آزادکشمیر کی وزارت عظمی، سردار تنویر پر بیرسٹر سلطان کو ترجیح

شیئر کریں:

آزاد کشمیر انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں لینے والی جماعت تحریک انصاف حکومت بنانے کی
پوزیشن میں آچکی ہے۔ تحریک انصاف کے پاس دو امیدوار وزارت عظمی کی دوڑ میں شامل ہیں۔

بیرسٹر سلطان محمود منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔ پہلے بھی آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کی حیثیت سے
خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کے آزاد کشمیر سمیت یورپ اور دیگر ممالک میں گہرے تعلقات ہیں۔

دوسری جانب ان کے مدمقابل تحریک انصاف میں سردار تنویر الیاس ہیں۔ جنہوں نے انتخابات میں پانی
پیسے کی طرح بہایا۔ ان کا سیاست سے کوئی خاص تعلق نہیں رہا لیکن انتہائی تجربہ کار بزنس مین کی
حیثیت سے شہرت رکھتے ہیں۔

اسلام آباد میں سنٹورس مال اور اپارٹمںٹس بھی انہی کا اور اسی سنٹورس سے ان کا نام ابھر کر سامنے آیا۔
سردار تنویر الیاس پر انتخابات کے دوران وزارت عظمی کے مضبوط امیدوار بیرسٹر سلطان محمود کو ہرانے
کی مہم چلانے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ نازیبا تصاویر اور ویڈیو نے بھی ان کی
ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

اب سوشل میڈیا پر تنویر الیاس کے خلاف اور ان کی حراسمنٹ کے الزام میں گرفتار کی بھرپور مہم چلائی
جارہی ہے۔ انتخاب جیتنے کے بعد سردار تنویر مخالف بھی پارٹی کے اندر کی گروپنگ کو ظاہر کرتی ہے کہ
ایسے موقع پر جب وہ الیکشن جیت چکے ہیں اور حکومت سازی کا اگلا اہم مرحلہ شروع ہونے والا ہے۔
اس مہم کا فائدہ بیرسٹر سلطان محمود کو پہنچنے کا قوی امکان ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اب فیصلہ کرنا ہے کہ آزاد کشمیر کا وزیر اعظم کسے بنایا جائے۔ ایسے میں اب لگ
یہی رہا ہے کہ وہ ریاست میں الزاموں کے بوجھ تلے دبے بزنس مین تنویر الیاس پر منجھے ہوئے سیاستدان
بیرسٹر سلطان محمود کو ترجیح دیں گے۔


شیئر کریں: