نیوز چینلز کے “ٹاک شوز” اینکرز نے سیاسی اکھاڑہ بنا دیے ہیں

شیئر کریں:

پاکستان کے نیوز چینلز ریٹنگ کی دوڑ اور خواہشات پر مبنی پروگرامز کی دوڑ میں اپنی ساکھ کھوتے جارہے ہیں۔
اینکرز خود کو کنگ میکر تصور کرنے لگے ہیں۔ صحافت پیغمبروں کا پیشہ کھلایا کرتا تھا لیکن بعض اینکرز
کے بھیس میں افراد نے اس شعبہ کو بے قیر کر دیا ہے۔

ایکسپریس نیوز پر عرصہ دراز سے جاوید چوہدری پروگرام کر رہے ہیں لیکن ابھی تک ٹھیک طرح سے اردو بھی
نہیں بول پاتے۔ بحرہال مرغے لڑانے اور کاروباری ایجنڈہ کو آگے بڑھانے میں کمال کا ملکہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ
ہے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ساتھ بیٹھے سیاسی رہنما قادر مندوخیل کو چانٹا دے مارا اور جاوید
چوہدری ارے ارے کرتے رہے۔


سوشل میڈیا پر صارفین جاوید چوہدری پر کافی برس رہے ہیں ایک صارف کا کہنا ہے” پروگرام کا
تقریباً 13 منٹ کا کلپ دیکھ کر میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ جھگڑا جاوید چوہدری نے خود کروایا.
پہلے عظمی بخاری کو فردوس عاشق اعوان نے ٹوکا تو جاوید چوہدری نے فردوس عاشق اعوان کا ساتھ دیا.
پھر جب قادر مندوخیل بولنے کی کوشش کر رہا تھا اور فردوس عاشق اعوان مسلسل درمیان میں لقمے
دے رہی تھی تو جاوید چوہدری نے کہا کہ یہ صحیح کہہ رہی ہیں آپ کا سی ایم کیوں نہیں پہنچا؟ کیا
وہ نہیں جانتا تھا کہ ریلوے وفاق کے انڈر ہے اور وہاں وفاقی وزیر ریلوے کو پہنچنا تھا اور تمام معاملات
دیکھنے تھے؟ جاوید چوہدری کی مسلسل فیور نے اس بےتحاشا منحوس عورت کو مزید شہہ دی”۔

طاہر چھٹہ ٹوئٹر پر لکھتے ہیں ” یہ جاوید چوہدری نے پہلی دفعہ اس طرح کا پلانٹڈ پروگرام نہی کیا کشمالہ
طارق والا واقعہ بھی اسی جاوید چوہدری کے پروگرام میں ہوا تھا اس کے علاوہ بھی زیادہ تر بدتمیزی کے واقعات
اسی کے پروگرام میں ہوتے ہیں کیونکہ یہ بھی گیٹ نمبر چار والوں کا اینکر ہے”

عمر جہانگیر ٹوئٹ کرتے ہیں ” جاوید چوہدری کا کچھ نہیں ہوگا اس کے کچھ کالم کچھ دن پہلے شو کر چکے
وہ بھائی لوگوں کی پسندیدہ شخصیات کی لسٹ میں شامل ہو چکا۔”

لگتا یہی ہے کہ نیوز چینلز کے ٹاک شوز پر جس طرح اینکرز مرغے اور بکرے لڑانے کا کام سرانجام دے رہے ہیں
وہ وقت دور نہیں جب اسی طرح کے پروگرام ٹاک شوز کا بوریا بستر لپٹنے کا سبب بنیں گے۔

ویسے بھی جلد یا دیر جتنے بھی نام نہاد زہن سازی کرنے والے اینکرز کو دوسرے پسندیدہ اینکرز سے تبدیل
کیا جارہا ہے۔ کچھ تو پردہ سے ہٹائے جا چکے ہیں اب رہ جانے والوں کا نمبر لگے گا۔


شیئر کریں: