اغلام بازی اور فرقہ وارانہ تعصب

شیئر کریں:

تحریر عامر حسینی

پنجاب کے ضلع چینیوٹ کی تحصیل لالیاں میں واقع ایک شیعہ مدرسے کے پرنسپل مولوی مظہر حسین نجفی
کی بچوں کے ساتھ ریپ کی سات ویڈیوز سامنے آئی ہیں – پولیس نے ایف آئی آر درج کرلی ہے- ایف آئی آر کے
مدعی مدرسے کے متاثرہ طالب علم بچوں کے والد یا دیگر عزیز ہیں –

پرنسپل مولوی مظہر حسین نجفی نے اپنے مدرسے کے بچوں کا مارچ 2021ء میں ریپ کیا تھا اور ان ہی دنوں
یہ ویڈیوز مدرسے کی انتطامیہ کے علم میں آگئی تھیں لیکن انھوں نے ریپ کرنے والے بدکار فَاسق معلن
پرنسپل مولوی مظہر حسین نجفی کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی –

مولوی عزیز الرحمان کی مبینہ وڈیو وائرل ہونے اور اُس کے خلاف مقدمہ کے اندراج بعد شیعہ امامیہ اثنا
عشری مدرسے کے متاثرہ شیعہ امامیہ اثنا عشری طالب علموں کے والدین کو ہمت ہوئی تو انھوں نے
اندراج مقدمہ کے لیے پولیس سے رجوع کیا –

میں نے دیوبندی مدارس کی چھاتہ تنظیم وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے الحاق رکھنے والے لاہور کے
مدرسے کے دیوبندی شیخ الحدیث کے منصب پہ فائز اور جے یو آئی ایف و انٹرنیشنل ختم نبوت تنطیم
سے وابستہ مولوی عزیز الرحمان کی جانب سے اپنے مدرسے میں نوجوان شاگرد کے مسلسل ریپ پہ
ایک پوسٹ لگاتے ہوئے ایک شیعہ مولوی کے عشرہ مجالس پڑھنے کے دوران اپنے ساتھ آئے ایک نوعمر
نوجوان کے ساتھ بدفعلی کا واقعہ بیان کیا تھا جو ہمارے شہر میں پی پی پی کے ایک ممتاز سینئر
سیاست دان ایڈووکیٹ نے دیکھا تھا جو ایک ممتاز شیعہ خاندان کے چشم و چراغ تھے اور انھوں نے جب
مولوی کو باہر جاکر بتانے کی دھمکی دی تو جواباً اُس شیعہ مولوی نے کہا تھا کہ باہر جاکر بتانے کی
کوشش تو کرو لوگ تمہیں سنگسار کردیں گے –

میں یہ واقعہ تقدیس و عقیدت کے اس ہالے کے تناظر میں بیان کررہا تھا جو عمومی طور پہ کسی مولوی کے
فعل بد پہ اُس کے خلاف وہ ردعمل آنے سے روکتا ہے جو جس کا اُسے مستحق ہونا چاہیے –

لیکن میری اُس پوسٹ پہ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بہت غصے میں آگئے( جن کو شاید پی پی پی
سے میری وابستگی، بھٹوز سے تعلق ایک آنکھ نہیں بھاتی اور انھیں شاید یہ غصہ بھی ہے کہ میں کراچی اور اردو
اسپیکنگ کمیونٹی سے جڑے ایشوز پہ مہاجر شاؤنسٹ لائن اور موقف کیوں نہیں اپناتا اور بھٹوز اور پی پی پی
کو اردو بولنے والوں اور کراچی کا دشمن بناکر پیش کیوں نہیں کرتا؟)

خیر انھوں نے میری اس پوسٹ کے نیچے جھٹ سے میرے اوپر

False balancing /binary

تشکیل دینے کا الزام عائد کرڈالا-

جبکہ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں ایسا کچھ کرنے جارہا ہوں –

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ میں نے اپنی پوسٹ میں مولوی عزیز الرحمان کے سُنی ہونے کا زکر نہیں کیا
جبکہ “خبروالے ڈاٹ کوم” ” سویل” پہ میری فائل کردہ رپورٹ میں مولوی عزیز الرحمان، اُس کے مدرسے اور
اُس کے الحاق کے بارے میں‌ زکر کرچُکا تھا –

مولوی عزیز الرحمان کی دیوبندی شناخت کو لے کر مجھے فیس بُک پہ دو طرح کی پوسٹیں نظر آرہی تھیں :

ایک سیکشن تو وہ تھا جو شعوری اور لاشعوری طور پہ اغلام بازی کو براہ راست “سُنی اسلام” کے جملہ
مذھبی پیشواؤں کی اکثریت کا شعار بتارہا تھا-

بہت ساری شیعہ آئی ڈی شیعہ عالم شہریار نقوی کی ویڈیو کو بڑی تعداد اپنے توضیحی نوٹ کے ساتھ شیئر
کررہی تھی اور سُنی اسلام کے مدارس ان کے مولویوں اور لواطت پرستی کا باہم تعلق ثابت کرنا چاہ رہی تھی –

ایک سیکشن وہ تھا جو سُنی اسلام کی بجائے دیوبندی اسلام کے مدارس اور دیوبندی مدارس سے اُسے جوڑ رہا تھا-

ایک سیکشن وہ تھا جو اسے “تکفیری دیوبندی” اصطلاح کے ساتھ بیان کررہا تھا –

میرا نکتہ نظر اور میری معلومات و تحقیقات مجھے یہ بتارہی تھیں کہ مدراس دینیہ چاہے وہ کسی مسلک /فرقے
سے ہوں وہاں پہ مدرسے کے طالب علم اور طالبات ریپ یا ریپ کی کوشش کے شکار اکثر و بیشتر ہوا کرتے ہیں-

یہاں تک کہ میرے پاس کرسچن مشنری اداروں اور احمدیہ جماعت کے مراکز میں بھی طالب علموں کے ساتھ
ایسے واقعات پیش آنے کی اطلاعات بھی تھیں –

اس لیے اغلام بازی کو کسی مسلک، فرقے یا کسی انتہا پسند رجحان یا ذہنیت جیسے تکفیری ذہنیت ہے سے
منسوب کرنا سوائے اپنے آپ کو مذھبی تعصب کے گڑھے میں گرانے کے کچھ اور نہیں تھا-

ہمارے دوست منیر الحسینی نے جب چینیوٹ میں لالیاں میں شیعہ مدرسے کے شیعہ پرنسپل کی ویڈیوز سامنے
آئی تو انہوں اپنے قیاس کا گھوڑا دوڑایا اور انھوں نے مولوی کی زرا لمبی داڑھی اور سر پہ سفید عمامے کو
دیکھتے ہوۂے مولوی کو شیعہ ماننے سے انکار کردیا یہ ایک مثال نہیں بلکہ نمونہ ان لوگوں کی پوسٹوں کا
ہے جو اپنے فرقے کے مخالف فرقے پہ لواطت کا باآسانی الزام ڈال رہے تھے لیکن جیسے ہی انھیں اپنے فرقے کے
مولوی کے فعل بد میں ملوث ہونے کی “ویڈیو” موصول ہوئی تو خود ہی اُس کا فرانزک معائنہ بھی کرڈالا
اور اسے مسترد بھی کردیا –

تمام فرقوں کے مدارس دینیہ کی چھاتہ تنظیموں نے آفیشلی ان واقعات کے زمہ دار “مولویوں” سے اپنے اپنے فرقے
کے اسلام اور اور اخلاقیات دونوں کو خطرہ قرار نہیں دیا-

جبکہ جس فرقے کے مدرسے کے مولوی کی ویڈیو اور اُس کے خلاف اغلام بازی پہ مقدمہ درج ہوا تو اُس فرقے کے
کئی ایک مولویوں اور غیر مولویوں نے اُسے مدارس اور اسلام کے خلاف سازش قرار دے ڈالا-

شیعہ مولوی شہر یار نقوی جن کی کئی ایک ویڈیوز کو خاص طور پہ کراچی میں اردو بولنے والے ایک
مخصوص سیکشن کی جانب سے اعتدال پسند، لبرل اور روشن خیال عقلیت پسند اسکالر کی ویڈیوز کے طور پہ
پیش کیا جارہا تھا (چند ایک ویڈیوز واقعی اچھی بھی تھیں) اُن کی مولوی عزیز الرحمان کی بدفعلی کی
ویڈیوز کے وائرل ہونے سے پیدا ایشو پہ ایک ویڈیو آئی جس کا عنوان تھا:

“اہلسنت کے خلفاء و علماء کی لواط کی تاریخ”

یہ عنوان بذات خود مذھبی تعصب اور فرقہ وارایت کا آئینہ دار تھا لیکن اس ویڈیو میں مولوی شہریار نقوی نے
جہاں علامہ ابن کثیر شاگرد ابن تیمیہ کی کتاب البدایہ والنھایہ کی ایک عبارت جس میں اُن کے زمانے کے خلفاء،
امراء، فقہا، علماء و قضاۃ کی اکثریت کے لواطت کے فعل شنیع میں مبتلا ہونے کا زکر تھا کو “ہمارے اہلسنت کے
خلفاء و امرا و فقہا و علماء و قضاۃ کی اکثریت لواطت کے فعل میں مبتلا ہے” سے بدل دیا – اُسی ویڈیو میں انھوں
نے سُنی عوام سے کہا کہ وہ دین کی تعلیم کے لیے اپنے بچوں کو ریپ سے بچانے کے لیے شیعہ مدارس میں بھیجیں –

ظاہر ہے کہ شہر یار نقوی کا لواطت کو سُنی اسلام کی تھیاکریسی /مذھبی پیشوائیت سے خاص کرنا ایک احمقانہ بات تھی-

شہریار نقوی کا بنو امیہ، بنو عباس اور دیگر ملوکان /بادشاہان کو سُنی خلفاء کہنا بھی تاریخ کو مسخ کرنے کے
مترادف تھا کیونکہ سُنی اسلام کے اگر جمہور فقہی مذاھب اربعہ کے بانیان کو دیکھا جائے جیسے امام اعظم
ابو حنیفہ، امام مالک، امام احمد بن حنبل اور امام ادریس شافعی تھے تو یہ سب کے سب نہ صرف بنوامیہ کی
ملوکیت کے خلاف تھے بلکہ یہ بنو عباس کی ملوکیت کے بھی خلاف تھے اور ان چاروں آئمہ مذاھب اربعہ نے
امام علی المرتضٰی سے لیکر امام حسن تک خلافت راشدہ، علی منھاج النبوۃ قرار دیا اور اُس کے بعد آنے والوں
کو ملوک، امام حسین علیہ السلام سمیت واقعہ کربلا کے شہداء کو حق پہ قرار دیا، امام ابوحنیفہ نے امام زید بن علی اور پھر محمد نفس زکیہ کے خروج کو حق کی خاطر قیام قرار دیا اور جمہور(اکثریت) اہلسنت کا عقیدہ یہ قرار پایا کہ جو اہل بیت کو برا بھلا کہے وہ ناصبی ہے تو بنوامیہ میں اگر کسی کی حکومت کو خلافت راشدہ کے منھج پہ اہلسنت کے جمہور نے قرار دیا تو وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی حکومت تھی –

یہ ساری باتیں شہریارنقوی جیسوں کے علم میں تھیں لیکن جب ثابت یہ کرنا ہو کہ بچوں سے ریپ جو کرے وہ
سُنی مولوی ہوتا ہے اور جو نہیں کرتا وہ شیعہ مولوی ہوتا ہے، جس مدرسے میں ریپ ہو تو وہ سُنی مدرسہ ہوتا
ہے اور جہاں نہیں ہوتا وہ شیعہ مدرسہ ہوتا ہے –

مجھ پہ

False Balancing in the matter of rape with students in religious seminaries

کا الزام لگانے والے صاحبان بھی اس وڈیو کو شیئر کرتے پائے گئے اور یہاں تک کہ بہت سارے وہ بھی جو مدراس
عربیہ میں بچوں سے ریپ کو یا تو دیوبندی مدرسہ یا تکفیری دیوبندی مدرسہ سے خاص کررہے تھے ( حالانکہ
پہلے بھی وہ غلطی پہ تھے اور وڈیو شیئر کرکے تعریفی انداز میں اور زیادہ غلطی پہ ہوئے)

فرقہ وارانہ ذہنیت چاہے یہ کسی بھی فرقے یا مذھب کے ماننے والوں کے ہاں راسخ ہو اس کا ایک خاصہ اپنے
مخالف فرقے کی مذھبی پیشوائیت اور اُس کی کمیونٹی کے لوگوں پہ کلمہ عموم کے ساتھ جنسیت زدہ حملہ کرنا
اور اُن کو اخلاق باختہ بتلانا ہوتا ہے –

مثال کے طور پہ سُنی اسلام کے ماننے والوں میں جو فرقہ پرست، متعصب سیکشن ہے وہ شیعہ اسلام کے ماننے والوں کو
Demonize

کرنے کے لیے نکاح موقت /متعہ کے تصور کو مسخ کرتا ہے اور ایسے ہی فرقہ پرستی کی آڑ میں شیعہ اسلام کے
ماننے والوں کے ہاں عاشورہ محرم کی رات “شام غریباں” کی مجالس و عزاداری کے خلاف انتہائی سوقیانہ اور
بازاری زبان استعمال کرتا ہے اور یہ انسانیت سوز پروپیگنڈا اتنا شدید ہے کہ سُنی عوام کی اکثریت کے ہاں
شام غریباں کے وقت امام بارگاہیں عشرت گاہوں کا منظر پیش کرتی ہیں ( یقین کریں کلیجہ پھٹ جاتا ہے
اس ذہنیت کا سامنا کرتے ہوئے)

مجھے کبھی یہ بات کہنے اور لکھنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوا کہ پاکستان سمیت سُنی اسلام کی اکثریت
والے معاشروں میں صدیوں سے شیعہ شناخت کو

Marginalization & persecution

کا سامنا رہا ہے اور زمانہ جدید میں تو تکفیری ذہنیت کے غلبے، جیو پالیٹیکس، علاقائی تنازعوں اور پراکسی وار
نے کئی علاقوں میں اس کو شیعہ نسل کُشی کی مہم تک پہنچادیا ہے –

میں نے شیعہ نسل کُشی کے موضوع پہ دنیا بھر کے شیعہ، سُنی، غیر مسلم عالم گیر شہرت کے حامل مختلف علوم
کے ماہرین کے بین الاقوامی تحقیقی مجلوں میں شایع پیپرز کا اردو ترجمہ کرکے، ان کی تدوین کرکے اور آخر میں
مجھ سمیت کئی ایک دوستوں کی مدد سے اکٹھا کیا جانے والا لیٹ اَس بلڈ پاکستان کا 2015 تک شیعہ کلنگ
کا ڈیٹا ایک کتاب میں جمع کیا جو اردو میں اپنے موضوع پہ واحد جامع کتاب ہے –

میں
Ideology of excommunication and Exclusion

“نظریہ تکفیر و خارجیت ”

کا علمی و عقلی و مذھبی دلائل کی بنیاد شدید مخالف ہوں اور اس موضوع پہ لاکھوں الفاظ لکھ چکا ہوں لیکن
میں اس بات کی بھی شدید ترین مخالفت کروں گا کہ کوئی جدید خوارج اور اہل التکفیر کے بارے میں یہ کلیہ بنالے
جو لوطی ہوگا وہ تکفیری یا خارجی ہوگا
ریپ ہو یا پیڈوفیلیا ہو اسے فرقہ وارانہ عینک سے دیکھنے یا نسلی تعصب کی نظر سے دیکھنا ایک حقیقی مسئلے کے حل کی تلاش کرنے کی بجائے اس فعل کے مرتکب ظالموں کو سزا سے بچانا اور سماج کو فرقہ وارانہ جنگ کی آگ میں جھونکنے کے مترادف ہے –


شیئر کریں: