سانحہ ماڈل کی گتھ سُلجھ پائے گی؟

شیئر کریں:

تحریر عامر حسینی

سانحہ ماڈل ٹاؤن کو سات سال گزر گئے 14 مقتول اور 50 زخمی ہونے والوں کے خاندان اب تک انصاف کی راہ تک رہے ہیں؟
سات سالوں میں اس سانحہ کے حوالے سے کئی سوالات زہن میں پیدا ہوتے ہیں؟

اگر یہ سانحہ “سلیکٹرز” کی کسی سازش کا شاخسانہ تھا تو نواز لیگ اس سانحے میں مقتولین کے ورثا کی طرف
سے نامزد افسر شاہی کے لوگوں کو کیوں ایف آئی آر میں شامل کرنے سے گریزاں رہی؟

اپنے ہی قائم کردہ جوڈیشل انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو شایع کرنے اور اس کو پبلک کرنے سے کیوں گریزاں
رہی؟ اگر جسٹس باقر نجعفی نے رپورٹ “سلیکٹرز” کے مطابق مرتب کی تھی تو وہ جسٹس آج “سلیکٹرز” اور سلیکٹڈ کی منشا کے برخلاف شہباز شریف کی ضمانت کیوں منظور کرتا ہے؟ مریم نواز شریف کو دس دن پہلے گرفتاری کے فیصلے سے آگاہ کرنے کا حُکم نیب کو کیوں صادر کرتا ہے؟

کیا مسلم لیگ نواز کی پنجاب اور وفاق میں حکومت کے اندر یا کچن کیبنٹ میں کوئی ایسا بندہ تھا جو
نواز – شہباز سے ایسے فیصلے کروارہا تھا جو سلیکٹرز سے ہدایات لیتا ہو؟

کچھ سوالات وہ ہیں جو #سلیکٹڈ کے آنے کے بعد سلیکٹڈ کے اقدامات سے پیدا ہوئے:

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے واقعے کے وقت پنجاب کا ھوم سیکرٹری اعظم سلیمان خان نواز شریف کے دور ہی میں
ترقی پاکر 2017ء میں وفاقی سیکریٹری داخلہ بنایا جاتا ہے-

2018ء میں نگران حکومت کے دور وہ سندھ کا چیف سیکرٹری بنایا جاتا ہے اور پھر سلیکٹڈ اُسے پنجاب کا چیف سیکرٹری بنادیتا ہے- اور یہی سلیکٹڈ بعد ازاں اُسے پھر وفاقی سیکرٹری داخلہ بناتا ہے – اور ریٹائرمنٹ کے بعد وہ صوبائی محتسب پنجاب بنایا جاتا ہے ہے جس پہ وہ آج تک وہاں فائز ہے-

سلیکٹڈ کے دور میں اعظم سلیمان خان کے اس طرح سے ترقی پانے کے پیچھے کارفرما عناصر پہ جو افواہیں گردش کرتی ہیں اُن میں ایک اعظم سلیمان خان کا فوجی پس منظر بھی ہوتا ہے:

عوام کے سامنے یہ بات آتی ہے کہ اعظم سلیمان خان چیف آف آرمی اسٹاف کا دوست، بیج میٹ رہا ہے اور پنجاب میں اُسے سلیکٹڈ نے چیف سیکرٹری پھر وفاقی سیکرٹری برائے داخلہ مبینہ طور پہ انہی کی سفارش پہ بنایا گیا –

سانحہ ماڈل ٹاؤن میں بیوروکریسی میں دوسرا بڑا نام سابقہ ڈی ایم جی گروپ کا طاقتور نام ڈاکٹر سید توقیر شاہ کا سننے میں آتا رہا جو شہباز شریف کے پرنسپل سیکرٹری کے طور پہ کام کررہے تھے –

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے حکم پہ پولیس نے آپریشن کیا اور ڈاکٹر توقیر شاہ شہباز شریف کی ناک کا بال تھے اور سیاہ سفید کے مالک سمجھے جاتے تھے – نواز لیگ کے دور میں سلیکشن اینڈ پروموشن بورڑ نے ان کو 21 ویں گریڈ میں ترقی دے ڈالی –

ان کو شہباز شریف نے آخری وقت تک تحفظ دیا اور پھر یہ ملک چھوڑ کر چلے گئے –

تحریک انصاف سے ریاستی انصاف تک

تحریک انصاف کی حکومت میں ہی اچانک ڈاکٹر توقیر شاہ دوبارہ منظر پہ آئے اور سلیکٹڈ کی مہربانی سے یہ این ایچ ایس میں ایڈیشنل سیکرٹری بنتے ہیں اور ڈاکٹر طاہر القادری کی پی ایم عمران کو فون کال پہ وہ عہدے سے ہٹادیے جاتے- اب تک او ایس ڈی تو ہیں لیکن کار سرکار میں ان کی اب بھی چل رہی ہے –

یہاں ایک سوال یہ جنم لیتا ہے کہ توقیر شاہ کے معاملے پہ جیسے پی ایم سے طاہر القادری نے وزیراعظم سے براہ راست بات کی لیکن اعظم سلیمان خان کی بابت ایسا کچھ نہیں کیا گیا کیوں؟

سانحہ ماڈل ٹاؤن جب ہوا تو پنجاب پولیس کے بہیمانہ ایکشن کا جواز وزیر داخلہ و وزیرقانون رانا ثناء اللہ نے پیش کیا تھا اُن کے خیال میں منھاج القرآن اور پی اے ٹی کے سربراہ اور کارکن آئین اور قانون کو چیلنج کررہے تھے، حکومتی رٹ کو تباہ کرنے پہ تُلے بیٹھے تھے –

سانحہ ماڈل ٹاؤن پہ پاکستان عوامی تحریک انتظامی اور عدالتی سطح پہ پیش آنے والی مشکلات کے خلاف سیاسی میدان میں مزاحمت کرنے کے کا فیصلہ کیا- ایف آئی آر کے اندراج کے لیے دباؤ بڑھانے کے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے، اس پہ اے پی سی بلاکر غور کیا-

اس اے پی سی میں اپوزیشن کی جو سیاسی جماعتیں شریک تھیں ان میں مذھبی جماعتوں کو چھوڑ کر (ایم ڈبلیو ایم، سُنی اتحاد کونسل) سیکولر سیاسی جماعتوں خاص طور پہ پی پی پی نے اصولی موقف دیا کہ احتجاج اور دھرنا پنجاب لاہور میں ہونا چاہیے اور کسی غیر منتخب طاقت کو مدد کے لیے نہیں بلانا چاہیے –

طاہر القادری بھی عمران خان مخالف

ڈاکٹر طاہر القادری نے پی پی پی کی تجویز نہ مانی، وہ اسلام آباد چلے گئے، اُن سے اتفاق کرنے والوں میں پی ٹی آئی، مسلم لیگ ق، مجلس وحدت المسلمین، سُنی اتحاد کونسل، ایم کیو ایم پاکستان تھیں-

پھر ڈاکٹر طاہر القادری کا اسلام آباد دھرنا ایف آئی آر کے اندراج کے لیے احتجاج حکومت گرانے کے ایجنڈے میں بدلا-

پارلیمنٹ ہاؤس، ایوان وزیراعظم ہاوس، پی ٹی وی عمارت پہ حملوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے زمہ داران کے خلاف ایک کراس ایف آئی آر کے ساتھ ڈاکٹر طاہرالقادری اور اُن کے کارکن واپس آئے –

طاہر القادری اور اُن کی پارٹی کے ساتھ ایسا لگتا ہے جیسے سلیکٹرز نے ہاتھ کیا، سلیکٹرز کو شاید پہلے دن سے پتا تھا کہ نواز لیگ اور نواز شریف کو کمزور بنانے کے لیے اسلام آباد پہ چڑھائی کے لیے جس مضبوط منظم تنظیمی نیٹ ورک کی ضرورت ہے اور جتنی افرادی قوت درکار ہے وہ صلاحیت اور اھلیت اکیلے عمران خان میں نہیں ہے – اُن کا خیال تھا کہ “سانحہ ماڈل ٹاؤن” سے متاثرہ پی اے ٹی، منھاج القرآن اور ان کا تعلیمی نیٹ ورک اور ہمدردوں کی وجہ سے اتنی بڑی تعداد میں لوگ اسلام آباد میں جمع ہوجائیں گے جس سے حکومتی تختہ الٹنے میں آسانی ہوجائے گی – لیکن ایک تو افراد کی مطلوبہ تعداد اکٹھی نہ ہوسکی، صرف پی اے ٹی کی وجہ سے دھرنا 126 دن چل بھی گیا- دوسرا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے سلیکٹرز کے پروگرام اور منصوبے میں کھنڈت ڈال دی –

مجھے نجانے کیوں یہ شک پڑتا ہے کہ طاہر القادری کو 126 دن کے دھرنے کے دوران یہ احساس اچھے سے ہوگیا تھا کہ اسلام آباد میں چل رہے اس ہائی فائی ڈرامے میں ان کا اور ان کے کارکنوں کا کردار “سہولت کار” سے زیادہ نہیں ہے – اس لیے وہ ایک کمزور ایف آئی آر کے ساتھ واپس آئے، چند دن انھوں نے پنجاب میں لاہور کے اندر احتجاج منظم کیا اور پھر وہ کینیڈا چلے گئے – اور اس کے بعد انہوں نے انتخابی سیاست سے ایک بار پھر دستبرادری اختیار کی، الیکشن میں حصہ تک نہ لیا-

سلیکٹرز کی مدد سے سلیکٹڈ کے برسراقتدار آنے کے بعد پنجاب اور وفاق میں حکومتوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مبینہ کرداروں میں سے ہائی فائی بیوروکریٹس اور پولیس افسران کو ترقیاں دیں، اہم عہدے دیے یا پھر ان کو ہاتھ بھی نہ لگایا-

اعظم سلیمان خان کے معاملے میں تو سلیکٹڈ نے جو کیا وہ اپنی مثال آپ ہے، سلیکٹڈ کی نظر میں اُس جیسا بہترین صلاحیتوں کا مالک بیوروکریٹ کوئی اور تھا ہی نہیں –

سیکورٹی اداروں اور انٹیلی جنس ادارو‍ں کے ماوراء قانون، عدالت اقدامات کو کنٹرول کرنے اور زمہ داران کو سزا دینے کے جو دعوے سلیکٹڈ کینٹینر پہ دیتے رہے وہ سلیکٹ ہونے کے بعد کہاں گئے؟ سانحہ ساھیوال نے تو پنجاب میں ایسا ہونے کی ہر امید ہی توڑ دی-

لیکن میرے ذہن میں ایک سوال بڑی شدت کے ساتھ سر اٹھاتا ہے:

ڈاکٹر طاہر القادری اے آر ڈی کی تشکیل کے لیے جی ڈی اے کے منعقدہ اجلاس میں نواز لیگ کی شمولیت کے خلاف احتجاج کرکے جی ڈی اے سے نکلے اور انھوں نے جنرل مشرف کی حمایت کردی، ریفرنڈم کی حمایت کی اور الیکشن میں ایک نشست کے ساتھ کنگ لیگ ق لیگ کے ساتھ حکومتی بنچ میں بیٹھے اور مشکل سے دو سال اسمبلی میں رہ کر مستعفی ہوگئے اور مشرف اُن کے خوابوں کا قاتل نکلا-

لیکن وہ نجانے کیوں نواز لیگ کے خلاف ایک بار پھر پاور پالیٹکس میں سرگرم ہونے کے لیے ایک ایسے وقت میں تحریک انصاف، مجلس وحدت المسلمین، سُنی اتحاد کونسل، ایم کیو ایم پاکستان، جی ڈی اے سندھ کے ساتھ کیوں اشتراک میں آئے جب پی ٹی آئی پہ سلیکٹرز کے ہاتھ کی کہانی سب کو معلوم ہوچکی تھی اور پورے پاکستان سے سلیکٹرز اپنے گھوڑے پی ٹی آئی میں داخل کررہے تھے؟

کیا طاہر القادری اتنے ہی ناسمجھ تھے کہ وہ ایسے سلیکٹرز سے ماورائے عدالت و قانون عمل کرکے لاشیں گرانے والے سیکورٹی افسران کے خلاف کاروائی یقینی بنانے کا مطالبہ کررہے ہیں جو خود بلوچستان، سندھ، کے پی کے، سابق فاٹا میں یہی کچھ کرنے میں ملوث تھے اور عدالتیں اُن کے ماورائے قانون اقدامات پہ اُن کو سزا دینے سے قاصر تھیں؟

ڈاکٹر طاہر القادری نے 17 جون 2014ء میں ماڈل ٹاؤن میں ریاستی جبر و دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد اور احتجاج کو بلوچستان، سندھ، سابق فاٹا، کے پی کے میں چلنے والی سماجی تحریکوں، متاثرہ نسلی و مذھبی و سیاسی گروہوں کی جدوجہد کے ساتھ کیوں نہ جوڑا؟

وہ منتخب ہئیت مقتدرہ کے ایک گروہ یعنی مسلم لیگ نواز کے خلاف جس قدر جدوجہد کرتے نظر آئے، اسٹریٹ پاور کو استعمال کرتے پائے گئے، غیر منتخب ھئیت مقتدرہ کی مداخلتوں، اختیارات سے تجاوز، انسانی حقوق کی پامالی، کئی ایک علاقوں میں جاری نوآبادیاتی طرز انتظام، آزادی صحافت، آزادی رائے پہ قدغن، کالے قوانین کا زبردستی نفاذ جیسے معاملات پہ وہ خاموش رہے بلکہ عام آدمی کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ ان معاملات پہ اُن کا موقف کیا ہے؟

ڈاکٹر طاہر القادری کی خاموشی اپنی جگہ لیکن اتنی بات درست ہے کہ دھرنے سے واپسی کے بعد وہ کم از کم سلیکٹرز کے سلیکٹڈ اور اُن کے مددگاروں سے سے الگ ہوگئے، انہوں نے بغاوت کا راستا تو نہ اپنایا (شاید وہ یہ سمجھتے ہیں اگر وہ سلیکٹرز سے کھلی جنگ کی طرف جاتے تو ان کے تعلیمی، سماجی، مذھبی نیٹ ورک اور ادارہ جاتی سیٹ اَپ کے ساتھ وہ ہوسکتا تھا جو ترکی میں فتح اللہ گولن کے ساتھ ہوا تھا….. یہ بات طے ہے ڈاکٹر طاہر القادری کوئی لڑائی غیر منتخب ہیئت مقتدرہ سے بالکل نہیں چاہتے اور پنجاب کی سیاسی ایلیٹ میں وہ نواز لیگ کے ساتھ تو قطعاً نہیں چلیں گے – پی ٹی آئی کے ساتھ چلنا نہیں چاہتے کیونکہ وہ امید پہ پورا نہیں اتری ، ق لیگ کے ساتھ نرم گوشہ موجود ہے اور پی پی پی کے لیے بھی جگہ موجود ہے –

ڈاکٹر طاہر القادری کو ایک بات اچھے سے معلوم ہے کہ اب سانحہ ماڈل ٹاؤن کی گتھی کبھی سلجھے گی نہیں جیسے اس جیسے دیگر سانحات کی نہیں سلجھی ہے –


شیئر کریں: