پاکستان نئی صف بندیوں میں امریکا سے کیا حاصل کرسکتا ہے؟

شیئر کریں:

تحریر عمید اظہر
آج بات ہے خطے میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کی جہاں بھارت کو خارجہ محاذ پر بڑی پریشانیوں کا
سامنا ہے اور پاکستان کی اہمیت ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔
پاکستان کی زمینی پوزیشن نے ایک بار پھر اس ایسے مقام پر لاکھڑا کیا ہے جہاں یہ دنیا کی دو سپر پاورز سے
من چاہے فوائد حاصل کرسکتا ہے۔ گزشتہ دنوں سی آئی اے چیف نے پاکستان کا دورہ کیا لیکن وزیراعظم
عمران خان نے ملاقات سے انکار کیا۔

امریکا کی عہد شکنی کے بعد افغانستان میں جھڑپیں تیز ہو گئیں

وزیراعظم نے اس ملاقات سے کیوں انکار کیا؟
آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے سی آئی اے چیف سے کیا کہا؟
چینی سفیر سے آرمی چیف کی کیا بات چیت ہوئی ان تمام سوالوں کے جواب آپ کو دے رہے ہیں لیکن پہلے
کچھ مودی کے بھارت کی بات کر لیتے ہیں جو پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے۔
ایک بار پھر چین اور بھارت میں لداخ میں کشیدگی ہے۔ گلوان وادی میں دونوں ممالک کی فوج میں تازہ ترین
جھڑپ ہوئی۔ نقصان کی تفصیلات فی الحال سامنے نہیں آسکیں لیکن اس جھڑپ کے بعد چین نے سرحد پر جدید
اسلحہ، میزائل سسٹم اور تیزرفتار گاڑیاں پہنچا دی ہیں تاکہ فوج کی نقل و حمل کو آسان اور دشمن کو بہتر
انداز میں ٹارگٹ کیا جاسکے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک سال سے زائد عرصہ کے مذاکرات بے سود رہے اور چین نے بھارتی علاقے سے نہ صرف
نکلنے سے انکار کیا بلکہ اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرلی ہے۔

ادھر روس بھی بھارت سے ناراض دیکھائی دے رہا ہے۔ روسی وزیرخارجہ نے بھارت کی امریکی اتحاد کوارڈ میں
شمولیت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، انہوں نے بھارت کو امریکا کا ایشیائی نیٹو اتحادی قرار دیا ہے۔

روسی صدر نے بھارت کو تنبہہ کی ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا بھارت اپنے دوستوں کے دشمن کے ساتھ اتحاد کرے۔
علاقائی مسائل میں امریکا کو دخل اندازی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ پیوٹن نے دوٹوک انداز میں بھارت
سے کہا ہے کہ وہ چین سے اپنے مسائل خود حل کرے اور امریکا کو ان معاملات سے دور رکھے۔

اسی دوران افغان امن عمل میں شمولیت کی بھارتی خواہش ایک بار پھر ناکام ہوگئی ہے۔ بھارتی اخباروں نے
دعوی کیا تھا کہ نئی دہلی نے پہلی بار طالبان سے مذاکرات کیے ہیں۔

افغان طالبان کے ترجمان نے بھارتی اخباروں کی سرخیوں کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت سے نہ تو کسی
قسم کے مذاکرات ہوئے ہیں اور نہ ہی بھارت کو افغان امن عمل میں شامل ہونے کی اجازت دیں گے۔

اب بات دوبارہ بات کرتے ہیں پاکستان کی بھڑتی ہوئی اہمیت کی۔ امریکا افغانستان سے نکلنے کے بعد پاکستان
کو افغانستان کی صورت حال پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

افغانستان سے انخلا کے بعد امریکی فوج کا پاکستان میں نیا فوجی اڈہ تعمیر

امریکا کی خواہش تھی کہ پاک افغان سرحد پر فوجی اڈا قائم کرکے افغانستان کی صورت حال پر نظر رکھی
جاسکے۔ دعوی کیا جارہا تھا کہ اس کی تعمیر شروع ہوگئی ہے اور امریکی ہیلی کاپٹر پاکستان میں معمول
سے زیادہ پروازیں کر رہے ہیں۔ تاہم پاکستان نے امریکا کو فوجی اڈا کے لیے زمین دینے سے انکار کردیا ہے۔

پاکستان کو رام کرنے کے لیے سی آئی اے چیف نے پاکستان کا دورہ کیا۔ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقاتیں کی۔ وزیراعظم سے بھی ملاقات کی کوشش کی گئی تاہم وزیراعظم نے انکار کردیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے جوبائیڈن سے ہی بات چیت کرنے پر اصرار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سی آئی اے چیف نے پاکستان میں فوجی اڈا بنانے کی درخواست کی تاہم پاکستان نے ڈیمانڈ کی کہ امریکا پاکستان کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کرے تاکہ پاکستان خود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرسکے۔
ذرائع کے مطابق بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے امریکی وزیرخارجہ نے بھی وزیراعظم عمران خان سے رابطے کی کوشش کی تاہم وزیراعظم آفس نے بات سے انکار کیا اور واشنگٹن کو بتایا گیا کہ امریکی وزیرخارجہ پروٹوکول کے مطابق پاکستانی ہم منصب سے پات چیت کریں نہ کہ وزیراعظم کو براہ راست کال کریں۔


چینی سفیر اس بدلتی صورت حال میں آرمی چیف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک نے تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ آرمی چیف نے چین کو اپنا اہم اسٹریٹجک پارٹنر قرار دیا اور کورونا کے دوران چین کی مدد اور ویکسین کی فراہمی پر شکریہ بھی ادا کیا۔
وزیراعظم عمران خان پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے بعد چینی صدر کے لیے پیغام جاری کرچکے ہیں جس میں وزیراعظم نے چینی صدر کو عالمی لیڈر قرار دیا ہے۔
ان تمام باتوں سے یہ بات واضع ہے کہ اس وقت پاکستان کی خارجہ محاذ پر ایک مضبوط پوزیشن ہے۔ وزیراعظم پاکستان جولائی میں برطانیہ کا اہم دورہ کرنے والے ہیں۔
پاکستان کو بدلتی دنیا اور نئی صف بندیوں میں اس وقت اہم فیصلے کرنے ہیں۔ مضبوط پوزیشن ہونے کی وجہ سے پاکستان مغربی ممالک سے اہم سفارتی کامیابیاں حاصل کرسکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ملک کے فیصلہ ساز اور طاقتور حلقے اس اہم مرحلے پر ملک کے لیے کیا حاصل کرپاتے ہیں؟


شیئر کریں: