ایران میں کورونا کی واپسی 2 ہفتہ کا سخت لاک ڈاؤن فوج طلب

شیئر کریں:

ایران میں کورونا وائرس کی پھر سے واپسی ہو گئی۔ حکومت نے مزید پھیلاؤ روکنے کے لیے دو ہفتہ
کا سخت ترین لاک ڈاؤن کر دیا ہے۔ ایس او پیز پر پابندی کرانے کے لیے فوج کو بلالیا گیا ہے۔

یہ اعلان ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی اپنے عہدے کا حلف اٹھانے والے
ہیں اور چند روز بعد ہی محرم کا بھی آغاز ہورہا ہے۔

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کورونا کی پانچویں لہر ڈیلٹا ویرئینٹ کی وجہ سے انتہائی خطرناک ہے اور
ویکسنیشن والے ڈاکٹرز بھی اس کا شکار ہورہے ہیں۔ محکمہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر صورت حال
پر قابو نہ پایا گیا تو اسپتالوں میں تو جگہ پہلے ہی نہیں ہے لیکن میڈیکل اسٹاف بھی کم پڑ جائے گا۔

اس وقت ایران میں ڈاکٹر چوبیس چوبیس گھنٹے کام کررہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی حالت بھی بہت
خراب ہو چکی ہے۔ ملک بھر میں صحت کا نظام بچانے کے لیے لاک ڈاؤن ناگزیر ہو چکا ہے۔

ایران میں فروری 2020 سے اب تک 40 لاکھ کے قریب افراد کورونا کا شکار ہو چکے ہیں اور تقریبا ایک
لاکھ لوگ زندگی کی بازی ہار چکےہیں۔

کراچی میں انتہائی سخت لاک ڈاؤن، سڑکوں پر رینجرز پولیس بھی الرٹ

کورونا کی سنگینی کے پیش نظر روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ یٰ نے بھی اعلان کیا ہے کہ کورونا کی
ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔

امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں کی وجہ سے ایران کو پہلے ہی بے شمار مسائل کا سامنا ہے اور اب
کورونا سے بچاؤ کی ویکسین درآمد کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ 8 کروڑ سے زائد کی آبادی والے ملک میں صرف ایک کروڑ افراد کو ہی ویکسین کی
پہلی ڈوز لگائی جاسکی ہے۔اگر پابندیاں اسی طرح عائد رہیں تو ایران کی صحت سے متعلق صورت حال
بہت خراب ہوجائے گی جس کا اثر دیگر ممالک پر بھی پڑے گا۔


شیئر کریں: