آصف علی زرداری: پارٹی کا ہیرو اور حریفوں کا ولن

شیئر کریں:

تحریر عامر حسینی

آصف علی زرداری آج چھیاسٹھ سال کے ہوگئے۔ آج ان کی سالگرہ ہے۔ ان کا دفاع کرنا آج بھی شامت اعمال کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ کل بھی ایسا ہی تھا۔ لیکن کل اور آج میں ایک فرق ضرور ہے۔ آج پاکستان پیپلزپارٹی کے سدا کے مخالفین میں سے کچھ آوازیں ان کے حق میں ضرور اٹھتی ہیں۔ کیا عجب اتفاق ہے کہ آج کے دن پاکستان میں دائیں بازو کے سب سے بڑے طاقتور اخباری گروپ کے چیف ایڈیٹر مجید نظامی کی برسی ہے اور وہ شاید پہلے آدمی تھے اینٹی بھٹو کیمپ کے جنھوں نے جناب آصف علی زرداری کی سیاسی استقامت کو دیکھتے ہوئے انھیں “مرد حر” کا خطاب دیا تھا۔

نوائے وقت گروپ کے سابق چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی نے انھیں ایک ایسے وقت میں “مرد_حر” قرار دیا جب پاکستان میں جنرل مشرف کی آمریت تھی اور ان کی جانب سے معزول کردہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سعودی عرب اور لبنان کی حکومتوں کی ضمانت پر آمر کی حکومت سے دس سال سیاست نہ کرنے اور پاکستان نہ آنے کا ایک خفیہ معاہدہ کرکے سعودی عرب کے شہر جدہ میں سرور پیلس میں مقیم ہوگئے تھے۔ اور ایسے موقعہ پر آصف علی زرداری جیل کاٹ رہے تھے اور وہ مشرف کو کسی بھی قسم کا معافی نامہ لکھ کر دینے کو تیار نہ تھے۔ ان کی اس ادا پہ مجید نظامی جیسا اینٹی بھٹو چیف ایڈیٹر ان کو “مرد_حر” کا خطاب دینے پر مجبور ہوا تھا۔

آصف علی زرداری 66 سال کے ہوئے تو میں یہ لکھتے لکھتے رہ گیا کہ وہ زندگی 66 بہاریں دیکھ چکے کیونکہ مجھے فوری خیال آگیا کہ زندگی کے 66 سالوں میں جب وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے شریک حیات بنے تو اس کے فوری بعد ہی ان کی کردار کشی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔

پاکستان کا انگریزی پریس ہو یا اردو پریس اس نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی جناب آصف علی زرداری سے شادی کو ایک اسکینڈل میں بدلنے کی بھرپور کوشش کی ۔ انگریزی پریس جس میں جنگ گروپ کا ڈیلی دا نیوز انٹرنیشنل سب سے آگے تھا نے آصف علی زرداری کو ایک بگڑے امیرزادے کے طور پہ پیش کیا اور اس گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان نے نوعمری کے زمانے میں پیش آئے ایک واقعے کےسبب سالوں سے پل رہی سینے میں کدورت کو اپنے اخبارات کے صفحات میں ٹیبل نیوز اسٹوریز کی شکل میں انڈیلنا شروع کیا۔ اور اس کا اردو روزنامہ جنگ تقریبا روزانہ کی بنیاد پہ بی بی صاحبہ کے آصف علی زرداری کے رشتے کو زیربحث لاتے ہوئے کوئی درفطنی چھوڑ دیا کرتا تھا۔ پاکستان کے لبرل انگریزی اور قدامت پرست اردو پرنٹ میڈیا نے دونوں کی شادی کو آصف علی زرداری کی بلیک میلنگ کا نتیجہ بتلایا۔ اور اس جھوٹ کو اتنی بار بولا کہ پاکستان کے شہری مراکز میں بیٹھا تعلیم یافتہ درمیانہ طبقہ کی کئی پرتیں اسے “ناقابل تردید” سچ ماننے لگیں۔

جب جنرل ضیاء الحق ایک طیارے حادثے میں اپنے حواریوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ ہلاک ہوگئے اور بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں ضیاءالحقی باقیات (جو اس وقت ایوان صدر، ہیڈکوارٹر آئی ایس آئی، اور آرمی ہاؤس میں براجمان تھی جس نے پاکستان کے اردو اور انگریزی پرنٹ میڈیا پہ مکمل کنٹرول جما رکھا تھا) کو جماعتی بنیادوں پہ نومبر 1988ء میں انتخابات کرانا پڑے تو اس نے پاکستان پیپلزپارٹی کو انتخابی میدان میں شکست دینے کے لیے اسلامی جمہوری اتحاد بنوایا اور اس اتحاد کے الیکشن سیل کا انچارج انہوں نے افغان پروجیکٹ میں اپنے پے رول پہ بھرتی بہترین گوئبل حسین حقانی کو بنایا تو اس نے جہاں ذوالفقار علی بھٹو شہید کی کردار کشی کے لیے ایوب خان اور ضیآء الحق کی آمریتوں کے آرکائیوز سے مدد لی تو وہیں اس نے بھٹو خاندان کی سیاست میں سرکردہ خواتین بیگم نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو کی کردار کشی کے ساتھ ساتھ خصوصی طور پہ بی بی شہید کے شوہر آصف علی زرداری کی کردار کشی پہ فوکس کیا۔ پنجاب میں جنگی بنیادوں پہ ایسے ناقابل بیان قصّے اور کہانیاں پھیلائی گئیں کہ وہ بعد میں آنے والے شہری نوجوانوں میں ناقابل تردید سچ بنکر رہ گئے۔ یہاں تک کہ آصف علی زرداری اور بی بی شہید کی پہلی اولاد کی پیدائش کو بھی ایک اسکینڈل میں بدل دیا گیا۔

اس کے بعد شہید بی بی کے دو ادوار حکومت یعنی 1988-90 اور 1993-96ء کے دوران پہلے بی بی شہید اور آصف علی زرداری “بدعنوان حکمران جوڑا” کے طور پہ پروجیکٹ ہوئے اور اس کے بعد بتدریج سارا فوکس آصف علی زرداری پہ ہوگیا- 1997ء سے 1999ء تک کا دورانیہ آصف علی زرداری کی زندگی کا سب سے سخت ترین دور تھا۔ اس دور میں نواز شریف کے قائم کردہ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین سیف الرحمان اور سندھ میں لگائے جانے والے آئی جی رانا مقبول کراچی کی سینٹرل جیل میں قید آصف علی زرداری کے خلاف جسمانی تشدد سے لیکر ذہنی اذیت کا ہر وہ حربہ استعمال کرگئے تھے جو وہ کرسکتے تھے۔
نواز شریف کے ایما پہ سیف الرحمان آصف علی زرداری کے زریعے سے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا سیاسی کیرئیر، ان کی عزت و ناموس اور ان کے کردار کو ایسے بٹہ لگانے کے خواہش مند تھے کہ جس کے بعد بھٹو خاندان کی سیاست کا باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجاتا۔ نواز شریفکی فرسٹریشن ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی چلی جارہی تھی کیونکہ آصف علی زرداری کے خلاف جتنے حربے استعمال ہوئے سب رائیگاں چلے گئے تھے اور آصف علی زرداری کے ہاں زرا سی لغزش دیکھنے کو نہیں ملی تھی۔ پھر نواز شریف نے سیف الرحمان، رانا مقبول اور چند ایک اپنے وفادار فوجی افسران کو سینرل جیل کراچی بھیجا اور وہاں انہوں نے آصف علی زرداری کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو بدکردار قرار دیکر انھیں طلاق دینے پہ آمادہ کرنے کی کوشش کی – ناکامی پر ان کے خلاف غیر انسانی تشدد کیا گیا، ان کی زبان کاٹ دی اور پورے جسم پہ اتنا تشدد کیا کہ آصف علی زرداری کی قمیص لہو سے بھر گئی تھی۔

جنرل مشرف نے جب نواز شریف کا تختہ الٹا تو وہ پس پردہ شہید بے نظیر بھٹو سے تعاون اور حمایت کا طلبگار تھا اور اس نے کوشش کی کہ پی پی پی 2002ء کے انتخابات میں جیتنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ ق کے ساتھ مشترکہ حکومت بنائے اور جب شہید بی بی نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو جنرل مشرف نے نہ صرف پاکستان پیپلزپارٹی کو توڑنے کی کوشش کی بلکہ اس نے آصف علی زرداری کو بارگینگ چپ کے طور پہ استعمال کرنے کی کوشش کی۔ ایک مرتبہ پھر آصف علی زرداری لوہے کی چٹان ثابت ہوئے۔ ان کی رہائی لٹکادی دی گئی اور قومی احتساب کمیشن کی چگہ قومی احتساب بیورو نے لے لی اور جنرل مشرف کے بنائے گئے قومی احتساب بیورو کے چئیرمین صاحبان نے اپنا پورا زور لگالیا آصف علی زرداری کے نام پہ شہید بی بی کو بلیک میل کرنے کا۔

جنرل مشرف کے زمانے میں بھی پاکستان کے پرنٹ میڈیا اور نئے ابھرتے ہوئے الیکٹرانک میڈیا کو آصف علی زرداری سے کوئی ہمدردی نہ تھی۔ اس زمانے میں بھی آصف علی زرداری کے خلاف ایک عرصے سے چل رہے جھوٹے اور نفرت انگیز پرودپیگنڈے میں کوئی کمی نہیں آئی اور کسی نے یہ سوال نہ اٹھایا کہ 12 سال سے آصف علی زرداری پہ قائم مقدمات میں سے کسی ایک مقدمے کا فیصلہ کیوں نہیں ہوپایا اور مسلسل عدم ثبوت کے سبب ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ ان کی ضمانت پہ رہائی کیوں نہیں کردیتیں۔ کہیں جاکر 2006ء کے آخر میں وہ ضمانت پہ رہا ہوئے۔ اس دوران ان کی جوانی کےسارے کے سارے سنہری لمحات انتقام کی سیاست کی نظر ہوچکے تھے۔

آصف علی زرداری جب جیل سے باہر آئے تو میں نے ان کو بلاول ہاؤس ٹو میں دیکھا ان کے ایک طرف شاہ محمد قریشی بیٹھے تھے تو دوسری طرف بیگم شہناز بیٹھی تھیں۔ یہ ملتان ڈویژن کی تنظیموں کا اجلاس تھا۔ اجلاس کے بعد جب آصف علی زرداری اٹھے تو ان کے ہاتھ میں عصا تھا اور ان کی کمر تھوڑی جھکی ہوئی تھی اور چال میں بھی تیزی نہیں تھی اور زبان کے کٹ جانے کی وجہ سے لہجہ بھی متاثر تھا۔ پھر وہ ملک سے باہر چلے گئے اور امریکہ میں بحالی جمہوریت کے لیے امریکی حکام سے چل رہے مذاکرات میں وہ بیک ڈور چینل سے شریک ہوگئے۔

یہ آصف علی زرداری تھے جو 2007ء میں شہید بی بی بے نظیر بھٹو کی پاکستان آمد کے پارٹی میں سب سے بڑے مخالف تھے۔ وہ آخری وقت تک کوشش کرتے رہے کہ شہید بی بی ایک منافق آمر صدر کے ہوتے ہوئے اور خطے کی آتش فشاں کے دھانے پہ کھڑی صورت حال کے پیش نظر دبئی بیٹھ الیکشن کو مانٹیر کریں۔ لیکن پارٹی کی سنٹرل کمیٹی سمیت پارٹی کا کوئی ایک رہنما ایسا نہ تھا جو آصف علی زرداری کی بات کی تائید کررہا ہو۔ اور یوں وہ انہونی ہونی ہوکر رہی جس کا خدشہ تو خود شہید بی بی کو بھی ہوگیا تھا۔

بی بی صاحبہ شہید ہوئیں تو آصف علی زرداری کی مشکلات اور مصائب ختم نہیں ہوئے۔ ان کی کردار کشی کے پروجیکٹ میں ایک اور نکتے کا اضافہ ہوا اور وہ نکتہ تھا کہ آصف علی زرداری نے اپنی بیوی بے نظیر بھٹو کو شہید کرایا ہے۔

سن 2008ء سے لیکر 2013ء تک پاکستان کا نام نہاد مین سٹریم میڈیا اور نیا نیا ابھرنے والا سوشل میڈیا دونوں میڈیم پہ اینٹی بھٹو فورسز نے ایک سازشی تھیوری کو پھیلایا اور بے نظیر بھٹو شہید کے قتل کی ذمہ داری آصف علی زرداری پہ ڈالنے کے لیے ان کے قریب ہر شخص کی کردار کشی کی چاہے وہ رحمان ملک تھے یا بی بی شہید کے چیف پروٹوکول افسر تھے یا وہ خالد شہنشاہ تھا۔ آج پاکستان کی اربن چیٹرنگ کلاس میں آصف علی زرداری اپنی شریک حیات کا قاتل ہے۔
پی پی پی کا 2008-13 تک کا دور حکومت بدترین میڈیا ٹرائل کا دور تھا اور اس کا سب سے بڑا نشانہ آصف علی زرداری تھے۔ اس کے باوجود کے اس دور میں اٹھارویں ترمیم سے لیکر سی پیک پروجیکٹ جیسے کارنامے، پارلمینٹ کو اختیارات کی واپسی اور مشرف کی رخصتی جیسے واقعا ان کے کریڈٹ پہ تھے۔

آصف علی زرداری نے “قومی سیاسی مفاہمت” کی پالیسی متعارف کرائی اور ایسا کرتے ہوئے انھوں نے 2008ء سے سن دوہزار اٹھارہ تک خاص طور پہ پنجاب میں بے پناہ سیاسی نقصان برداشت کیا۔ اس دوران پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف نے مسلسل “سیاسی نابالغ” ہونے اور وسیع تر جمہوری سیاسی مفاد” کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس نے ایک بار پھر فوج اور عدلیہ کے سربراہوں سے مل کر آراوز الیکشن کراکے پیپلزپارٹی کو سندھ تک محدود کرنے کی پالیسی اپنائی ۔کیاعجیب بات ہے کہ پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے متحارب دھڑے جو عمران خان اور نواز شریف کی حمایت میں بٹے ہوئے تھے لیکن پی پی پی کو وہ اپنی طرف سے سندھ تک محدود کرنے کے پروپیگنڈے کو شدومد سے پھیلارہے تھے اور وہ وقت بھی آیا جب نواز لیگ اور پی ٹی آئی دونوں کا میڈیا پی پی پی کو سندھ سے بھی ختم ہوجانے کا پروپیگنڈا کرنے میں مصروف تھا۔

مسلم لیگ نواز نے اپنی سیاسی نابالغی کے سبب مشرف کے خلاف جدوجہد کے دوران جمہوریت کے لیے جو حاصلات تھے ان کو موقعہ پرستی اور چانکیائی سیاست کی نذر کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر پی پی پی نے اے پی ڈی ایم کی شکل میں جو کامیابی حاصل کی تھی اسے نواز لیگ کے پی پی پی کے بارے میں اندر بیٹھے خوف کی نذر کردیا اور اس موقعہ پر پھر آصف علی زرداری کے خلاف اپنے پیڈ تجزیہ کاروں کے زریعے خوب پروپیگنڈا کیا اور اے پی ڈی ایم کو اپنے قابو میں کرنے کے چکر میں ایک بار پھر اپنے پیر پہ کلہاڑی مار لی۔ ان سے یوسف رضا گیلانی کی سینٹ میں حفیظ شیخ کے مقابلے میں جیت ہضم نہ ہوئی اور انہوں نے سینٹ میں پی پی پی کو چیئرمین کی سیٹ سے محروم کرکے الزام آصف علی زرداری پہ دھرا۔ یہاں تک کہ بلاول بھٹو زرداری کو “لاڈلہ” بننے کا آرزومند قرار دینے کی کوشش کی۔

آج 66 سال کی عمر میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پی پی پی بطور پارٹی پورے پاکستان میں اپنی سیاسی طاقت کو منوارہی ہے۔ گلگت بلتستان،ضمنی انتخابات اور آزاد کشمیر میں انتخابات میں پی پی پی کی کارکردگی نے جھوٹے اور پروپیگنڈا پول و گیلپ سروے کا عملی رد کردیا ہے۔

آصف علی زرداری کے حریف اور ان سے دشمنی کرنے والوں نے انھیں ہر صورت ولن بناکر پیش کرنا اپنا وتیرا بنارکھا ہے۔ اینٹی بھٹو فورسز نے انھیں پاکستان کے سیاسی نظام کو کرپٹ کرنے، ریاستی اداروں کو تباہ کرنے، پھر مرتضی بھٹو کو قتل کرنے ، پھر نصرت بھٹو کو موت کے دہانے پہنچانے ، اس کے بعد بے نظیر بھٹو کو قتل کرانے اور اس کے بعد پی پی پی سمندر سے ندی بنانے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان پہ الزام دھرا کہ وہ بلاول بھٹو کو چلنے نہیں دے رہے۔ آج جب بلاول بھٹو سیاسی میدان میں پوری طرح سے متحرک ہیں تو وہ بلاول بھٹو کو آصف علی زرداری کے ممفروضہ جرائم کا وکیل صفائی قرار دینے کا پروپیگنڈا آئے روز کرتے ہیں۔

آصف علی زرداری کے باب میں پی پی پی کے جیالوں میں تھوڑی سی بے گانگی کا جو رویہ ہمیں ماضی میں ملتا تھا وہ اب بالکل ختم ہوچکا ہے۔ اب پی پی پی کی صفوں میں جتنے بھی سرگرم رہنما اور کارکن ہیں ان کے ںزدیک آصف علی زرداری ضمیر کے قیدی ہیں اور وہ جو بھی بھگت رہے ہیں صرف اور صرف شہید بی بی کے شوہر ہونے کی وجہ سے ہی نہیں بھگت نہیں رہے بلکہ انھوں نے کرشمہ سے محروم ہونے باوجود پی پی پی کی پارلیمانی سیاست میں وہ سنگ ہائے میل طے کیے ہیں جو پارٹی کے ہاں اکثر آدرش کے طور پہ موجود تھے لیکن تعبیر دور نظر آتی تھی۔ پی پی پی آج بلاشبہ پاکستان پیپلزپارٹی وفاق کی واحد جمہوری سیاسی پارٹی ہے اور جس کے پاس باشعور، منجھے ہوئے تجربہ کار سیاسی کارکنوں کے ساتھ نوجوانوں کی بھی بہت بڑی تعداد شامل ہے جو پاکستان کی اربن چیٹرنگ کلاس یوتھ کی حماقتوں سے کوسوں دور کھڑی ہے اور یہ نوجوان آصف علی زرداری کو پاکستان کی جمہوری سیاست کا “ہیرو” سیاسی بصیرت کی بنیاد پہ مانتے ہیں۔


شیئر کریں: