آٹے کی قیمتوں‌ پر مفاد اور انسانیت کا ٹکراؤ

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

ہمارے ہاں کسان اور چھوٹے کاشتکار اپنی ساری زندگی زمین بہتر کرنے میں گزار دیتے ہیں لیکن حکمرانوں
کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے اگلی نسل کو بھی اسی طرح کم وسائل کی چکی میں پسنے کے لیے چھوڑ
جاتے ہیں۔

اس کے برخلاف صنعت کاروں، حکمرانوں اور ان کے بچوں کی زندگی دیکھ لیں۔ مٹی کا سینہ چاک کر کے لوگوں
کی خوراک کے لیے گندم اگانے والے گندم کے ساتھ ساتھ خود بھی ان کی خوراک بن رہے ہیں۔

پاکستان کی طرح بھارت بھی زرعی ملک ہے۔ وہاں پاکستان کی طرح محض رسمی طور پر دھرتی کو ماں نہیں کہتے
بلکہ اپنے عمل سے ثابت بھی کرتے ہیں۔ کسانوں کو کھاد اور بار دانہ پر بھرپور رعایت دی جاتی ہے۔ چھوٹے
کاشتکاروں کو بڑا کرنے کے لیے بجلی بھی مفت فراہم کی جاتی ہے۔

گندم یعنی آٹے ہی کی وجہ سے دنیا بھر میں جنگیں اور لوٹ مار لگی ہوئی ہے۔ پاکستان میں فلور مل مالکان آٹے
ہی کو دولت بڑھانے کا سامان بنا رکھا ہے۔ آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تکلیف دہ مسئلہ پر لکھنے کا خیال رکن
قومی اسمبلی ریاض حسین پیرزادہ سے ملاقات کے دوران آیا۔

عزیزم رمضان ملک کے ساتھ ریاض حسین پیرزادہ کے دولت کدہ بنی گالہ جانے کا اتفاق ہوا۔ ملاقاتیں پہلے
بھی رہی ہیں لیکن اس ملاقات میں موجودہ سیاسی صورت حال کے درمیان مہنگائی کا ذکر بھی نکال آیا۔
مہنگائی کا ذکر کیوں نہیں نکلتا سب ہی اس سے متاثر ہیں۔ مہنگائی اور لوٹ مار میں اہم کردار فلور ملوں
کی جانب سے آئے روز آٹے کی قیمت میں اضافے کا ہے۔

ریاض پیرزادہ نے آٹے پر اپنے والد بزرگوار شاہ نواز پیرزادہ کے جملے دہرائے۔ وہ کہتے تھے کہ ریاض گندم اور آٹا
مہنگا نہ ہونے دینا اپنے سیاسی جماعتوں کے دوستوں سے کہنا آٹے کی قیمت کسی طور نہ بڑھنے پائے۔
آٹے پر پیسے بڑھنے سے گھروں کا بجٹ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ کسی بھی صحت مند شخص کو صبح 2، دوپہر
3 اور رات میں بھی تقریبا 3 روٹی درکار ہوتی ہیں۔ چھ سے آٹھ روٹی ایک شخص کو چاہئیں اور اگر اس کے
گھر میں پانچ افراد ہوں تو پھر اندازہ کرلیں‌کتنی روٹیاں انہیں چاہئیں۔

آٹا مہنگا ہونے کی وجہ سے آج ایک روٹی کی کم از کم قیمت 15 روپے ہے۔ اب آپ خود ہی حساب کرلیں ایک
غریب آدمی تین وقت کی روٹی اپنی کم آمدنی سے کیسے پوری کرے گا۔

ریاض حسین پیرزادہ کے والد شاہ نواز پیرزادہ کو دہشت گردوں نے 15 نومبر 1995 کو خیرپور ٹامیوالی میں
شہید کر دیا تھا۔ شاہ نواز پیرزادہ دور اندیش انسان تھے وہ غریبوں میں سالانہ 200 من زائد گندم تقسیم
کیا کرتے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ اگر غریب یا ضرورت مند کی روٹی کا مسئلہ حل ہو گیا تو پھر باقی
ضرورتیں بھی پوری ہو جایا کرتی ہیں۔

آج کے دور میں کوئی اس جانب توجہ دینے کو تیار نہیں۔ بڑے بڑے کاشتکار اور سرمایہ کار جینے کے لیے
ناگزیر آٹے کی قیمت بڑھا کر انسان سے جینے کا حق بھی چھین رہے ہیں۔ روٹی تو امیر ہو یا غریب اس نے
گندم کے آٹے ہی کی کھانی ہوتی ہے۔ تو پھر آٹے کے نام پر یہ لوٹ مار کیسی؟

شاہ نواز پیرزادہ چونکہ خود زمیندار تھے اس لیے انہیں عام شہریوں اور دیہاڑی دار طبقے کے درد کا
بخوبی اندازہ تھا۔ کاشت کاری سے تعلق رکھنے افراد جانتے ہیں کہ بیساکھ کا مہینہ پنجاب، سندھ اور
کے پی کے میں دیہاڑی دار طبقے سے نعمت سے کم نہیں۔

لوگ ہر قسم کا کام چھوڑ کر گندم کی کٹائی میں مصروف ہوجاتے ہیں کیوں کہ پورے سال کی گندم
جو اکٹھا کرنی ہوتی ہے۔ اس ایک ماہ کے دوران کوئی مزدور گندم کاٹنے کے علاوہ کسی اور مزدوری
کے لیے دستیاب ہوتا ہے۔ حتی کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں مسافروں کی تعداد میں نمایاں کمی آجاتی ہے
کیوں سب دیہاڑی دار گندم کے سنہرے گوشے کاٹنے اور سال بھر کے لیے خاندان کا پیٹ پالنے میں
مصروف ہوتے ہیں۔

گاوں دیہاتوں میں یہ مشہور ہے کہ اگر سال بھر کی گندم جمع ہوجائے تو کم از کم بھوکا نہیں مریں گے۔
مرچ کے ساتھ روٹی کھا کر گزارا کیا جاسکتا ہے مگر گندم ہی نہ ہوگی تو کمائیں گے کیا اور کھائیں گے کیا؟
شہری علاقوں میں دیہاڑی دار اور سفید پوش لوگوں کی صورت حال انتہائی بدتر ہے۔ ہر سال ان کی
مشکلات میں اضافہ کرتا ہے۔

حکومت کم از کم تنخواہ کا اعلان تو ضرور کرتی ہے مگر زمینی حقائق اس سے مختلف ہوتے ہیں۔
مہنگائی میں ہر گزرتے دن اضافہ ہوتا رہتا ہے لیکن آمدن محدود ہی رہتی ہے۔
آٹے کی قیمت میں معمولی سا اضافہ بھی سفید پوش افراد کی جیب پر ایٹم بم بن کر گرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آئے دن بھوک افلاس سے تنگ افراد کی خودکشیوں کے افسوس ناک واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔
شہریوں کی بنیادی ضروریات پورا کرنا ریاست کا فرض ہوتا ہے۔ ریاست کو اپنی پالیسیز کے ذریعے
ترجیحات کا تعین کرنا ہوتا ہے۔

زمینداروں اور کسانوں کی بہت بڑی تعداد ہر سال گندم کی قیمت میں اضافے کے خلاف ہے۔ کسانوں کے
اس رجحان اور سوچ سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں انسانیت آج بھی زندہ ہے۔ جس طرح دیہاڑی
دار طبقہ مہنگائی سے پریشان ہے اسی طرح کسان بھی برے حالات سے دو چار ہیں۔

زراعت سے ملک کی ساٹھ فیصد آبادی کا براہ راست روزگار وآبستہ ہے۔ اگر حکومت کسانوں کی سبسڈی،
ٹریننگ، اچھے بیج، موثر سپرے اور جدید آلات فراہم کرے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ کسان خوش حال
رہے گا اور گندم کی قیمت بھی نہیں‌ بڑھے گی۔


شیئر کریں: