کس سیاستدان کو دوسرا بھٹو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عثمان
خفیہ ایجنسیوں نے مُلک کے موجودہ سیاسی سیت آپ کو. بچانے کی غالباً آخری کوشش کے طور پر وزیراعظم
عمران خان کو پاکستان کا دوسرا بھٹو بنانے کے جتن شروع کر دیئے ہیں اور پروپیگنڈا کا ہتھیار استعمال کرتے
ہوئے آجکل یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم زوالفقار علی بھٹو
کے بعد عمران خان وہ پہلا محب وطن قومی لیڈر ہے جس نے امریکہ جیسی دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور
سے ٹکرانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے نتیجے میں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ساتھ اعلیٰ طاقتور شخصیات
کی بھی زندگی خطرے میں پڑگئی ہے کیونکہ وہ اس نیشنلسٹ پرایم منستر کے ساتھ کھڑی ہیں ، یُوں اس
طرح کے پراپیگنڈا سے “ناکام خان” کا قد بھٹو سے بھی نڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
تو دوسری طرف ملک چھوڑ جانے پر مجبور کر دیئے گئے سابق وزیراعظم نواز شریف اور اپوزیشن جماعتوں
کی حکومت مخالف تحریک بارے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ دراصل امریکی
سی آئی اے کا کھیل کھیل رہے ہیں۔
تاہم وزیراعظم کی ٹیم میں موجود ایک نہایت معتبر مشیر ، وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر
معید یوسف کے بعد خود امریکہ نے بالواسطہ طور پر ایجنسیوں کے اس کھیل کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔

نوازشریف اور ‘پی ڈی ایم’ کو امریکی سی آئی اے کی سرپرستی سے جوڑنے کی سازش؟

معید یوسف کو وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں بیٹھی شخصیات میں “امریکی کیمپ” کا سب سے
بڑا نمائندہ تصور کیا جاتا ہے جنہوں نے ممتاز و معتبر صحافی سلیم صافی کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو
میں دو ٹوک کہا ھے کہ امریکہ نے تو پاکستان سے کوئی فوجی اڈے مانگے ہی نہیں جبکہ میڈیا میں
پُورے زور و شور سے عوام اور قوم کے ذہنوں یہ تاثر بٹھائے کی کوشش جاری ھے کہ وزیراعظم عمران خان
نے امریکہ دلیری دکھاتے ہوئے امریکہ کو پاکستان میں اپنے فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت دینے سے
صاف انکار کر دیا ہے۔

اس “فرضی” اور “جعلی” دلیری کی مہم میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بعد شیخ رشید جیسے
بعض وفاقی وزراء بھی شریک ہوگئے ہیں لیکن جمعہ کے روز مؤقر انگریزی اخبار “دی نیوز” میں شائع
ہونے والی پاکستان میں AFP کے سابق نمایندہ رانا جواد کی اسٹوری کے مطابق پاکستان میں متعین
متعدد مغربی سفارت کاروں نے بھی برملا کہا ہے کہ امریکہ نے پاکستان سے ملٹری bases کا کوئی
تقاضہ نہیں کیا۔

سنجیدہ سفارتی ، سیاسی و صحافتی حلقوں میں باور کیا جاتا ہے کہ معربی سفارت کاروں کی زبانی
دراصل یہ “تردید” واشنگٹن ہی کی طرف سے جاری کی گئی ہے۔

ادھر ملک کی مؤثر خفیہ ایجنسیاں یہی تاثر قائم کرنے کی تگ و دو میں لگی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان
کے رویے  ، کردار اور خارجہ محاذ پر دکھائی گئی “دلیری” نے پاکستان میں ایک بار پھر نہ صرف ایک منتخب
سیاستدان کی بلکہ ان کے شانہ بشانہ کھڑیں اعلیٰ عسکری شخصیات کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دی ہے۔

ساتھ ہی یہ تاثر بھی قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اب ملک میں سویلین سیٹ اپ سمیت موجود
‘جمہوری’ نظام کے خلاف کوئی تحریک چلتی ہے تو وہ یقینی طور پر امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی
“آشیرواد” لئے ہوئے ہوگی اور اسے لیڈ کرنے والے مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف جیسے سیاستدان در حقیقت
غیر ملکی طاقتوں کی “گیم” کر رہے ہوں گے جبکہ سنجیدہ سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ
یہ سارا ڈرامہ دراصل ملک پر مسلط سیاسی highbrid سسٹم کو مبینہ طور پر لاحق شدید خطرات کے پیش نظر
پیش بندی کے طور پر رچایا جارہا ہے۔
اس لئے کہ لندن میں جلاوطنی اختیار کئے بیٹھے سابق وزیراعظم نواز شریف کی بظاہر کامیاب سیاسی حکمت عملی
نے اس سسٹم اور اس کے معماروں تک کی بقاء خطرے میں ڈال دی ہے جس کے تحت مقبول ترین اپوزیشن
جماعت کے قائد اپنے دلیرانہ بیانیے سے اس زور زبردستی میں شریک عسکری کرداروں کو بھی عوامی سطح پر
بے نقاب کرنے میں لگے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں طاقتور ادارے کی قیادت میں بعض اہم
تبدیلیوں سمیت مقتدر حلقوں میں رد و بدل بھی خارج از امکان نہیں اور کَچھ بعید نہیں کہ یہ پورے کا پورا
“ہائبرڈ” نظام دھڑام سے زمیں بوس بھی جائے۔

ایک اھم انٹیلیجنس ایجنسی نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں “انکشاف” کیا ہے کہ جس طرح بھٹو مخالف تحریک
کی کامیابی کیلئے سی آئی اے کے سربراہ جارج بْش سینئرنے لندن میں برطانوی خفیہ اداروں کے ساتھ ستمبر
1976 میں ایک میٹنگ کی تھی۔

اسی طرح عمران حکومت کے خاتمہ کیلئے موجودہ سی آئی اے سربراہ  اور ایم آئی سکس ( MI6 ) کے
درمیان مشاورت عمل میں آئی ہے۔گذشتہ ماہ امریکی سی آئی اے کے سربراہ کے خفیہ دورہ پاکستان میں
فیصلہ کن کردار کی حامل قوتوں نے امریکہ پر واضح کردیا تھا کہ اس بار ہماری ترجیحات مختلف ہیں
اور ماضی کی طرح پیٹی مفادات کے عوض غیر مشروط تعاون کی یقین دہانی سے معذرت کر لی. دنیا کی
طاقتور ترین خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے جب عمران خان سے ملاقات کی خواہش کا کہا تو وزیراعظم
ہاؤس کی طرف سے معذرت کردی گئی جس کو طاقتور ملک کی  طاقتور ترین شخصیت نے نامناسب
تصور کیا اور خطے  کے سیاسی منظرنامہ کی امریکی مفادات کے تابع تشکیل کے عمل کی کامیابی
کیلئے ماضی کی طرح  MI6 سے مشاورت کا عمل تیز کردیا ہے۔

کیا واقعی تین “بڑو” کی جان خطرے میں ہے؟

حکومت مخالف سیاسی اتحاد کو مضبوط و مؤثر بنانے کے علاوہ مذہبی قوتوں کے ذریعے پُرتشدد تحریک
کی منصوبہ بندی کوحتمی شکل دی جارہی ہے اور عمران خان سمیت اہم فوجی و سیاسی شخصییات
کی زندگیوں کو آنے والے دنوں میں  شدید خطرات درپیش ہیں رپورٹ میں اہم ترین اعلیٰ سطح شخصیات
کی سیکیورٹی سخت کر دیئے جانے کی سفارش کی گئی ہے

رپورٹ میں کہا گیا ہے  “ذوالفقار علی بھٹو کی کامیاب خارجہ پالیسی کی بدولت وہی سردار داؤد 1976 میں سعودیہ اور ایران کی کوششوں اور مالی امداد کی وجہ سے اس بات پر آمادہ ہو چکا تھا کہ ڈیورنڈ لائن کو مستقل سرحد تسلیم کر کے پاکستان کا حلیف بنا جائے۔ ہمارا المیہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت ذاتیات کی سیاست سے کبھی ایک قدم بھی باہر نہیں نکلی۔ انٹرنیشنل سیاست کیا اْنھوں نے کبھی ملکی لیول پر بھی یہ دیکھنے یا سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کہ دنیا مستقبل کے حوالے سے کیا سوچ رہی ہے۔
جس وقت بھٹو خطہ میں افغانستان اور ایران سے اپنے برادرانہ تعلقات کی راہیں ہموار کرکے پاکستان کی خطہ میں پوزیشن کو مستحکم کر کے عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کے حوالے سے اپنی ترجیحات کو عملی شکل دینے میں مصروف تھا وہیں پر ایک طرف روس سردار داؤد کے حوالے سے اپنی ترجیحات بدل رہا تھا اور نئی حکمت عملی تشکیل دے رہا تھا تو دوسری طرف امریکہ بھٹو کی ان شاطرانہ پالیسیوں کی وجہ سے سخت پریشان تھا کہ اسے کس طرح روکا جائے۔ 
تاریخی حوالہ جات اس بات کے گواہ ہیں کہ جب امریکہ کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ پاکستان کی شمال مغربی سرحد سردار داؤد سے معاہدے کے نتیجے میں محفوظ ہونے جا رہی ہے تو اس وقت کے سی آئی اے کے سربراہ جارج بْش سینئرنے لندن میں برطانوی خفیہ اداروں کے ساتھ ستمبر 1976 میں ایک میٹنگ کی جس میں یہ طے پایا کہ دیر اور چترال سے کس طرح ایک مذہبی گروہ تشکیل دیا جائے جسکی سپورٹ کیلئے قبائلی عمائدین کو بھی آمادہ کر کے بھٹو کیلئے ایک نیا محاذ کھول کر اسکی پریشانیوں میں اضافہ کیا جائے جبکہ ہمارے ملک کی سیاسی قیادت ان تغیرات سے بے خبر اپنے اپنے مفادات کی جنگ لڑنے میں مصروف عمل تھی لہذا جو سیاسی مفکر اس اسلامی جہاد جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں اور آئندہ چند دنوں میں مزید بھگتنے جارہے ہیں اسکو افغانستان میں روس کی مداخلت سے جوڑتے ہیں شاید وہ تاریخی حقائق سے چشم پوشی کرتے ہیں۔ گہرائی میں جائیں تو یہ امریکہ کی وہ سازش تھی جس
کے تحت وہ بھٹو کا شکار کر کے پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ایک ایسی دلدل میں دھکیلنے کی پلاننگ کر چکا تھا جس میں ہم آج گردن تک دھنس چکے ہیں۔


شیئر کریں: