ایران پر فوجی جارحیت کے لیے امریکا پر اسرائیل کا شدید دباؤ

شیئر کریں:

ایران کے اسلامی انقلاب کا خاتمہ کرنے کے لیے فوجی مہم جوئی کے لیے اسرائیل نے امریکا پر شدید دباؤ ڈالا
لیکن امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے تل ابیب کی سازش ناکام بنادی۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل پر بارہ سال سے اقتدار میں رہنے والے سابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے انتخابات
میں شکست کے بعد اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مختلف طریقوں سے ایران پر حملہ آور ہونے
پر زور دیا۔

فلسطین اور ایران مخالف اسرائیل اور امریکا دونوں ہی کی قیادت کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
دونوں ہی ہرصورت اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے تھے اسی لیے جنگوں کا سہارا لینے خواہش مچلی لیکن فوج
آڑے آگئی۔

اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ایران پر اندرونی اور بیرونی
طور پر ہدف بناکے حملے کیے گئے۔ ایران کے بابائے جوہری پروگرام محسن فخری زادے کو نومبر 2020 میں
تہران کے قریب بغیر انسان والی گاڑی سے فائرنگ کرکے شہید کیا گیا۔

اس سے پہلے بغداد ائیرپورٹ کے قریب 3 جنوری 2020 کو ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کو ڈرون حملے میں
شہید کیا گیا۔ قاسم سلیمانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ٰی کے بعد سب سے بااثر شخصیت تھے۔

ایران کے جوہری پلانٹ پر سائبر کے ذریعے کئی حملے کیے گئے۔ اس طرح کی ٹارگٹڈ کارروائیوں کا سلسلہ
جاری ہے لیکن آرمی کے ذریعے جنگ کرنے سے امریکا گریز کرتا آرہا ہے۔


شیئر کریں: