ایران کی مشرق وسطی پر بالادستی، جاسوسی کےلیے سیٹیلائٹ تیار

شیئر کریں:

ایران عالمی منظرنامے پر ایک بڑے کھلاڑی کی حیثیت سے ابھر رہا ہے۔ تہران کی تازہ چالوں
نے اسرائیل اور امریکا کو حیران کردیا ہے۔

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے رپورٹ دی ہے کہ ایران روس سے جدید ترین سیٹلائٹ حاصل کر
رہا ہے۔ یہ سیٹلائٹ خاص طور پر اسرائیل کی جاسوسی اور صیہونی فوج کے خفیہ ٹھکانوں
کی کھوج اور ان پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیاجائےگا۔

ایران نے روس سے مل کر سیٹلائٹ کی تیاری کا کام مکمل کرلیا ہے اسے جلد ہی خلا میں بھیج
دیا جائے جانے کا امکان ہے۔ اس سیٹلائٹ پر جدید کیمرے نصب کیے گئے ہیں جو چھوٹے سے
چھوٹے ٹارگٹ پر باآسانی نظر رکھ سکتے ہیں۔

ایران سیٹلائٹ کے ذریعے نہ صرف اسرائیل بلکہ عراق سمیت مشرق وسطی میں دیگر اہداف کی
جاسوسی کرسکےگا۔ اسرائیل کا دعوی ہے کہ سیٹلائٹ فعال ہونے کے بعد ایرانی پراکسیز مزید
مہلک ہو جائیں گی۔ اس سے اسرئیل کی بقا کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

ایران اور روس نے 2018 میں سیٹلائٹ کی تیاری پر کام شروع کیا تھا۔ اس سلسلہ میں ایرانی
پاسدران انقلاب نے روسی ماہرین کو سیٹلائٹ میں جدید کیمرے اور سینسر نصب کرنے کا کہا تھا
جس کے ذریعے زمین پر اس کے خلاف کی جانے والی منصوبہ بندی پر بھی نظر رکھی جاسکے۔

روسی ماہرین نے ایرانی سائنس دانوں کو تکنیکی تربیت بھی فراہم کر چکے ہیں۔ ایرانی سیٹلائٹ
پر اسرائیل میں شدید اضطراب کی کیفیت ہے۔ تل ابیب نے اس سلسلہ میں واشنگٹن سے
رابطہ کیا ہے امکان ہے کہ امریکی صدر اگلے ہفتے روسی صدر سے ملاقات میں اس مسئلہ کو
اٹھائیں گے۔
دو بڑی طاقتوں کے سربراہ بائیڈن اور پیوٹن جنیوا ملاقات میں افغان امن عمل کے علاوہ ایران کے
جوہری معاہدہ پر بھی بات کریں گے۔
بائیڈن انتظامیہ ایران سے دوبارہ جوہری معاہدہ پر انتہائی سنجیدہ ہے۔ اگر ایران امریکا جوہری
معاہدے میں دوبارہ داخل ہوجاتے ہیں تو پھر معاشی پابندیاں اٹھائی جائیں گی جس براہ راست
فائدہ تہران کو ہوگا۔
جوہری معاہدہ کے زیادہ امکانات دیکھ کر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایران کے
ساتھ بیک ڈور مذاکرات شروع کر رکھے ہیں۔ عرب ممالک جان چکے ہیں کہ بین الاقوامی پابندیاں
اٹھ جانے کے بعد وہ ایران سے پراکسیز کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
ایران اور عرب ممالک میں مذاکرات کامیاب ہونے پر مشرق وسطی کے تمام ممالک مستفید ہوسکیں
گے اور خطے میں دیر پا امن کی فضا قاءم ہوسکے گی۔
دوسری جانب ایران کے دو جنگی جہاز جدید ترین اسلحہ لے کر وینزویلا کی طرف رواں دواں ہیں۔
یہ تاریخ میں پہلی بار ہے جب ایران کے جنگی جہاز اٹلانٹک عبور کر رہے ہیں۔ ایران کے بحری بیٹرے
اٹلانٹک میں داخل ہونے پر پیںٹاگان کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایران خطے
میں ہتھیاروں کے پھیلاو کا سبب بن رہا ہے۔ ساتھ ہی وینزویلا اور کیوبا کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ
ایران سے ہتھیار خریدنے سے باز رہے۔
یاد رہے گزشتہ سال ایران کے تیل بردار جہاز کو ٹرمپ انتظامیہ نے اٹلاٹنٹک میں سیز کردیا تھا۔


شیئر کریں: