افغانستان میں ’طالبان‘ کہاں سے اور کیسے آئے !!!

شیئر کریں:

تحقیق و تحریر: احمد وڑائچ

کنگ ظاہر شاہ 8نومبر 1933 سے لے کر 17جولائی 1973 تک افغانستان کے بادشاہ رہے ان کے دورِ حکمرانی
میں افغانستان کے اندر اور افغان سرحدوں پر مکمل امن و امان رہا۔ 1973میں وہ طبی علاج کیلئے اٹلی روانہ
ہوئے۔ ان کی غیر موجودگی میں ظاہر شاہ کے کزن محمد داؤد خان نے انہیں معزول کرنے کی سازش کی۔

طالبان کا نصف افغانستان پر کنٹرول، بہبود آبادی پروگرام بند کرنے پر زور

17جولائی 1973کو افغان فوج اور کمیونسٹ رجحان رکھنے والی ’پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی‘ کی مدد سے
کامیاب بغاوت کے بعد داؤد خان نے اقتدار سنبھالا۔

داؤد خان نے نیشنل عوامی پارٹی کے خان عبد الولی خان، اجمل خٹک، جمعہ خان صوفی سمیت بلوچ عسکریت
پسند اور دیگر کی میزبانی کی۔ داؤد حکومت نے پاکستان میں عسکریت پسندانہ کارروئیوں کیلئے پختون زلمے
اور نوجوان بلوچوں کو تربیت دینا بھی شروع کی۔

ستائیس سے 28اپریل 1978 کے درمیان افغان فوج کے اندر’پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی‘ کے رہنما حفیظ اللہ امین
نے کمیونسٹ سلیپر سیلز کو متحرک کیا، حفیظ اللہ امین کے اقدامات کے نتیجے میں افغانستان میں ’انقلابِ ثور‘
بپا ہوا، داؤد خان کے ساتھ ساتھ اس کے خاندان کے زیادہ تر افراد قتل کر دئیے گئے۔

تیس اپریل 1978 کو کمیونسٹ رہنما نورمحمد ترکئی نے افغان صدر اور کمیونسٹ پارٹی کا کنٹرول سنبھال لیا۔
لیکن کچھ عرصہ بعد اقتدار میں تقسیم پر نور محمد کے حفیظ اللہ امین کے ساتھ تنازعات پیدا ہوئے، حفیظ اللہ امین
نے نور ترکئی کو بھی اقتدار سے بے دخل کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔

چودہ ستمبر 1979 کو جب ترکئی دورہِ ماسکو سے واپس لوٹا تو اسے حفیظ اللہ کے حکم پر قید کر دیا گیا اور
قید خانے میں ہی ترکئی کی دم گھٹنے سے موت ہو گئی، یوں باقاعدہ طور پر حفیظ اللہ امین نے ایوانِ صدر
سنبھال لیا۔

چودہ ستمبر سے 27 دسمبر 1979 کے درمیان حفیظ اللہ نے اقتدار میں رہنے کی کوشش کی، لیکن وہ جلد ہی اپنے
’کے جی بی‘ ہینڈلرز کا اعتماد کھو بیٹھے، روسی خفیہ ایجنسی کا خیال تھا کہ حفیظ اللہ سی آئی اے سے منسلک
ہے اور ڈبل ایجنٹ کا رول ادا کر رہا ہے، اسی دوران امین حکومت کیخلاف مختلف اضلاع میں مسلح
مزاحمت شروع ہو چکی تھی۔

افغانستان کے 28میں سے 25صوبوں کے حالات غیر مستحکم تھے، 29 مارچ 1979 کو ہرات کی مشہور زمانہ
بغاوت شروع ہوئی۔ اس کے بعد افغان کمیونسٹ حکومت اور صدر ریگن کے ’مجاہدین‘ کے مابین کھلی جنگ شروع ہو گئی۔
سب حالات کو دیکھتے ہوئے روس کا صبر جواب دے گیا، کے جی بی نے حفیظ اللہ امین پر دو قاتلانہ حملے کیے لیکن وہ محفوظ رہے، اسی دوران سوویت قیادت کے ببرک کمال سے تعلقات قائم ہو چکے تھے، بالاخر ستائیس دسمبر 1979 کو ’کے جی بی‘ نے آپریشن ’اسٹارم 333‘ شروع کیا، جس میں امین اللہ اور ان کے خاندان کے بیشتر افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
یوں ببرک کمال سوویت یونین کی مکمل پشت پناہی کے ساتھ اقتدار میں آ گئے، اگلے چھ برس ببرک کمال نے افغانستان میں یو ایس ایس آر کی فوج کی مکمل پشت پناہی کی، ایک اندازے کے مطابق اس جنگ میں دو لاکھ افغانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔
اس مہم کے جواب میں سی آئی اے اور آئی ایس آئی نے مشترکہ طور پر مشہور زمانہ ’آپریشن سائیکلون‘ شروع کیا، اس دوران سوویت یونین نے افغانستان میں حکمت عملی تبدیل کی اور اپنے پسندیدہ خفیہ ایجنسی ’خاد‘ کے سربراہ ’میجر جنرل نجیب اللہ‘ کو اقتدار میں لانے کا منصوبہ بنایا، کامریڈ نجیب نے سوویت یونین کی مدد سے ببرک کمال کو معزول کر کے 30ستمبر 1987کو اقتدار سنبھال لیا۔
خاد کے سربراہ کی حیثیت سے کامریڈ نجیب نے افغان جیلوں میں قید مخالفین پر جو مظالم ڈھائے وہ بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ اور الگ پوسٹ کے متقاضی ہیں۔

سوویت یونین کو 1987میں افغان جنگ میں شکست کے آثار نظر آنا شروع ہو چکے تھے، افغان صدر جو اس وقت تک ’کامریڈ نجیب‘ کے نام سے جانے جاتے تھے، مسلمانوں کو خوش کرنے کیلئے دوبارہ ’نجیب اللہ‘ بن گئے، انہوں نے کمیونسٹ دور کی علامتوں کو بھی ختم کرنا شروع کیا، لیکن ان اقدامات کے باوجود وہ عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
چودہ اپریل 1988 میں افغان اور پاکستانی حکومتوں نے جنیوا معاہدوں پر دستخط کیے، جس کے تحت سوویت فوج کو 15فروری 1989تک افغانستان سے انخلا مکمل کرنا تھا، اس معاہدے کے بعد افغانستان میں وحشیانہ خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا، لیکن کامریڈ نجیب کی کمیونسٹ حکومت کا مستقبل غیر یقینی بن گیا۔
سوویت فوج کے افغانستان سے جانے اور 1992میں سوویت یونین کے ٹکڑے ہونا نجیب اللہ کیلئے تباہ کن ثابت ہوا، نجیب اللہ کی تین لاکھ فوج کی مالی مدد مکمل طور پر رک گئی، افغان فوج نے شہر شہر ہتھیار پھینکنا شروع کر دئیے، بالاخر 14اپریل 1992 کو نجیب اللہ نے استعفیٰ دے دیا۔
1922سے 1996تک افغانستان میں اقتدار کی میوزیکل چئیر رہی، کبھی صبغت اللہ مجددی، تو کبھی برہان الدین ربانی، دن کا حکمران کوئی اور شام کا حکمران کوئی اور
نجیب اللہ نے بھارت سے سیاسی پناہ کی درخواست کی لیکن نئی دہلی نے انکار کر دیا، نجیب نے 26 ستمبر 1996 تک اقوام متحدہ کے احاطے میں پناہ لی، 1996میں کابل پر قابض احمد شاہ مسعود کو شکست ہوئی اور اقوام متحدہ کے احاطے کا کنٹرول نئے گروپ کے پاس چلا گیا، انہوں نے نجیب اور اس کے بھائی کو گرفتار کر کے سرعام لٹکا دیا، کامریڈ نجیب کی اہلیہ پہلے ہی بھارت جا چکی تھیں، ابھی بھی وہ بھارت میں ہی رہائش پذیر ہیں، احمد شاہ مسعود کو شکست دے کر کابل کا کنٹرول سنبھالنے والے گروپ کو ہی ’طالبان‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔


شیئر کریں: