مسیحاوں کے روپ میں کچھ بھیڑیے کیسے شامل ہو گئے؟

شیئر کریں:

تحریر بینش کاظم

کہتے ہیں کہ ڈاکٹر میسحا ہوتے ہیں یعنی یہ مانا جاتا ہے کہ اگر کسی مرتے بندے کی جان کوئی بچا سکتا ہے تو وہ ڈاکٹر ہے۔ لوگ تو ڈاکٹروں کو عزت دیتے ہیں ڈاکٹروں سے یہ امید رکھتے ہیں کہ ڈاکٹر ان کا مریض جلد صحت یابی کی طرف لے جائے گا اس کی زندگی بھی بچا لے گا اور ایسا ہوتا بھی ہے کہ ڈاکٹر مرتے بندے کو بچا لیتے ہیں۔
مگر آج کے اس دور میں اس مسیحا نے اپنا ضمیر مار دیا ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ یہ مسیحا بے حث ہو چکا ہے تمام سرکاری و پرائیوٹ اسپتالوں میں انسانی جانوں کی اب بولیاں لگتی ہیں قیمتیں لگائی جاتی ہیں مسیحائی کی آڑ میں گندہ دھندہ کیا جاتا ہے۔
وہ ڈاکٹر جس کے ہاتھ میں اللہ نے شفا رکھی ہے اج وہ خود انسانی جانوں کا قتل عام کر رہا ہے صرف پیسہ کمانے کی آڑ میں۔ جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا نشتر اسپتال جہاں پر ڈاکٹروں نے غریب مریضوں اور ان کے لواحقین کو اپنی رعایا سمجھ لیا ہے۔
میں یہ تحریر اس لیے لکھ رہا ہوں تاکہ معاشرہ بھی جانے کہ اسپتالوں میں کیا ہو رہا ہے۔ نشتر اسپتال کے گائنی وارڈ سب سے زیادہ خون کئ ہولی کھیل رہے ہیں۔ مسیحا نذیر نامی ایک نوجوان کی بیوی اسپتال میں داخل ہوئی جس کی حالت انتہائی خراب تھی موت اور زندگی کی کشمکش میں تھی پہلے دن ڈاکٹروں نے اس غریب شخص کو بولا کہ تماری بیوی کا بلڈ گروپ بی پوزیٹو ہے جس پر اس نے بی پوزیٹو گروپ ارینج کر کے ڈاکٹروں کو دیا۔

ڈاکٹرز نے وہ بلڈ گروپ اس کی بیوی کو لگا دیا مگر اگلے ہی روز ڈاکٹروں نے اس غریب روتے ہوئے نوجوان کے ہاتھ میں o پوزیٹو بلڈ گروپ کی پرچی پکڑا دی کہ یہ بلڈ چھ بوتلیں ارینج کر کے دو ورنہ تماری بیوی کا اپریشن نہیں ہو سکتا۔
نوجوان نے پوچھا کہ کل تو بی پوزیٹو تھا میری بیوی کا بلڈ گروپ اج او پوزیٹو کیسے ہو گیا تو ڈاکٹروں نے کہا کہ وہ غلطی سے تماری بیوی کو غلط خون لگا دیا تھا وہ بیچارہ پاگلوں کی طرح نشتر اسپتال میں دربدر کی ٹھوکریں کھاتا رہا مگر اس کی یہ فریاد کوئی سننے والا نہیں تھا۔
ادھر بیوی موت کے منہ میں چلی گئی ادھر مسیحا ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر سکون کرتے رہے کہ اچانک اس روتے ہوئے پریشان بے حال نوجوان نے اپنے بوس کو فون کیا جہاں وہ کام کرتا تھا فیصل الرحمان اور میاں طیب شریف نشتر اسپتال پہنے اور سارا معاملہ خود دیکھا اور اپروچ کی یہ بلڈ گروپ غلط مانگ رہے ہیں جس پر ڈاکٹروں نے معزرت کی اور اس لڑکی کا اپریشن کیا اور زندگی بچا لی نہ جانے ایسے کتنے نذیر نامی نوجوانوں کی بیویاں بہن بیٹیاں نشتر اسپتال سمیت دیگر گائنی وارڈ میں ان مسیحاوں کی فرعونیت سے زندگی کی بازی ہار جاتی ہو گی۔
کون ہے جو ان غریبوں کے درد پر مرحم رکھے گا؟ کس ڈاکٹر کو بلڈ کی چھ بوتلوں کی ضرورت تھی بہت سے سولات جنم لیتے ہیں نہ جانے کب یہ نظام ٹھیک ہو گا؟


شیئر کریں: