ہے تو اس کے خلاف مجدد پیدا ہوجاتے ہیں۔ موجودہ دور کی نوجوان نسل نے ان دین فروشوں کے کاروبار پر سوال اٹھانا شروع کردیے ہیں۔
اگر انہوں نے توبہ کر کے اپنا راستہ نہ بدلا تو وہ وقت دور نہیں جب ان کو گریبان سے پکڑ کر ممبر سے اتارا جائے گا اور ممبر کا تقدس بحال کرنے کے لیے پڑھے لکھے افراد کو دوبارہ جگہ مل سکے گی۔

بانیان مجالس پر بھی بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دین فروش افراد کو کیوں بھاری بھرکم اجرت دیتے
ہیں۔ ایسے افراد کا بائی کاٹ کیا جائے اور مجلس کی پراپرٹی نہیں جس پر مولوی یا بانی پابندی لگا سکے۔

بانیان مجالس، نام نہاد علما، نوحہ خوانوں اور عزاداروں کے کمزور پڑتے عقیدے پر ایک سوگوار نے بڑے درد
کے ساتھ اپنے جزبات کا اظہار کیا ہے۔

اے عزاداروں غضب تم نے یہ کیسا کر دیا
فاطمہ زہرا کے دل کو پارہ پارہ کر دیا

کالے کپڑوں کا سجاکر آپ نے بازار عام
غم کے اس ماحول کو تہوار جیسا کر دیا

تعزیہ مشک و علم تابوت پر بھی سیلفیاں
جو ہیں’ سامانِ عزا ان کو دکھاوا کر دیا

ویڈیو,فوٹوگرافی,جھالریں اور جھنڈیاں
غم کے ان ایّام میـں کیا کیا تماشا کر دیا

ہاتھ سینے پر تمہارے اور لب پر واہ واہ
جس جگہ ہونا تھا گریاں .ہائے یہ کیا کر دیا

رات بھر سینہ زنی اور صبح کو ترکِ نماز
مقصد شبیر کو کس درجہ ہلکا کر دہا

شہہ کا ماتم رقص کے انداز میں کرنے لگے
اس عبادت کو بھی آخرکار رسوا کر دیا

سر جھکائے سوچتا ہوں کاش مولا بخش دیں
کیا ہمیں کرنا تھا”اطہر”اور یہ کیا کر دیا


شیئر کریں: