گلگت بلتستان میں‌ مسلکی تعصب کا منجن اب نہیں بکے گا

شیئر کریں:

تحریر ایم ملک

گلگت بلتستان میں جون میں ایک بار پھر مسلکی بنیادوں پر دہشت گردی کی کوششیں سازش کے تحت تیز
کی گئیں۔ خوبصورت سیاحتی مقام نلتر میں مسافر گاڑی پر فائرنگ کی گئی جس میں خاتون سمیت چھ افراد
جاں بحق ہوئے ۔

واقعے کے بعد پورے گلگت بلتستان میں ایک بار پھر خوف سے سائے منڈلانے لگے۔ اچانک سوشل میڈیا میں
مسلکی بحث چھڑی اور مختلف نام نہاد تنظیموں کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات سامنے آنے لگے۔

یکایک گگت بلتستان کا ماحول بدل گیا۔ ایسے میں نوجوان میدان میں اترے ۔ پہلے پہل سوشل میڈیا
میں ان نام نہاد تنظیموں کا بھر پور مقابلہ کیا اور پھر سڑکوں پر نکل آئے۔ اسی دوران گلگت شہر میں ایک
مسافر گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ نوجوان اس معاملے میں بھی پیچھے نہیں ہوئے۔ واردات کے مقام کے قریب
جلسہ کیا اور ان نام نہاد فرقہ پرستوں کو ناکام کردیا۔

داسو پاور پروجیکٹ‌ پر چینی کمپنی دوبارہ کام کا آغاز کب کرے گی؟

صورت حال کچھ بہتر ہوئی تو دونوں مسالک کے علما کی جانب سے سخت بیانات سامنے آئے۔ مناظرے اور
مباہلے کے چیلنجز ہوئے۔ صوبائی حکومت حرکت میں تو آئی لیکن اس سے زیادہ موثر قرادار ایک بار پھر
نوجوانوں نے ادا کیا مختلف ریلیوں کا انعقاد کیا گیا اور واضح پیغام دیا اب مسلکوں کے نام پر فساد کو بند
کیا جائے۔

نوجوان نے سوشل میڈیا پر بہترین کردار ادا کیا چونکہ اس علاقے کے نوجوان علمائے کرام سے عقیدت کی
حد تک محبت رکھتے ہیں۔ اس پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے نوجوانوں نے سوشل میڈیا میں کسی بھی عالم
کی تضحیک نہیں کی بلکہ علمی بنیادوں پر دلائل کے ساتھ اس تناو کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

نوجوان آخر کیوں اتنے متحرک ہوئے اور ایسے تناو کو کم کرنے میں کیوں اتنا موثر کردار ادا کیا؟

نوجوانوں کے ان حالات میں بجائے مسلکی تنظیموں کے آلہ کار بننے یا ان کے اس عمل میں ان کے ہم آواز بننے
کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس علاقے میں دو ہزار پانچ سے اب تک کئی نسلیں
فرقہ پرستی کی آگ میں جھلس چکی تھیں۔

بے شمار لوگ قتل ہوئے اور جو بچ گئے ان پر ایسے کیسز بنے جس سے ان کا مستقبل تاریک ہوچکا تھا۔
ان نوجوانوں کے والدین ان کیسز کی پیروی کرتے کرتے جائیدادیں فروخت کرچکے اور مقروض ہوچکے تھے۔

جائیداد برباد ہونے کا نقصان ایک جانب دوسری جانب نوجوان کا مستقبل بھی تاریک ہوچکا تھا۔ وہ
نوجوان جو اسکول اور کالجز میں پوزیشن ہولڈرز تھے ان کیسز کی وجہ سے نہ تو تعلیم مکمل کرسکے
نہ ہی کسی بھی قسم کے روزگار کے قابل ہوسکے۔

دوسرا پہلو یہ تھا کہ ماضی میں ان مسلکی فسادات کی وجہ سے کرپٹ عناصر نے بھر پور فائدہ اٹھایا۔سرکاری
نوکریوں میں مسلکی بنیادوں پر بلیک میلنگ کی گئی اور من پسند افراد کو سرکاری نوکریاں دلوائی گئیں۔
ان کی کرپشن پر فسادات کا پردہ کام آگیا کسی جانب سے کوئی اعتراض سامنے آیا اور نہ ہی کسی نے اسے
چیلنج کیا۔ یہ معاملات بعد میں سامنے آئے تب سب کچھ ہاتھ سے نکل چکا تھا۔

تیسرا پہلو نوجوانوں کا میدان میں اترنے کا یہ بھی تھا کہ اس علاقے میں روزگار کا ذریعہ سرکاری نوکری
جو کہ بہت محدود ہے بزنس اور سیاحت ہے۔
ان حالات میں سرکاری نوکری تو مقامی نوجوانوں کو ملنے سے رہی نوجوانوں نے مختلف بزنسز شروع کئے ہیں۔
اسی طرح بعض نوجوان سیاحت کے شعبے یعنی ہوٹلز موٹلز کے شعبے کو اپنا چکے تھے فرقہ وارانہ فسادات میں
ان کا کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ اسی لئے یہ نوجوان میدان میں اترے اور اس سارے فساد کو ناکام بنادیا

بابوسر میں تحریک طالبان گلگت بلتستان کی جانب سے جو ویڈیو سامنے آئی اس پر دیامر کے عوام نے
شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا میں واضح پیغامات دئیے کہ ایسے عناصر کو صوبائی حکومت
لگام دے اور ان کے ساتھ بقول دہشت گردوں کے جو معاہدے کئے ہیں انہیں مسترد کرتے ہوئے انہیں سزائیں
دیں۔

یہ وہ تبدیلی ہے جو گلگت بلتستان میں سامنے آئی۔ دہشت گرد اور تخریب کار عناصر نے تینوں واقعات
میں مسلکی منجن کا استعمال کرنے کی ایک بار پھر کوشش کی لیکن ناکام ہوئے ۔ نوجوانوں نے اس علاقے
کو فساد سے بچا لیا نوجوان پر عزم ہیں کہ اس علاقے میں مزید سازشیں ہوں گی لیکن وہ انہیں بھی
ناکام بنادیں گے۔


شیئر کریں: