آزاد جموں و کشمیر میں تحریک انصاف حکومت بنائے گی، خبروالے کا سروے

شیئر کریں:

آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کی تاریخ 25 جولائی جیسے جیسے قریب آرہی ہے کشمیری رہنما اپنے اپنے
علاقوں میں دیکھائی دینے لگے ہیں۔ موجودہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان آئندہ انتخابات میں فتح کے
دعوے کر رہے ہیں۔ اسی طرح تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی بھی کامیابی کی تمنا لیے میدان ہے۔ سیاسی
جماعتوں کے دعوؤں کی حقیقت جاننے کے لیے خبر والے نے آزاد و جموں کشمیر کے حلقوں میں سروے کیا
کہ کس جماعت کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کس ڈویژن میں کون سی جماعت
میدان مارسکتی ہے۔

مظفر آباد ڈویژن سے کون جیتے گا؟

مظفرآباد ڈویژن میں دو بڑی جماعتوں کے صدور (پیپلز پارٹی اور ن لیگ) بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اس وقت
ان 9 نشستوں میں سے 4 سے 5 پاکستان تحریک انصاف، 2 سے 3 پاکستان پیپلز پارٹی اور ایک سے 2
نشستیں ن لیگ لیتی نظر آرہی ہے۔
یاد رہے 2016 کے انتخابات میں اس ڈویژن میں 7 نشستیں تھیں تو ن لیگ نے کلین سویپ کیا تھا۔ یہی وجہ
تھی کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے اگلے ہی دن مظفرآباد پہنچ کر جلسہ عام سے خطاب کرتے
ہوئے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ اب اس ڈویژن میں ن لیگ نہ ہونے کے برابر نظر آرہی ہے۔

آزاد کشمیر کے عام انتخابات،21 جون سے 25 جولائی تک کیا ہوگا؟

پونچھ میں کیا ہوگا؟

اسی طرح پونچھ کے 5 حلقوں میں سے 2 پر ن لیگ بھاری دکھائی دیتی ہے۔ پیپلز پارٹی ایک اور جموں و کشمیر
پیپلز پارٹی بھی ایک ہی نشست نکالنے میں کامیاب ہوگی کیونکہ تحریک انصاف بھی ان کے امیدوار کی حامی
ہے اور تحریک انصاف یہاں سے ایک اور نشست بھی حاصل کرسکتی ہے۔

ضلع پلندری کی دو نشستوں میں ایک ن لیگ اور دوسری نشست تحریک انصاف لے سکتی ہے۔ ضلع باغ
کے 3 حلقوں میں سے 1 مسلم کانفرنس, 1 تحریک انصاف اور 1 پیپلز پارٹی نکالنے کی پوزیشن میں ہے۔

آزادکشمیر کے سب سے حساس حلقہ ضلع حویلی میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا سخت مقابلہ ہے۔ اس حلقے میں
ریاست کے کئی دیگر حلقوں کی طرح برادری کی بنیاد پر ووٹ پڑتے ہیں۔ اِس وقت تک پیپلز پارٹی زیادہ
مضبوط نظر آرہی ہے۔

کوٹلی کے 6 حلقوں میں سے 2 حلقوں میں تحریک انصاف، ایک پیپلز پارٹی، ایک مسلم کانفرنس، ایک ن لیگ
اور مزید ایک حلقے کا نتیجہ ن لیگ یا تحریک انصاف میں سے ہی کسی کے پلڑے میں جائے گا۔

بھمبر کے 3 حلقوں میں سے 1 تحریک انصاف اور 1 پیپلز پارٹی نکالنے میں کامیاب ہوگی۔ ایک نشست میں مسلم
لیگ ن اور تحریک انصاف میں کانٹے کا مقابلہ ہے۔

میرپور کے 4 حلقوں میں دو سابق وزرائے اعظم بھی میدان میں ہیں یہاں سے 2 تحریک انصاف، 1 پیپلز پارٹی
اور 1 نشست مسلم لیگ ن نکالنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔

تحریک انصاف سب سے زیادہ نشستیں لے گی

مجموعی طور آزادجموں و کشمیر کی 33 نشستوں میں سے 14 سے زائد نشستیں تحریک انصاف، 8 سے 9
پیپلز پارٹی اور 2016 میں رکارڈ الیکشن جیتنے والی ن لیگ بمشکل 7 سے 8 نشستیں حاصل کرتی نظر آرہی
ہے۔ یعنی حکومت تحریک انصاف اور اپوزیشن میں پی ڈی ایم سے علیحدہ ہونے والی پیپلز پارٹی کی
نظر آرہی ہے۔
ان کے علاوہ ریاستی جماعت مسلم کانفرنس 2 اور ایک نشست جموں وکشمیر پیپلز پارٹی بھی لیتی دکھائی دیتی ہیں۔

مہاجرین کے ووٹوں کی اہمیت زیادہ ہو گی

جہاں ایک جانب ریاست میں موجود 33 حلقوں کے 28 لاکھ سے زائد ووٹ ہیں وہی دوسری جانب مہاجرین
مقیم پاکستان کے 12 حلقوں میں ووٹرز کی کل تعداد 4 لاکھ 3 ہزار 456 ہے۔ یہاں کے انتخابی حلقوں کےووٹ
2ہزار 4 سو سے لے کر 95 ہزار تک ہیں۔ ان حلقوں میں کس کا پلڑا بھاری ہوگا یہ کہنا قبل از وقت ہے مگر
یقیناً یہ حلقے ریاستی حکومت بنانے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ہیں۔

یاد رہے مہاجرین جن علاقوں میں آباد ہیں وہ اِن علاقوں میں مقامی بلدیاتی نمائندوں سمیت صوبائی اور قومی
اسمبلی کی نشستوں کے امیدواروں کو بھی ووٹ دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ ملک کے وہ خوش نصیب ووٹرز ہیں
جو آزادکشمیر میں بھی ووٹ پول کرتے ہیں۔ صوبائی اسمبلیوں سمیت وفاق میں بھی اپنا حق رائے دہی استعمال
کرتے ہیں اور آزادکشمیر کی آمدہ حکومت کا دارومدار بھی انہی ووٹرز پر ہو گا۔


شیئر کریں: