پاکستان افغانستان سرحد کی کڑی نگرانی 843 چیک پوسٹ اور ڈرون کی پروازیں

شیئر کریں:

پشاور سے عظمت گل

پاکستان افغانستان سرحد پر فنسنگ کا 90فیصد کام مکمل کیا جاچکا ہے اور اس سرحد کی سحت مانیٹرنگ
سسٹم کے ذریعے نگرانی کی جارہی ہے۔ ہر قسم کی غیر قانونی نقل و حرکت بند کر دی گئی ہے۔

سیکیورٹی زرائع کا کہنا ہے کہ کے پی کے تقریبا 1229 کلو میٹر بارڈر پر فنسنگ مکلمل کی جاچکی ہے۔
10 فیصد حصے پر کام تیزی سے جاری ہیں اور اس پاس کے تمام علاقوں سے داخلہ مکلمل طور پر بند ہے۔

افغان سفیر کی بیٹی نے اغوا کا ڈرامہ رچایا، پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش

پاسپورٹ، ویزا اور شناحتی کارڈ کے بغیر کوئی بھی پاکستان میں داخل نہیں ہو سکتا۔ مہاجرین کی آمد کے
پیش نظر فورسز پولیس اور انتظامہ نے مل سیکیورٹی مزید سحت کر دی ہے۔

سرحد سے دور مہاجر کیمپ بنائے جانے کا امکان ہے جہاں سے کسی کو بھی باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
ذرائع کے مطابق ممکنہ طور پر آنے والے مہاجرین کو کھانے پینے کی تمام اشیا وافر مقدار میں فراہم کی جائیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے پی سمیت طورخم سے لے کر تمام سرحد پر 843 چیک پوسٹیں بنائی جارہی ہیں۔
ان میں سے 554 مکمل کر لی گئی ہیں اور 289 پر تیزی سے کام جاری ہے۔

بارڈرز فینسنگ کی سیکیورٹی اور نگرانی کے لیے ہر سیکٹر میں تین ڈرون کیمرے مختص ہیں اور پٹرولنگ
ٹیمیں بھی گشت کررہی ہیں۔

کسی بھی قسم کی غیر قانونی نقل و حرکت کی اطلاع پر بروقت کارروائی کی جارہی ہے۔ اسی طرح بارڈرز
فینسنگ اور چیک پوائنٹس کے ذریعے اربوں روپوں کی غیر قانونی اسملنگ کا راستہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔

بارڈر منجمنٹ سسٹم سمیت طورخم پر بائیو میٹرک بھی نصب کیا گیا ہے۔ پاک فوج نے 17 بڑے آپریشن
کر کے ملک دہشت گرودں سے پاک کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے
اداروں اور عوام نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس وقت قانونی طور داخلے اور تجارات کے لیے طورخم، کلاچی، غلام محمد
حان سمیت پانچ راستے کھلے ہیں۔


شیئر کریں: