اَب کے انگڑائی نہ ٹُوٹی تو بَدَن ٹُوٹے گا “ہر تان ہے دیپک”

شیئر کریں:

تحریر : علیم عُثمان

لاہور کے ‘انار کلی’ بازار میں غالباً مُتّحدّہ ؍ہندوستان کے زمانے سے ، دُوسرے لفظوں میں پُرانے لاہور کے دَور سے
واقع مشہُور “دہلی مُسلم ہوٹل” کا ایک کمرہ ، کمرہ کیا تھا بَس ایک اکیڈمی ، ایک آرٹ ؍انسٹی ٹیُوٹ تھا
ہوٹل کے گراؤنڈ فلور پر واقع یہ کمرہ کَتھَک ڈانس کے اُستاد مہاراج غُلام حُسین کَتھَک کا آشیانہ تھا جس میں
پُورا “الحمرا” ؍سمٹ آیا تھا

گُرُو مہاراج غُلام حُسین کَتھَک آخری وقت تک ماہانہ ؍کرائے کی بُنیاد پر اسی کمرے میں مُقیم رہے . ؍اسی
“؍منی آرٹ ؍انسٹیٹیُوٹ” میں آنے والے وقت کی بڑی بڑی کَتھَک ڈانسرز گُرُو مہاراج غُلام حُسین کَتھَک سے
“؍نرت بھاؤ” ؍دیکھتی رہیں ؍جن میں اداکارہ طلعت ؍صدّیقی کی بڑی بیٹی اَور آج کے بُنیاد پرستوں کے

امام دانشورOrya Maqbool Jan کی کزن مُحترمہ ناہید ؍صدّیقی ، بُنیادی طور مشرقی پاکستان سے تعلّق
رکھنے والی Nighat Chaudhryجو بعد میں ؍مسز آصف رضا ؍میر بنیں اَور Bina Jawwad (جو بعد میں
سابق ؍چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس جواد ایس خواجہ کی رفیق؍ حیات بنیں) جیسی مہان کلاسیکل
رقاصائیں شامل ہیں … (کبھی کبھی خیال آتا ھے کہ مُلک میں ؍اسلامسٹ ؍انتہا پسندوں اَور دائیں بازُو
کے بُنیاد پرستوں کے “نمبر دار” مُحترم اوریا مقبُول جان اگر اُس دَور میں بطور کالم ؍نگار ، ٹی وی اَینکر و دانشور
یہ شناخت establish کر چُکے ہوتے تو ؍اس غیرت؍ ناہید” فنکارہ کزن بارے کیا رائے دیتے)

کَتھَک مہاراج گُرُو غلام حُسین کا یہ بسیرا مُدّتّوں اپُن کے مدّاحوں سے کھچا کھچ بھرا رہتا ؍جن میں یُونیورسٹی
اساتذۂ ، طلباء ، ؍فلم میکرز ، پروڈیُوسرز ،آرٹ لَوَرز اَور نوجوانوں سمیت ؍لبرل شہریوں کی ایک بڑی تعداد
شامل تھی ، (؍جن میں اُس وقت کے ؍انجینئرنگ یُونیورسٹی لاہور کے طالب علم خواجہ سلمان رفیق جیسے
بعض آوارہ منش “جَرسولے” اَور “چسکاٹُو” نوجوان بھی شامل تھے کیونکہ گُرُو کے مُستقل ؍خدمت گاروں
میں ؍صرف ایک آدھ خُبرُو خواجہ سَرا ہی شامل تھا)

بہرحال ، سلام ہو جناب اسلم اظہر کی زیر؍ قیادت قومی ٹیلی ویژن کی اُس pioneer ؍ٹیم کو جس نے لاہور
میں پی ٹی وی کی بُنیاد رکّھی اَور ٹیلی ویژن کی تاریخ کے معیاری و یادگار پروگرامز ، ؍بالخصُُوص” منورنجن ”
کے تاریخی شوز پیش کئے

؍انہی میں ناہید ؍صدّیقی کے کلاسیکل رقص پر مبنی شو “ہر تان ھے ؍دیپک” شامل تھا جو ایک نہائت
شائستہ اَور اُس زمانے میں entertainment کا سب سے بڑا شو تھا ، بھرپُور ؍انٹر ٹینمنٹ یا دُوسرے لفظوں
میں “ڈرٹی ؍پکچر” کی ؍ودھیا بالن کے بقول” ؍انٹرٹینمنٹ ، ؍انٹرٹینمنٹ اَور ؍انٹرٹینمنٹ” لئے ہُوئے

ناہید ؍صدّیقی کے بَدَن میں ماشاءاللہ ماشاءاللہ آج بھی وہی حرارت ، لوچ اور پھُرتی موجُود ھے ؍جسے اُن کے
شباب کے زمانے میں دیکھ کر شاعر نے کہا تھا . .
” ؍جسم بَلّور سا نازَک ہے ، جوانی بھرپُور
اب کے انگڑائی نہ ٹُوٹی تو بَدَن ٹُوٹے گا ”


شیئر کریں: