اورنگ زیب: نوآبادیاتی اور مابعد نوآبادیاتی بیانیوں میں پھنسا ہوا مغل حکمران

شیئر کریں:

تحریر عامر حسینی

“نام نہاد آخری عظیم مغل اورنگ زیب نے گھڑیال کی سوئی الٹی چلانے کی کوشش کی ، اس کوشش میں اس نے
گھڑیال ہی روک دیا اور اسے توڑ دیا” جواہر لال نہرو

“تقسیم کے بیج اسی وقت بو دیے گئے تھے جب اورنگ زیب نے اپنے بھائی داراشکوہ پہ فتح پائی”
شاہد ندیم پاکستانی ڈرامہ لکھیک

“اورنگ زیب نے ایک ایسی مفتوح ریاست پہ حکمرانی کی جہاں پہ ہندؤں نے سب سے زیادہ ناخوشی کے
ساتھ اس کی حکمرانی قبول کی تھی” محمد علی جناح

Aurangzeb, who took on the title of Alamgir (“the seizer of the world”), was no exception. His actions were in accordance with what he imagined to be that of an effective and equitable ruler’s. His understanding of justice was never meant to live up to postmodern notions of human rights. To impose on him the standards of the modern world is to thus make a grave historical error. He remained a truly Machiavellian ruler in the classic sense of the term, drawing on The Prince, a treatise by the Italian diplomat Niccolò Machiavelli who advised rulers to imbibe cunning in their personal conduct and art of statecraft. (Aurangzeb: The Man and the Myth)


کل رات جب میں امریکی پروفیسر ڈاکٹر آڈری ٹروشکے کی کتاب ” اورنگ زیب: دا مین اینڈ دا مائتھ ” کا اردو ترجمہ ”
اورنگ زیب: ایک شخص اور فرضی” قصّے پڑھ رہا تھا تو چند گھنٹے پہلے پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے
چیف جسٹس گلزار نے کراچی میں ہندؤ برادری کے 716 مربع فیٹ دھرم شالہ کی عمارت کوگرانے سے روک دیا
اور کمشنر کراچی کو اس عمارت کو اپنے قبضے میں لیکر اس کی اصل حالت برقرار رکھنے کے لیے احکامات جاری
کرچکے تھے۔

یہ دھرم شالہ 1932ء میں نیپئر روڑ صدر کراچی میں تعمیر کیا گیا تھا جسے متروکہ املاک وقف بورڈ نے لیز پہ
دیا اور اس کوگراکر پلازہ بنانے کی اجازت دے دی تھی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا یہ حکم نامہ تسلی بخش بھی
ہے اور پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کی یادگار عمارتوں کے تحفظ کی طرف احسن اقدام بھی ہے۔

کاش کے اس ملک میں ہندؤ اور مسیحی لڑکیوں سے جبری شادی اور جبری تبدیلی مذہب کی روک تھام بھی
ہوسکے۔ اس دوران متروکہ املاک ٹرسٹ بورڈ کے چئیرمین نے سپریم کورٹ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے
کی کوشش کرکے اس عمارت کو غیرمذہبی عمارت بتلانے کی کوشش کی جسے سپریم کورٹ نے مسترد کردیا۔
ابھی تک متروکہ املاک ٹرسٹ بورڈ وفاقی حکومت کا ادارہ ہے اور حال ہی میں حکومت سندھ نے اسمبلی
سے متروکہ املاک وقف بورڈ سندھ بنانے کا بل پاس کرایا ہے جس کے بعد ہوسکتا ہے ہے مذہبی اقلیتوں
کے مقدس مقامات جو متروکہ املاک ٹرسٹ بورڈ کے پاس سندھ میں ہیں ان کا تحفظ کیا جاسکے گا۔

خیر یہ تو چند جملے غیر معترضہ آغاز میں آگئے جبکہ میرا مقصد تو ٹروشکے کی کتاب کے اردو ترجمہ
پہ بات کرنا ہے۔

اورنگ زیب عالمگیر کی وجہ شہرت

اورنگ زیب عالمگیر مغلیہ سلطنت کے چھٹے جکمران تھے اور آج تک ان کا ذکر جنوبی ایشیا اور برطانیہ میں
مغلیہ سلطنت کے ایک ایسے حکمران کے طور پہ ہوتا ہے جسے بڑی نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سیکولر،
لبرل اور بائیں بازو کے اب تک جتنے بیانیے اورنگ زیب عالمگیر کے بارے میں‌مرتب ہوئے ان میں اورنگ زیب
کو کٹّر مذہبی بنیاد پرست، فرقہ پرست اور قابل نفرت حاکم کے طور پہ پیش کیا جاتا ہے۔

ہندوستان میں ہندو دایاں بازو (آر ایس ایس، وشوا ہندؤ پریشد، بھارتیہ جنتا پارٹی والے زیادہ شد و مد کے ساتھ )
اورنگ زیب کو ہندؤ مذہب، سنسکرت زبان اور ہندوستانی کلچر کو ناش کرنے والے حکمران کے طور پہ پیش
کرتے ہیں۔ اسے مندروں، سمادھیوں کا دشمن بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ بلکہ آر ایس ایس والے تو مسلمانوں کو
“اورنگ زیب کی اولاد” کہہ کر پکارنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

اورنگزیب پر مسلمانوں‌ کی سوچ

مسلمان دایاں بازو اورنگ زیب کے بارے میں دو طرح کی تقسیم کا شکار ہے۔

ایک طرف تو صلح کل کے فلسفے اور وحدت الوجودی صوفی اور شیعہ مسلمان ہیں جو اورنگ زیب سے
نفرت کرتے ہیں اور اسے صلح کلیت کے صوفیانہ کلچر اور فکر کا مخالف سمجھتے ہیں جبکہ شیعہ مسلمان
داایاں بازو کے دانشور اسے اینٹی شیعہ اور شیعہ رسوم و رواج کا کٹرسنّی مسلمان مغل حکمران سمجھتے ہیں۔

دوسرا مسلمان دایاں بازو وہ ہے جسے ہم سنّی اسلام میں کٹر پنتھی رجحان کہہ سکتے ہیں۔ اس میں زیادہ تر
صوفی سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ، متاخر قادریہ ، دارالعلوم بریلی اور دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم بدایوں سے
وابستہ سنّی حنفی مذہبی پیشوایت اور غیر مقلدین المعروف اہل حدیث مذہبی پیشوایت شامل ہے ان کے
نزدیک مغل حکمران اورنگ زیب دین اسلام کو ہندوستان میں زندہ کرنے والا تھا اور نام نہاد دین اکبری کو
نیست و نابود کرنے والا تھا۔
وہ اسے بدعتی اور گمراہ و مرتد فرقوں کے خلاف زبردست اقدامات اٹھانے والا سمجھتے ہیں۔ اور یہ تمام کے
تمام گروہ اورنگ زیب عالمگیر کو شیخ احمد سرہندی(مجدد الف ثانی) کی تعلیمات کا سچا پیرو جانتے ہیں۔
اور یہ بعد ازاں شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ، شاہ اسماعیل دہلوی ، سید احمد بریلوی اور اس
کے بعد دارالعلوم دیوبند کے ریفارمسٹ رجحان اورنگ زیب عالمگیر کے ورثے سے جوڑتے ہیں۔

کیا ہی دلچسپ بات ہے کہ دارالعلوم بریلی کی بنیاد رکھنے والے مولانا احمد رضا خان فاضل بریلی جو قادریہ
سلسلے سے وابستہ تھے کی نسبت سے بریلوی کہلانے والے مذہبی پیشوا بھی اپنے آپ کو اورنگ زیب کے بارے
میں اسی بیانیے کے ساتھ ہم آہنگ نظر آتے ہیں حالانکہ دیوبند مدرسہ تحریک اور اہلحدیث تحریک ان کو
بدعتی و شرک پرست قرار دیتی ہیں۔

برصغیر میں پان اسلام ازم کی جدید تحریکیں جن میں مولانا ابوالکلام آزاد کا کانگریس میں شمولیت سے قبل
رجحان، مولانا مودودی کی جماعت اسلامی کے تحت پھوٹنے والے تحریک اسلامی کے رجحانات بھی مغلیہ سلطنت
میں اورنگ زیب عالمگیر کو ملوکانہ اسلام میں ایک استثنا کے طور پہ دیکھتے ہیں۔

نوآبادیاتی دور میں احیائے اسلام کی سب سے بلند آہنگ آواز سمجھے جانے والے علامہ محمد اقبال بھی اورنگ
زیب عالمگیر کو “چوں ابراہیم اندریں بتخانہ بود”(بت خانے میں جیسے ابراہیم تھے ایسے ہندوستان/بت خانے
میں اورنگ زیب عالمگیر تھے) سمجھتے تھے۔

اگر ہم سنّی مسلمان قدامت پرست دانش کی اصطلاح کو ٹھیک گردانیں تو اس دانش کے نزدیک اورنگ زیب
محی الدین(دین کو زندہ کرنے والا)، محی سنت ( سنت کو زندہ کرنے والا)، غارت گر بدعت اور
البرق علی الکفرو الضلال(کفر وضلال پہ برق آسمانی) ہے اور اس خیال کے حامیوں میں علامہ اقبال بھی ملتے ہیں۔

اسلامی ادب میں ابو طالب پہ رسائل کا جائزہ

آڈرے ٹروشکے ان ماہرین تاریخ میں سب سے موثر اور بلند آہنگ آواز ہیں جو یہ کہتی ہیں کہ مغلیہ سلطنت
کے چھٹے فرمانروا اورنگ زیب عالمگیر کے بارے میں دائیں، بائیں، سیکولر، لبرل، قدامت پرست اور روشن خیال
بیانیوں کی جڑیں نوآبادیاتی دور اور مابعد نوآبادیاتی بیانیوں میں پیوست ہیں ناکہ ان بیانیوں کی جڑیں خود
اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں پیوست ہیں۔

وہ یوٹیوب پہ موجود ایک لیکچر میں کہتی ہیں کہ اورنگ زیب کی شخصیت اور اس کے بارے میں بیانیے ماضی
کو حال کے زریعے دیکھنے کی بڑی مثال ہیں۔ ان کی مذکورہ بالا کتاب کے سرورق پہ چھپی اورنگ زیب کی تصویر کو اسامہ بن لادن اور داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی سے بدل دیا گیا اور یہ کام ہندؤ فسطائیت کے علمبرداروں نے کیا۔ ان کا خیال ہے کہ اورنگ زیب کو ولن/ راکھشش /یزید میں بدلنے یہ کام برطانوی نوآبادیاتی حکمرانوں نے اپنے مظالم کی پردہ پوشی کرنے اور خود کو اپنے سے پہلے رہ گئے حکمرانوں اور سلطنتوں سے اچھا بتلانے کے لیے شروع کیا۔ برٹش نوآبادیاتی حکمرانوں نے اس مقصد کے لیے سب سے بڑی مثال اورنگ زیب عالمگیر کی چنی۔ پک اینڈ چوز سے کام لیتے ہوئے برٹش سامراجیت نے مسلمان حکمرانوں کی بالععموم اور اورنگ زیب کی بالخصوص اینٹی ہندؤ سرگرمیوں اور اقدامات کو الگ کیا اور ان کو اس کے چہرے پہ چسپاں کردیا۔ برٹش سامراجیت نے اس پراپیگنڈا کو اسکالرشپ کے زریعے سے آگے بڑھایا۔ مثال کے طور پہ 1860 اور 1870 میں ہنری ایلیٹ اور جان ڈاسن نے ایک تصنیفی کام شایع کیا جس کا عنوان تھا

ہندوستان کی تاریخ ان کے اپنے مورخین کی زبانی : محمڈن دور (جلد ہشتم)

بہت سے لوگوں نے اسے غلطی سے ہندوستان میں مسلم حکمرانوں کے دور بارے تاریخ کا ابتدائی ماخذ سمجھ لیا کیونکہ اس میں اس دور کے کئی ابتدائی ماخذ ترجمے کے نام پہ مواد شامل کیا گیا تھا جبکہ ان لوگوں نے ابتدائی ماخذ کی طرف جاکر ان ترجموں کو ان سے ملاکردیکھنے اور ٹھیک یا غلط ہے کا فیصلہ کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ ٹروشکے کہتی ہیں کہ ایک تو اس جلد کے مرتب کرنے والے برٹش سامراجیت کے خدمت گاروں نے چند مخصوص حصوں کو چنا اور ان کا مخصوص انداز میں ترجمہ کیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مسلم حکمران جو تھے وہ انتہائی خوفناک قسم کے آمر تھے۔ انھوں نے اپنے ایجنڈے کو خفیہ نہیں رکھا تھا بلکہ اعلانیہ انہوں نے کتاب کے دیباچے میں اس کا اعتراف بھی کیا۔

ٹروشکے اس بات پہ حیرت کا اظہار کرتی ہے کہ ہندوستان کے قومی آزادی کے رہنماؤں نے اور بعد میں آنے والے ہندوستانی لیڈروں نے اپنے سابقہ نوآبادیاتی آقاؤں کے ہندوستانی مسلم حکمرانوں کے خلاف کیے گئے پروپیگنڈے کی بنیاد پہ ان حکمرانوں کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار جاری رکھا۔ وہ ہندوستان کے پہلے وزیراعظم سوشلسٹ جواہر لال نہرو کی تحریر کا حوالہ دیتی ہیں جس میں وہ اورنگ زیب کو

Austere Puritan and bigoted

قرار دیتے ہیں۔ ٹروشکے پیورٹن جیسی عیسائی پروٹسنٹ اصطلاح کے اورنگ زیب کے لیے استعمال پہ حیرت کا اظہار کرتی ہیں۔ نہرو سمیت بہت سارے ہندوستانیوں نے اورنگ زیب کو ہندوستانی سلطنت کے توڑنے اور اس کو زوال پذیر کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ٹروشکے کا خیال ہے کہ ایسی بات بھی سب سے پہلے برٹش سامراجیوں کے سرکاری مورخ سیٹنلے لین پول نے 1896 میں اپنی کتاب “اورنگ زیب اور مغل سلطلنت کی تباہی ” میں کیا تھا۔

ٹروشکے کہتی ہے کہ اورنگ زیب کو ایک غارت گر سلطنت خونخوار بادشاہ پیش کرنے کی مائتھ برصغیر کے سماج کی بہت سی پرتوں میں گہرے طور پہ جاگزیں ہوئی اور مختلف ادوار میں اس کا اظہار ہوتا رہا لیکن اسے بہت کھل کر ہندؤ نیشنل ازم میں پیش کیا گیا ہے۔ اور جب انھوں نے اورنگ زیب کے بارے میں اپنی کتاب”اورنگ زیب: شخص اور فرضی قصّے ” لکھی اور یہ شایع ہوئی تو اس میں اورنگ زیب جیسا کہ وہ اس کے اپنے ومانے میں نظرآتا ہے جو ہندؤ نیشنل ازم کے علمبرداروں کی پیش کردہ تصویر سے مطابقت نہیں رکھتا تھا تو انہوں نے ٹروشکے کے خلاف مخاذ کھڑآ کرلیا۔

آپ ٹروشکے کا یہ پورا لیکچر اس لنک پہ پڑھ سکتے ہیں

اردو ترجمہ ہندوستان کے دو نوجوان ریسرچ اسکالرز نے کیا ہے – اقبال حسین جامعہ ملیہ دہلی کے فاضل ہیں اور فہد حسین جو ہیں وہ دہلی یونیورسٹی کے اسکول آف اکنامکس کے شعبہ سماجیات کے ریسرچ اسکالر ہیں –

ترجمہ رواں اور شستہ ہے – پوری کتاب میں ایک یا دو پروف کی غلطیاں ہیں اور اغلاط سے محفوظ اردو کتاب کو رکھنا یہ اپنے طور پہ بڑی بات ہے –

یہ دو سال پہلے کی بات ہے جب میں عکس پبلیکیشنز کے ڈائریکٹرز نوفل جیلانی اور محمد فہد کے ساتھ تھا جب ہم سب نے آڈری ٹروشکی کی اس کتاب کا ایک ایک نسخہ خرید کیا تھا –

میں اس سے پہلے آڈری ٹروشکی سے بالکل واقف نہیں تھا- لیکن ان کی انگریزی میں لکھی کتاب پڑھ کر مجھے اُن کی دیگر کتابوں کو پڑھنے میں بھی دلچسپی پیدا ہوئی جن کا تذکرہ ہم کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں –

اورنگ زیب حقیقت میں جو تھا اور بعد میں اُسے جیسا بنایا گیا اُس میں جو فرق ہے ٹروشکی ہمیں اُسی فرق سے آشنا کرانے کی کوشش کرتی ہے-

اورنگ زیب کو برٹش کالونیل دور میں پیدا ہونے والے مغلیہ دور کے تاریخی لٹریچر میں جس طرح سے پیش کیا گیا، اُسی طرح سے مابعدنوآبادیاتی دور میں اورنگ زیب پہ لکھی جانے والی تحریروں میں بھی اُسے پیش کیا جاتا رہا ہے –

دور جدید میں سوشل میڈیا کی آمد سے پہلے اور بعد میں بھی اورنگ زیب کی برٹش دور میں پینٹ کی جانے والی اکثر تاریخوں میں تصویر کو ہی آگے پیش کیا جارہا ہے –

برٹش دور میں ایک طرف تو وہ تھے جو اورنگ زیب کے چند ایک اقدامات کو لیکر اُسے “ہندؤ،ہندؤ کلچر، سنسکرت، سکھ مت اور مسلمانوں میں شیعہ مسلمانوں اور صلح کُل تصوف” کا دشمن بتلاتے ہیں – اُسے مندروں کا دشمن بتایا جاتا ہے-

دوسری طرف وہ ہیں جن کے نزدیک اورنگ زیب ہندوستان میں دین اسلام کو زندہ کرنے والا، بت شکن اور، خالص اسلامی کلچر کو بحال کرنے والا بتاتے ہیں –

آڈری ٹروشکی اپنی کتاب میں ہمارے سامنے سب سے بڑا مقدمہ تو یہ رکھتی ہیں کہ ہمیں اگر اورنگ زیب کے بطور شخص کردار کا افسانہ ترازی سے ہٹ کر جائزہ لینا چاہتے ہیں تو یہ جائزہ ہمیں ہندوستان کی نوآبادیاتی حسیت میں لینے کی بجائے 16ویں اور 17ویں صدی کی تاریخ اور حسیت میں تلاش کرنا ہوگا –

اورنگ زیب کی پینٹنگ جادوناتھ سرکار سے لیکر ابوالکلام آزاد تک اور اس سے آگے پروفیسر حبیب اور پروفیسر عرفان حبیب تک جتنے ترقی پسند اور جتنے قدامت پرست ہیں اُن سب نے نوآبادیاتی دور میں ماقبل نوآبادیاتی دور کو ہندؤ دور اور مسلم دور کی تقسیم کے آئینے میں رکھ کر دیکھا اور فرق صرف اتنا تھا کہ ترقی پسندوں کے نزدیک اورنگ زیب جدید اصطلاح میں بنیاد پرست مذھبی جنونی تھا جس نے اکبر، جہانگیر اور شاہ جہاں کے سیکولر اصولوں پہ استوار مغلیہ سلطنت کو بنیاد پرستانہ اصولوں پہ چلاکر تباہی سے دوچار کردیا –

آڈری ٹروشکی اس سے اتفاق نہیں کرتیں وہ ہمیں مثالوں سے قائل کرتی ہیں کہ اورنگ زیب کے زمانے میں ہندوستان کے اندر ہندؤ سے کہیں زیادہ ہندوستانی باشندوں کی پہچان، جاٹ، راجپوت، مرہٹہ وغیرہ سے ہوتی تھی – اور راجپوت بھی سارے کے سارے میواڑ کے لڑنے والے راجپوٹ راجا کے ساتھ نہ تھے –

آڈری ٹروشکی ہمیں دکن اور بیجاپور کی قطب شاہی ریاستوں کے خلاف اورنگ زیب کی فوجی مہمات بارے شمالی ہندوستان سے جانے والی افواج اور حکام کے خیالات سے آشنائی کراتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ کیسے شمالی ہندوستان سے جانے والے جنوبی ہندوستان کے باشندوں کو غیر اور اپنے سے بہت الگ سمجھتے تھے –

“مثلاً اترپردیش کی کائستھ برادری سے تعلق رکھنے والے بھیم سین سکسینہ نے جن کا خاندان کئی پیڑھیوں سے مغلوں کی خدمات سرانجام دے رہا تھا، بلا تکلف سفر کی سختی، اہل خانہ سے لمبی جدائی کو قلم بند کیا ہے – انھوں نے جنوبی ہند کے باشندوں کی ایک بدیسی کی حثیت سے پہچان کرائی ہے جو اُن کی بیزاری کا باعث تھے“

بھیم سین اپنی روداد میں جنوبی ہند کے باشندوں کی سیاہ رنگت، بھدے پن، موٹے ہونٹ وغیرہ کا زکر کرکے یہاں تک کہہ جاتے ہیں کہ رات کو اگر ان میں سے کسی ایک سے اُن کے لشکریوں کا سامنا ہوجائے تو بیچارے کا ڈر کے مارے دَم ہی نکل جائے –

آڈرے ٹروشکی اورنگ زیب کی سختی اور درشتی کے واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بتاتی ہیں کہ اگر اُس کا سامنا غیر مسلم اور مسلم عیر رشتے داروں کو کرنا پڑا تو خود اورنگ زیب نے اُس درشت پن کے ساتھ سلطنت کے امور و فرائض میں غفلت برتنے پہ اپنے سگے چچا، بیٹوں تک بھی معاف نہیں کیا-

وہ کہتی ہیں کہ اورنگ زیب نے جہاں ہولی، کمبھ میلے، دیوالی، بسنت کے تیوہاروں کو محدود کیا وہیں اُس نے عیدین کے تیوہاروں اور محرم کے جلوس کو بھی محدود کیا، آڈرے ٹروشکی کا خیال ہے اس محدودیت میں مذھبی جذبے کی بجائے لوگوں کی جان کی حفاظت کا خیال کارفرما تھا- تیوہاروں پہ شراب پینے کی ممانعت کے پس پردہ بہت زیادہ نشے میں ہوکر پھوٹ پڑنے والے فسادات اور اُس کے نتیجے میں قتل و غارت گری کو روکنے کا خیال کارفرما تھا-

گجرات کے مہدویہ فرقے کے خلاف کاروائی اور ایسے ہی بوھرہ اسماعیلی شیعہ فرقے کے خلاف کاروائیوں کا سب اُن سے مغلیہ سلطنت کو پیدا ہونے والے چیلنجز تھے اور مصنفہ کا خیال ہے اورنگ زیب کی جگہ اگر اکبر بادشاہ بھی ہوتا تو وہ یہی کرتا –

آڈری ٹروشکی اس کتاب میں شیخ احمد سرہندی (مجدد الف ثانی) کی تعلیمات اور اُن کے مکتوبات میں سے کئی مکتوبات پہ پابندی کا زکر بھی کرتے ہیں جبکہ ہمارے نوآبادیاتی اور مابعد نوآبادیاتی دور کے جو دائیں اور بائیں بازو کے ماہرین تاریخ تو اورنگ زیب کو شیخ احمد سرہندی کا زبردست معتقد بتاتے ہیں بلکہ اورنگ زیب کو مبینہ طور پہ مذھبی جنونی، اینٹی ہندؤ، سکھ اور صلح کُل مسلمان صوفیوں کا دشمن بنانے میں بھی شیخ احمد سرہندی کی تعلیمات کے اثر کو ہی سب سے بڑی وجہ بتاتے ہیں لیکن تاریخی حقائق اس افسانے کی تصدیق نہیں کرتے –

شیخ احمد سرہندی کی شخصیت اور ان کے اپنے زمانے میں مقام و حثیت اور اُن کے مشرب کو بھی نوآبادیاتی دور میں ری کنسٹرکٹ کیا گیا اور اس بارے یوحنان فرائیڈمین نے اپنی ایک کتاب اور کئی ایک تحقیقی مضامین میں ردتشکیل کی ہے-اُن کی کتاب کا میں ترجمہ کرچکا اب وہ چھپنے کی منتظر ہے –

آڈرے پاکستانی ڈرامہ نگار شاہد ندیم کے لکھے تھیڑ ڈرامے “دارا شکوہ” پہ بھی تنقید کرتی ہے اور وہ اورنگ زیب کے ناقدین کی اس رائے کا بھی تنقیدی جائزہ لیتی ہے کہ اگر شاہ جہاں سے اقتدار دارا شکوہ کو ملا ہوتا تو ہندوستان میں مغلیہ سلطنت ویسے زوال پذیر نہ ہوتی، آڈرے داراشکوہ کی اہلیت، فوجی صلاحیت اور اورنگ زیب سے جنگ میں جنگی حکمت عملی کا جائزہ اور اُس سے پہلے دارا شکوہ اور اورنگ زیب کی سرگرمیوں میں فرق کا جائزہ لیتی ہے اور یہ بتانے کی کوشش کرتی ہے کہ کیوں دارا شکوہ اورنگ زیب کے مقابلے میں ہارا؟

آڈری ٹروشکی کہتی ہے شاہ جہاں کے جس بیٹے کو بھی اقتدار کی جنگ میں فتح ہوتی وہ اپنے باقی بھائیوں سے وہی سلوک کرتا جو دارا شکوہ، شجاع اور مراد سے اورنگ زیب نے کیا- آڈری ٹروشکی بتاتی ہے کہ جہانگیر نے بھی اپنے بھائی دانیال کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا-

دیگر کئی مصنفین نے بھی یہ بتایا ہے کہ اورنگ زیب کا رویہ اگر اسماعیلی بوھرہ اور مہدویہ سے سخت تھا تو اُس کا ایرانی نژاد شیعہ امامیہ اشراف سے رویہ نرم تھا، اُس نے اسماعیلی بوھرہ کو تو اپنی مساجد میں سُنی طریقے سے اذان اور نماز پڑھنے کا حکم صادر کیا تو یہ حکم امامیہ شیعہ کو نہیں دیا گیا تھا-

اورنگ زیب نے درجن بھر مندر مسمار کرائے جبکہ اُس سے کہیں زیادہ مندر تعمیر کرنے کی اجازت دی اور اُن کے لیے جاگیریں وقف کیں اور مالی امداد بھی دی – آڈری ٹروشکی مثالیں دے کر بتاتی ہے کہ کیسے ہندؤ راجا مہاراجا ایک دوسرے سے لڑنے کے دوران جب فتح پاتے تھے تو شکست خوردہ راجا کے علاقے میں موجود مندر گرادیتے اور لوٹ مار کیا کرتے تھے – میواڑ کا راجا جب دوبارہ برسراقتدار آیا تو اس نے اورنگ زیب کی تعمیر کردہ مساجد گرادیں لیکن اس کے پیچھے مذھبی جذبے سے کہیں زیادہ سیاسی اسباب کارفرما تھے – شیوا جی کی فوج میں مسلمان لڑاکا فوجیوں کا بڑی تعداد میں موجود ہونا اور مرہٹوں سے لڑائی کے وقت اورنگ زیب کی فوج میں راجپوتوں، جاٹوں سمیت کئی غیرمسلم فوجی، رسالدار وغیرہ شامل تھے –

اورنگ زیب کی تلون مزاجی کہ خود پہلے ہیرے جواہرات و موتی کے برابر وزن میں تولے جانے کی رسم سے علیحدگی اور پھر اپنے بیٹے کو اس رسم کو سال میں چودہ مرتبہ کرنے کی ہدایت دینا

اورنگ زیب کی مقبول عام ساکھ کے تعلق سے ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہون پر، مغلون کا ماضی اشتعال انگیز سیاسی بیانیہ کی ازیت سے دوچار ہے—— اورنگ زیب کے متعلق دو نظریات عوامی بیانیے کا نمایاں حصہ ہیں؛ اورنگ زیب ایک مذھبی متعصب اور اورنگ زیب ایک متقی

” اورنگ زیب کو ایک کٹر مسلمان کی حثیت سے پیش کرنا بھی ایک دشوار کُن مسئلہ ہے -”

آڈری ٹروشکی کے خیال میں اورنگ زیب کو تاریخی حثیت میں سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اورنگ زیب کی مقبول عام تصویر خارج کردیں – اورنگ زیب اپنے وقت کے انسان تھے نہ کہ ہمارے”

انگریزی کتاب میں کتابیاتی حوالے موجود ہیں جسے اردو ترجمے میں شامل نہیں کیا گیا

کتاب اور مصنفہ کے نام بھی انگریزی زبان میں کہیں لکھے نہیں گئے –
انگریزی زبان میں یہ کتاب 2017ء کو انڈین پینگوئن رینڈم پبلشنگ ہاؤس سے شایع ہوئی تھی

انگریزی زبان میں اس کتاب پہ درجنوں ریویو اور مضامین لکھے گئے- اس کتاب کی اشاعت بھی ایک ایسے موقعہ پہ ہوئی جب ہندوستان میں ہندوتوا کا زور بہت شدید تھا اور دلی میں معروف سڑک اورنگ زیب روڈ کا نام بدل ڈالا گیا تھا-

اس کتاب کی اشاعت پہ ہندؤ فسطائی طاقتوں نے کافی شور مچایا اور آڈری ٹروشکی آر ایس ایس، وی ایچ پی، سنگھ پریوار کے نزدیک شدید ترین نفرت انگیز شخصیت قرار پائیں –

اس کتاب کی اشاعت سے مسلم دایاں بازو جو ہندؤ اور مسلم برادریوں کو مذھبی بنیاد پہ الگ الگ نیشن سمجھتے ہیں بھی خوش نہیں ہیں کیونکہ یہ اورنگ زیب کی وہ تصویر نہیں بناتی جو ہمارے ہاں بنائی جاتی ہے

اورنگ زیب 1707ء میں موسم سرما میں ایک مغینہ اودیپوری کی آغوش میں راہی عدم ہوئے، یہ منظر بھی پیورٹن مسلمانوں کو پسند نہیں آئے گا –

اورنگ زیب اپنے عہد میں ویسا بھی ہرگز نہیں تھا جیسا عام طور پہ ہمیں وہابی، دیوبندی، سُنی فرقہ پرستوں کے ہاں نظر آتا ہے اور بالکل ویسا بھی نہیں تھا جیسا شیعہ فرقہ پرست اُسے بناکر پیش کرتے ہیں – جدید مسلم فرقہ پرست اور نوآبایاتی دور کے دور کے فرقہ پرستوں نے اورنگ زیب کو جیسا بناکر دکھایا اورنگ زیب کے اپنے دور اور اُس کی موت کے بعد کے قریبی سورسز اُس کی تصدیق نہیں کرتے – اورنگ زیب جیسے کلی طور پہ اینٹی ہندؤ متعصب نہیں تھا ویسے ہی وہ کلی طور پہ اینٹی شیعہ نہیں تھا- وہ بہت زیادہ پیچیدہ شخصیت اور کردار کا مالک تھا، اُسے آخری شناخت کے ساتھ دیکھنا ہمیں حقیقی تاریخ سے بہت دور لیجاکر پھینک دیتا ہے –


شیئر کریں: