طالبان کا نصف افغانستان پر کنٹرول، بہبود آبادی پروگرام بند کرنے پر زور

شیئر کریں:

افغانستان کے طالبان نے ملک کے نصف حصے پر تقریبا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ملک کے 34 صوبوں میں
سے 17 کے دارلحکومت کے اطراف طالبان موجود ہیں حکمت عملی کے تحت باقاعدہ قبضہ نہیں کیا لیکن
جب چاہیں وہ داخل ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح 419 اضلاع میں سے نصف ان کے زیر کنٹرول آچکےہیں اور تیزی سے پیش قدمی کا سلسلہ جاری
ہے۔ امریکا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف چیئرمین مارک ملی کہتے ہیں طالبان نے کابل سمیت ملک بھر
میں قائم آبادی کنٹرول کرنے کے پروگرام بند کرانے کی خواہش ظاہر کر دی ہے۔

طالبان کی طرف سے باضابطہ طور پر پہلا مطالبہ یا خواہش افغان حکومت کے لیے بھی ایک ٹیسٹ کیس ہوگا۔
امریکا افغانستان سے اپنی 95 فیصد فوج کا انخلا مکمل کر چکا ہے اور باقی بھی اگست کے آخر تک ہر صورت
مکمل کر لیا جائے گا۔ سفارتی عملے کی سیکیورٹی کے لیے 650 امریکی اہل کار افغانستان میں قیام کریں گے۔

ایک طرف غیرملکی فوج کا تیزی سے انخلا جاری ہے اور دوسری جانب طالبان نے بھی اپنی فتوحات کا
سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ کابل کے صدارتی محل میں عید کی نماز کے اجتماع کے وقت بھی کم از کم تین
راکٹ فائر کیے گئے لیکن خوش قسمتی سے صدر اشرف غنی سمیت تمام اعلی شخصیات محفوظ رہیں۔


شیئر کریں: