عراق کے اسپتال میں آکسیجن سلنڈر دھماکا 50 سے زائد کورونا مریض جاں بحق

شیئر کریں:

عراق کے شہر ناصریہ کے اسپتال میں آکسیجن سلنڈر کے دھماکہ نے سب کچھ جلا کر خاک کر دیا۔ کورونا
کے
مریض علاج سے پہلے ہی ہلاک ہو گئے۔

ناصریہ کے الحسینیہ اسپتال میں کورونا مریضوں کے لیے رکھے گئے آکسیجن سلنڈر اچانک دھماکے سے پھٹ
گئے۔ دھماکہ کے ساتھ ہی اسپتال میں آگ لگ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا اسپتال جل گیا۔

اسپتال میں زیر علاج کورونا کے 52 مریض زندہ جل گئے 22 کی حالت تشویش ناک ہے۔ ڈاکٹرز نے ہلاکتوں
میں اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

متعدد مریض اب بھی لاپتہ ہیں۔ تین مہینہ میں یہ اس طرح کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے بغداد کے کورونا
اسپتال میں دھماکا ہوا تھا جس میں 82 افراد جاں بحق بغداد کے کورونا اسپتال میں آکسیجن ٹینک دھماکا 82 مریض ہلاک درجنوں زخمیاور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

عراق کے وزیر اعظم نے ملک بھر میں صحت کی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ پچھلے دھماکہ کے بعد کچھ اسی
طرح کا اعلان کیا گیا تھا لیکن دھماکہ کی وجوہات اور زمہ داروں کا تعین نہ کیا جا سکا۔

عراق 2003 سے تباہی کا شکار ہے پہلے ایران کے ساتھ اور پھر امریکی جنگ نے بھی عراقی عوام کو کچھ نہ
سکھایا۔ ملک میں کرپشن اور بیروزگاری زوروں پر ہے۔

عوام غربت کی لکیروں سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن تیل کی دولت سے مالا مال ملک کے
حکمرانوں کو عوام کی زندگی کا کوئی خیال نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مظاہرے اور جلاؤ گھیراؤ معمول بن چکا ہے۔ ناصریہ اسپتال کے اس واقعہ نے ایک بار پھر
سے حکمرانوں اور عوام کو سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ وہ آخر کب تک بے حسی کی زندگی گزارتے رہیں گے؟
عراق میں کورونا وائرس سے 17 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں اور ہزاروں افراد اب بھی اس وائرس
سے متاثر ہیں۔


شیئر کریں: