موبائل کالز اور انٹرنیٹ پر نیا ٹیکس نہیں لگے گا

شیئر کریں:

وزیرخزانہ شوکت ترین نے موبائل فون کالز، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر مجوزہ ٹیکس واپس لینے
کا اعلان کیا ہے۔

پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں شوکت ترین نے بتایا کہ کابینہ نے تینوں مصنوعات پر ٹیکس کی منظوری
نہیں دی ہے۔ گزشتہ روز 3 منٹ سے زیادہ کی موبائل کال پر ایک روپے ٹیکس کا اعلان کیا گیا تھا۔ایس
ایم ایس اور انٹرنیٹ پر بھی اضافی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔

شوکت ترین نے یہ بھی کہا کہ حکومت منی بجٹ نہیں لائے گی۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ
ان کا حق ہےاور مہنگائی کے مقابلے میں تنخواہوں میں اضافہ ہونا چاہئیے۔

آئی ایم ایف سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان مستحکم گروتھ کی طرف جائے
اس لئے آئی ایم ایف سے ہم نہیں نکل رہے ہیں اور ان سے بات ہورہی ہے۔

شوکت ترین نے واضح کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو سگریٹ انڈسٹری پرٹیکس بڑھائیں گے اور تمباکو سمیت 4سیکٹرزمیں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لارہے ہیں۔ اس کے علاوہ انعامی اسکیم کی مالیت1ارب روپے تک لے جائیں گےاورٹيکس دينے والوں کو مزيد سہوليات دينگے۔

جمعہ کو وزیر خزانہ نے مواصلاتی نظام سے متعلق بجٹ تقریر میں بتایا تھا کہ موبائل فون پر موجودہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 12.5 سے کم کر کے 10فیصد کردی جائے گی جبکہ 3 منٹ سے زائد جاری رہنے والی کال اور ایس ایم ایس پیغامات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ کردی جائے گی۔


شیئر کریں: