شادی کے چار ماہ بعد بہن کے اغوا کا مقدمہ، عالیہ بتول کو قتل کی دھمکیاں

شیئر کریں:

میں عالیہ بتول عاقل و بالغ ہوں۔میں نے دسمبر 2020 میں اپنے کزن سید فرحان حیدر سے اپنی مرضی سے
شادی کی اور چار ماہ بعد اپریل 2021 کو میرے شوہر کے خلاف میرے ہی اغوا کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

حیرت کی بات ہے کہ کہانی میں میرے ساتھ ایک اور بھی لڑکی اغوا دکھائی گئی۔میں دفعہ 164 کے بیان دینے
علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت پہنچی تو پولیس سرائے سِدّھو نے لڑائی کا خطرہ کہہ کر بیان کروانے سے انکار کردیا۔

پولیس صرف اس لئے خوف زدہ ہوگئی کہ میرا بھائی سید صفدر عباس کبیروالا بار کا وکیل ہے اور اس کی چالاکی
کی وجہ سے پہلے میری بڑی بہن کا گھر برباد ہوا اور اب میری جان کو خطرہ ہے۔

کیا اپنی مرضی سے شادی کرنا جرم ہے۔کیسے ممکن ہے کہ شادی چار ماہ پہلے ہوئی اور میرا ہی شوہر مجھے اغوا کرلے؟
ڈی پی او تھانہ سرائے سِدّھو پولیس کی بددیانتی کا نوٹس لیں۔پولیس تھانہ سرائے سِدّھو مجھے قتل کروانا چاہتی ہے ۔

تھانہ سرائے سدھو تحصیل کبیروالا نے پسند کی شادی پہ بھائی کی مدعیت میں شوہر کے خلاف اپنی بیوی کے
اغواء کا پرچہ درج کرلیا، بیوی عالیہ بتول نے پرچے کو جھوٹا قرار دے ڈالا ملزم فرحان حیدر کی بیوی عالیہ بتول
کا وڈیو بیان سامنے آگیا


شیئر کریں: