لوٹوں کے بجائے سیاست کی جیت ہوگی

شیئر کریں:

تحریر این آر

آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں محض چند روز رہ گئے ہیں۔ آخری لمحات تک انتخابی جوڑ توڑ جاری رہے گا۔ مرکز میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف ضمنی انتخابات کی طرح آزاد کشمیر میں بھی گروپ بندیوں کا شکار ہے۔
25 جولائی کو آزاد کشمیر کی 45 نشستوں پر ریاست میں 33 اور 12 نشستوں پر پاکستان کے مختلف شہروں میں میدان سجے گا۔ عوام اپنے ووٹوں اور بااثر افراد اپنے طریقوں سے امیدواروں کو جتوائیں گے۔
ان انتخابات میں تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور آزاد کشمیر کی جماعتیں الیکٹیبلز کو ہمنوا بنانے میں مصروف ہیں۔ تحریک انصاف مرکز میں حکومت ہونے کے باوجود آزاد کشمیر کی سابق حکمراں جماعت کے الیکٹیبلز کو بڑی تعداد میں توڑنے میں ناکام رہی ہے۔
پچھلے انتخابات میں واضح اکثریت سے حکومت بنانی والی مسلم لیگ ن کے محض تین رہنماؤں کو ہی پی ٹی آئی توڑنے میں کامیاب ہو سکی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما اور الیکٹیبلز کھڑے رہے ہیں اور اپنی پارٹی سے بے وفائی نہیں کی۔
حالانکہ تحریک انصاف نے وزرا آزاد کشمیر میں بھرپور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ کھلے عام ووٹرز میں رقم تقسیم کر رہے ہیں اور جتنے زیادہ ووٹوں سے تحریک انصاف کو کامیاب کرائیں گے اتنے ہی پیسے دینے کی وزیر برائے آزاد کشمیروگلگت بلتستان علی امن گنڈا پور یقین دہانی بھی کراچکےہیں۔
اس کے باوجود لیگی الیکٹیبلز کا کھڑے رہنا قابل ستائش امر ہے۔ پاکستان کی سیاست کا اصول کرسی کے گرد ہی گھومتا رہا ہے اور مرکز میں جو پارٹی برسر اقتدار ہوا کرتی ہے وہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں حکومت بنایا کرتی ہیں۔
اس کے برعکس حکمراں جماعت آزاد کشمیر میں تقسیم دیکھائی دے رہی ہے۔ وزات عظمی کے دو امیدوار سردار الیاس تنویر اور بیرسٹر سلطان محمود میدان میں ہیں۔ دونوں ہی اپنا زور بازو آزما رہے ہیں۔ لیکن پیسے کو عزت والے اصول پر عمل کرتے ہوئے پانی کی طرح پیسا بہایاجا رہا ہے۔


یہی وجہ ہے کہ واضح طور پر تحریک انصاف کے اپنے رہنما اور کارکن کھل کر بیرسٹر سلطان یا سردار تنویر کی حمایت کرنے سے گریزاں دیکھائی دیتے ہیں۔
آزاد کشمیر سے اطلاعات یہی آرہی ہیں کہ وزارت عظمی کے دونوں امیدوار ایک دوسرے کو ہروانے کے لیے مخالف امیدوار کی اندرون خانہ مہم چلا رہے ہیں۔ باالخصوص بیرسٹر سلطان محمود کے حلقہ میں کئی امیدواروں پر پیسہ لگایا جارہا ہے۔
تحریک انصاف کے مقامی رہنما اور کارکنوں نے مرکزی قیادت پر پیسے والوں کو ٹکٹ دینے کے الزامات بھی لگائے ہیں۔ محض الزامات ہی نہیں پریس کانفرنس اور مظاہرے کر کے وزیراعظم عمران خان کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش بھی کی لیکن انہیں اس میں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔
ایسی صورت حال میں تحریک انصاف کی پوزیشن انتہائی کمزور دیکھائی دیتی لیکن پھر بھی طاقت کو ہی عزت دی جانے والے فارمولے کو دیکھا جائے تو قرعہ فعال کمزور حکومت کی صورت میں ان ہی کا نکلے گا۔
تمام تر صورت حال میں مسلم لیگ ن کے رہنما اور کارکنوں کا سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کے ساتھ کھڑا رہنا سیاست کے لیے خوش آئند امر ہے۔ اس مرتبہ الیکشن میں پانی کی طرح رقم بہائے جانے کے وجہ سے الیکشن کا نتیجہ یقینا عوامی توقعات کے مطابق تو نہیں آئے گا لیکن پہلی بار جیت لوٹوں کے بجائے سیاست کی ہو گی۔


شیئر کریں: