پاکستان اور ہائبرڈ چاول کی کہانی

شیئر کریں:

تحریر ڈاکٹر شوکت علی

22 مئی 2021 کو چین کے میڈیا نے سرخیاں لگائیں کہ ملک کے بابائے ہائبرڈ چاول،یوان لانگ پنگ مختصر علالت کے بعد 91 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔1960 کی دہائی میں جب چین قحط کی لپیٹ میں تھا اس وقت لانگ پنگ کی عمرلگ بھگ تیس سال تھی قحط کی تباہ کاریوں نے زرعی کالج کے گریجویٹ لانگ پنگ کو دھان کی پیداوار بڑھانے کے لئے غوروفکر پر اکسایا،واضح رہے کہ 60 فیصد چینیوں کی مرغوب غذا چاول ہے اور 1960 کے قحط میں تقریبا 5 کروڑ چینی باشندے لقمہ اجل بن گئے تھے یہ وہ دور تھا جب امریکہ میں مکئی کی زیادہ پیداوار والی ہائبرڈ ورائٹیوں کی دھوم تھی۔ ہائبرڈ ٹیکنالوجی سے تیار کی گئی ورائٹیاں، عام ورائٹیوں کے مقابلے میں 20 سے 25 فیصد زیادہ پیداوار دیتی ہیں۔ لانگ پنگ نے بھی دھان کی ہائبرڈ ورائٹیاں تیار کرنے کے لئے تحقیق کا آغاز کر دیا،یوان لانگ پنگ نے اپنی ساری زندگی ہائبرڈ دھان پر تحقیق کے لئے وقف کر دی

دھان کی ہائبرڈ ورائٹی تیار کرنا مکئی سے بہت مختلف اور پیچیدہ عمل تھا۔ لیکن لانگ پنگ کی مسلسل محنت، لگن اور مستقل مزاجی نے اسے کامیابی سے ہمکنار کیا۔ 1973 میں لانگ پنگ نے اعلان کیا کہ اس نے ہائرڈ دھان کی ایک ایسی قسم تیار کر لی ہے جو عام ورائٹیوں کے مقابلے میں 60 فیصد زیادہ پیداوار دیتی ہے۔ یوں سمجھئے کہ اس ہائبرڈ ورائٹی کی بدولت پیداوار 30 من فی ایکڑ سے 50 من فی ایکڑ تک جا پہنچی۔ ظاہر ہے کہ دھان کی تحقیق میں یہ ایک انقلابی کامیابی تھی۔ لانگ پنگ کی تیار کی گئی ہائبرڈ ورائٹی کو خکومتِ چین نے پہلی مرتبہ 1976 میں عام کاشت کے لئے منظور کر لیا۔1976 سے لے کر تا دمِ مرگ،لانگ پنگ نے ہائبرڈ چاول کی تحقیق پر کام جاری رکھا۔ لانگ پنگ اور لانگ پنگ کے تربیت یافتہ سائنسدانوں نے یکے بعد دیگرے ہزاروں ایسی کامیاب ہائبرڈ ورائٹیاں متعارف کروائیں جن کی پیداواری صلاحیت 135 من فی ایکڑ سے بھی زائد تھی۔ کاشتکاروں نے ہائرڈ دھان کی کاشت میں بڑھ چڑھ کردلچسپی لی۔ یہاں تک کہ چین میں آج کل دھان کے کل زیر کاشت رقبے کے 57 فیصد (30 ملین ہیکٹر) رقبے پر ہائبرڈ چاول کاشت ہو رہا ہے،اب تک دنیا کے کم و بیش 40 ممالک ہائبرڈ چاول کی کاشت کو اپنا چکے ہیں۔ حکومت چین نے لانگ پنگ کی انقلابی خدمات پر اسے چین کے اعلی ترین سول ایوارڈ ” میڈل آف دی ریپبلک” سے نوازا اور چینی عوام نے انہیں “بابائے ہائبرڈ چاول” کا خطاب دیا۔چینی حکومت نے یوان لانگ پنگ کو اعلی ترین سرکاری ایوارڈ اور چینی عوام نے انہیں بابائے ہائبرڈ چاول کا خطاب دیا،چائنہ کے بعد بھارت دنیا کا دوسرا ملک تھا جس نے ہائبرڈ چاول کی ورائٹی عام کاشت کے لئے پیش کی ۔بھارت میں ہائبرڈ چاول کی پہلی ورائٹی آندھرا پردیش رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے 1994 میں پیش کی تھی۔ 2020 تک بھارت میں ہائبرڈ چاول کی 117 ورائٹیاں کاشت کے لئے منظور کی جا چکی ہیں جن میں سرکاری اداروں کی 36 اور پرائیویٹ اداروں کی 81 ورائٹیاں شامل ہیں۔ بھارت میں منموہن سنگھ کی حکومت نے ہائبرڈ چاول کو پروموٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا تھا اور کاشتکاروں کو ہائبرڈ بیج پر سبسڈی دینے کا آغاز کیا تھا۔ لیکن ابھی تک بھارت میں دھان کے کل زیر کاشت رقبے کے 8 فیصد رقبے (3 ملین ہیکٹر) پر ہی ہائبرڈ چاول کاشت کیا جا رہا ہے۔بھارت کے ویت نام نے ہائبرڈ چاول کی کاشت کو اپنایا۔2020 تک ویت نام میں دھان کے زیر کاشت کل رقبے کے 10 فی صد رقبے پر ہائبرڈ چاول کاشت کیا جا رہا تھا۔ فلپائن میں بھی ہائبرڈ چاول کی کاشت کا خاصا رواج پڑ چکا ہے،بنگلہ دیش بھی اس حوالے سے پیچھے نہیں ہے۔

بنگلہ دیش نے چین، بھارت اور فلپائن کی ہائبرڈ ورائٹیاں اپنے ملک میں متعارف کروائی ہیں۔ ہائبرڈ بیج کی پیداوار کے حوالے سے بنگلہ دیش مکمل طور پر خود کفیل ہے۔امریکہ نے ہائبرڈ چاول کی ٹیکنالوجی قدرے بعد میں سن 2000 میں اپنایا ۔ گزشتہ 20 سالوں میں امریکہ نے بھی ہائبرڈ دھان پر قابل ذکر تحقیق کی ہے۔پاکستان میں ہائبرڈ دھان پرائیویٹ شعبے نے متعارف کروایا۔ سن 2001 میں گارڈ سیڈ کمپنی نے چین سے ہائبرڈ دھان کے بیج منگوا کر انہیں تجرباتی طور پر آزمانا شروع کیا۔ کامیاب آزمائش کے بعد کمپنی کی 2 ہائبرڈ ورائٹیاں سندھ میں کاشت کے لئے منظور کر لی گئیں جنہیں چین سے درآمد کر کے پاکستان میں فروخت کیا جانے لگا۔2001 سے 2021 تک ہائبرڈ دھان کی کم و بیش 150 ورائٹیاں منظور کی جا چکی ہیں۔ ہائبرڈ بیج کی مقامی پیداوار میں گارڈ کمپنی کے علاوہ، سن کراپ، سائبان، چوہدری خیر دین اینڈ سنز (سی کے ڈی) وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ایک اندازے کے مطابق 28 فیصد ہائبرڈ بیج مقامی طور پر تیار کیا جاتا ہے جبکہ 72 فیصد چین سے درآمد کیا جاتا ہے،پاکستان میں ہائبرڈ چاول کے بیجوں کی درآمد و مقامی پیداوار کا موازنہ
گزشتہ برس (2020)، 5 ارب روپے سے زائد کا 9390 ٹن ہائبرڈ بیج چائنہ سے درآمد کیا گیا۔ جب کہ اندازََ 3600 ٹن ہائبرڈ بیج مقامی طور پر تیار کیا گیا۔ اس طرح مجموئی طور پر پاکستان میں تقریباََ 12990 ٹن ہائبرڈ بیج کا کاروبار ہوا،ہائبرڈ بیج کی اس مجموئی مقدار سے 21 لاکھ 65 ہزار ایکڑ دھان کاشت کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ برس پاکستان میں کل 50 لاکھ 14 ہزار ایکڑ ایکڑ رقبے پر دھان کی فصل کاشت کی گئی۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو ملک میں دھان کے زیر کاشت رقبے کے تقریباََ 43 فیصد رقبے پر ہائبرڈ دھان کاشت کیا جا رہا ہے۔پاکستان میں ہائبرڈ چاول اور باسمتی و دیگر چاول کی کاشت کے غیر سرکاری اعدادوشمار
آئندہ مضمون میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ پاکستان میں ہائبرڈ چاول کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟ اور یہ کہ پاکستان میں نان باسمتی موٹے چاول اور باسمتی چاول کا مستقبل کیا ہے؟
(مضمون کے لکھاری ماہر توسیع زراعت ہیں)


شیئر کریں: