اسپتال انڈسٹری انسانیت کی خدمت کے بجائے تکلیف کا سبب گئی

شیئر کریں:

ملک بھر میں اسپتال بہت بڑی صنعت کا درجہ اختیار کر چکے ہیں اسپتال انسانیت کی خدمت کے بجائے ان
کے لیے تکلیف کا سبب بن رہے ہیں ایسے میں بہتر یہی ہے کہ انہیں بند کر دینا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے اسپتالوں کی لوٹ مار پر سوال اٹھایا ہے کہ کیا اسپتال ریئل اسٹیٹ انڈسٹری ہیں یا پھر
انسانیت کی خدمت کے لیے بنائے گئے ہیں؟

امیر ہو یا غریب سب ہی کو بیماری یا وبا کی صورت ناچاہتے ہوئے بھی اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اسپتالوں
میں مریضوں کی ٹیسٹ یا مختلف بہانوں سے کھال اتاری جاتی ہے اس سے سب ہی متاثر ہوتے ہیں۔

عدالت عالیہ کے ججز نے انتہائی اہم مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں کا جال انسانیت کو تکالیف
دے کر ایک بہت بڑی منافع بخش صنعت کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔ ہم کسی بھی صورت قیمتی انسانی
جانوں کی قیمت پر انہیں پھلنے پھولنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

ایسے اسپتالوں کو بند کردینا چاہیے اور ریاست کو صحت کی سہولتیں بہتر بنانی ہوں گی۔ لوگوں نے چار چار
کمروں پر مشتمل اسپتال بنا رکھے ہیں اور ان میں انسانی زندگی محفوظ رکھنے کے انتظامات بھی نہیں کیے
ہوئے ہیں۔
بھارت کی سپریم کورٹ نے کووڈ 19 کے مریضوں کے علاج اور میتیں لواحقین کے سپرد کرنے کے معاملے میں
اسپتالوں کے انسانیت سوز سلوک کا از خودنوٹس لیتے ہوئے سماعت کی۔

لوگوں کو لاکھوں روپوں کے بل پکڑوایے جاتے ہیں اور لاشیں حوالے کرنے کے دوران بھی لوگوں کو پریشان
کیا جاتا ہے۔

بھارت کی طرح پاکستان میں بھی اسپتالوں کی یہی صورت حال ہے۔ فائیو اسٹار ہوٹلز کی طرح اسپتالوں کے
کمروں کا کرایہ بھی 25 ہزار روپے سے بھی زیادہ چارج کیا جاتا ہے۔
اسپتال چھوٹے ہوں یا بڑے سب ہی جگہ مریضوں کی کھالیں اتاری جارہی ہیں۔ علاج پیٹ کا ہو یا سر کے
درد کا پہلے لیبارٹری ٹیسٹ کی لمبی فہرست پکڑا دی جاتی ہے۔

اسی طرح کووڈ کے مریض کو اسپتال میں داخل کیا جاتا ہے کہ حالت بگڑنے پر مصنوعی تنفس فراہم کرنے والی
مشین وینٹی لیٹر پر ڈال دیا جاتا ہے۔ کئی روز تک وینٹ پر ڈالے رکھنے کے بعد مریض کے اہل خانہ پر زمہ داری
لاد کے جب وینٹ ہٹایا جاتا ہے۔

اسپتال انتظامیہ 15 سے 20 لاکھ کا بل لواحقین کے ہاتھ پر رکھ دیتی ہے۔ اس طرح نہ مریض کی زندگی بچتی ہے
اور ساتھ ہی جمع پونجی سے بھی ہاتھ دھونے پڑ جاتے ہیں۔

بھارت کی عدالت نے تو اسپتال مافیا پر بڑے سوالات اٹھا کر ریاست کو جھنجوڑ دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ
پاکستان میں کب اسپتالوں کی صورت میں رئیل اسٹیٹ پر کب ہاتھ ڈالا جاتا ہے؟


شیئر کریں: