کیا مسلمان حج کو بھولتے جارہے ہیں؟

شیئر کریں:

تحریر شہزادہ احسن اشرف شیخ

موذی کورونا سے پہلے لوگ سال بھر حج اور عمرہ کی باتوں اور کوشش میں مصروف رہتے تھے ، ایام حج میں لوگوں کا شوق و ذوق مزید بڑھ جایا کرتا تھا۔
کورونا کی آڑ میں “سعودی حکومت” کا غلط اور غلیظ فیصلہ عالم اسلام رفتہ رفتہ قبول کرتا جارہا ہے۔ سعودی کے اس “کافرانہ اور ظالمانہ” فیصلے کے خلاف دنیا کے کسی بھی حصے سے احتجاج بلند نہیں ہورہا ہے۔
سعودی کے سینما ہال کھل گئے ہیں جہاں کوئی “ایس او پیز” لاگو نہیں ، کیسینوز میں وہی چہل پہل ہیں۔ ہوٹلز اور شاپنگ مالز میں وہی رونقیں ہوتی ہیں مگر حرمین بند پڑے ہیں۔
تعجب کی بات ہے یورپ بھر میں “یوروکپ فٹ بال ٹورنامنٹ” کے دوران وہی پرانا جوش وخروش دیکھنے میں آتا ہے لیکن حرمین پر ابھی تک کویڈ 19 کی نخوست کا سایہ ہے۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ کورونا نہیں ہے لیکن جب یورپ و امریکہ میں کھیل کے میدانوں میں عوام کا ہجوم دیکھتے ہیں۔ دوسری طرف سعودی اور امارات میں کاروباری ، تفریحی سینما ہالز اور “انٹرٹینمنٹ” والے مقامات پر وہی پرانی سرگرمیاں ، وہی رونقیں ، وہی نظارے اور وہی چہل پہل نظر آتی ہیں۔
تو ۔۔۔۔۔ “حرمین” کی بے رونقی اور مسلمانوں کی بے بسی پر رونا آتا ہے ۔۔۔۔۔۔ !!
نوٹ : روایت کا مفہوم ہے کہ
” خانہ کعبہ بنانے کے بعد جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وحی آئی کہ اب اعلان کرو تو آپ نے تعجب سے فرمایا اس صحرا سے میری آواز دنیا تک کیسے پہنچے گی تو جبرائیل نے فرمایا۔ یہ آپ کا کام نہیں ہے آپ صرف اعلان کریں اواز پہنچانا “ہمارا” کام ہے”-

سعودی حکام تک (بظاہر) ہماری اواز نہیں پہنچ سکتی مگر آپ صرف وائرل کیجئے باقی کام اللہ سبحانہ تعالی’ کا ہے ہوسکتا ہے “وہ” اپنے اور اپنے محبوب (صل اللہ علیہ والہ وسلم) کے گھر کی رونقیں بحال کرنے کیلئے آداب آپکے “شیئر کرنے” کو بہانہ بنالے۔ کیا مسلمان حج کو بھولتے جارہے ہیں؟
#حرکت#میں #برکت #ہے
(مضمون کے لکھاری سابق وفاقی وزیر اور پی آئی اے کے چیئرمین رہ چکے ہیں)


شیئر کریں: