آپ کے پاس آپشن کیا؟

شیئر کریں:

تحریر سید فخر کاکاخیل
باتیں بہت ہوئیں اور ہو رہی ہیں کہ ملک میں جمہوریت خطرے میں ہے۔ ملک چل نہیں رہا۔ صوبوں میں
احساس محرومی بڑھ رہی ہے؟ اپوزیشن کسی کام کی نہیں رہی۔ صحافت دم توڑ چکی ہے۔ خارجہ پالیسی ناکام
ہے۔فوج کو اندرونی اور بیرونی محاذ پر اکیلے لڑنا پڑ رہا ہے۔ افعانستان سے فوجی انخلاء کے بعد خطہ میں بدامنی
پھیلنے کا خدشہ ہے وغیرہ وغیرہ۔

اب ایسے میں دو ہی بڑی سیاسی جماعتیں ہیں جو قومی افق پر اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہی دو پارٹیاں مسلم
لیگ اور پیپلز پارٹی تھیں جنہوں نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ایک امید جگائی۔ پھر یوں ہوا کہ اے این پی اور
پیپلز پارٹی اس اتحاد سے علیحدہ ہو گئے۔ بہت واویلا مچایاگیا۔ میں نے خود اے این پی اور پیپلز پارٹی کے
رہنماؤں کو نجی محفلوں میں یہ کہتے سنا کہ پارٹی قیادت نے غلط فیصلہ کیا۔

ن لیگ سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے تو ان دو جماعتوں کے خلاف یکایک اپنا اصل روپ آشکارا کیا۔ گویا
جو مختصر مدت کی جو بلوغت ہم سمجھے تھے وہ ان کی مصلحت تھی۔ اکثریتی صحافیوں نے پارٹی رہنما
محترمہ مریم نواز کی طرح رویوں میں سختی دکھانی شروع کی۔ پھر یکدم محترم شہباز شریف کی مقتدرہ سے
ڈیل کی باتیں شروع ہوئیں اور پھر وہ دن ہم نے دیکھا کہ وہ خراماں خراماں وطن چھوڑنے کے لیئے ائیرپورٹ
پہنچے۔ وہاں پہنچ کر یکدم انہیں روکا گیا۔

گویا کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔ یعنی جس فیصلہ پر پیپلز پارٹی اور اے این پی پر گولہ باری کی
جارہی تھی وہ خود کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کوشش بھی ناکام ثابت ہوئی۔ اب کم از کم ن لیگ والے یہ طعنہ
نہیں دے سکتے کہ ان دو پارٹیوں نے کوئی ڈیل کی۔ زرداری صاحب کی وطن نہ چھوڑنے کی وجہ جو بھی ہو لیکن
وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ڈیل کریں بھی تو کس لیئے؟
سندھ میں اسے حکومت دی گئی ہے، جیل سے وہ پہلے سے ہی باہر ہیں۔ وہ تو موجودہ سیٹ اپ کے خلاف
ہیں اور آج بھی ہیں۔ اس سیٹ اپ کو اپ سیٹ کرنے کے لیئے وہ کونسا راستہ اپناتے ہیں ظاہر ہے اس کا
اختیار اس کے پاس ہے۔ اب اس میں وہ مولانا صاحب یا میاں برادران کی طرف کیوں دیکھیں۔

وزیر اعظم عمران خان کے ادارہ “ اکدار “ کا امریکا میں ورچول آفس

حقیقت یہ ہے کہ اگر اس ملک میں ترقی پسند سوچ کی حامل ملکی پارلیمانی جماعت کوئی ہے تو وہ پیپلز پارٹی
ہی ہے۔ ان کے ماضی اور ان کی حالیہ پالیسیز سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن ان کے پلیٹ فارم کی حیثیت
سے آپ اختلاف نہیں کر سکتے۔

اس طرح اے این پی بھی ایک سیکولر قوم پرست پارلیمانی مزاج وتاریخ کی جماعت ہے اس میں کوئی دوسری
رائے ہے ہی نہیں۔ اب ایسے میں جب افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء ہو رہا ہے اور بارڈر سے ملحقہ
علاقوں میں اے این پی کا اثر ورسوخ ہے اور اداروں کی خواہش ہے کہ امریکہ کو زمینی حقائق سے آگاہ
رکھتے ہوئے پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا جائے ایسے میں ان کے پاس پیپلز پارٹی کے علاوہ اور آپشن کیا ہے؟

پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کے ساتھ موجودہ امریکی قیادت کی قربت کا اگر اداروں کو پتا نہیں ہوگا تو
کن کو ہوگا؟ صرف یہی نہیں دیکھا جائے تو چین کے ساتھ موجودہ تجارتی تعلقات کا آغاز تو محترم آصف
علی زرداری نے کیا تھا۔ تو ایک ایسے وقت میں جب ہم امریکہ اور چین کے بیچ میں پھنس چکے ہیں ہمارے
پاس پیپلزپارٹی کا وہ پلیٹ فارم موجود ہے کہ جس کے ذریعہ صورت حال سے نکلنے کا کوئی سبب بن سکتا ہے۔

اسی طریقہ سے اے این پی وہ جماعت ہے کہ جو افغان حکومت اور بارڈر کے اس پار بسنے والی پشتون آبادی
کو اعتماد میں لے سکتی ہے۔ جہاں تک ن لیگ کا تعلق ہے تو فی الوقت ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ محترم
نواز شریف باہر ہیں، شہباز شریف صاحب باہر جانے کی جدوجہد میں ہیں جبکہ پارٹی خود نوازبیانیہ، شہباز
بیانیہ کی کنفیوژن میں پھنس کر واضح حرکت ترک کر چکی ہے۔

پنجاب بے شک ن لیگ کا تھا اور ہے لیکن پارلیمنٹ کے اندر نمبروں کے کھیل کو کس طرح بدلا جاتا ہے ن لیگ
کو اب اندازہ ہوجانا چاہیئے۔ اگر مقتدرہ قوتوں کو پیپلز پارٹی، ق لیگ کے ساتھ محترم جہانگیر ترین کی خدمات
حاصل کرنی ہوں تو کتنا وقت لگے گا ان کو؟ اور جب طاقت حرکت میں آتی ہے تو حرکت کچھ زیادہ مشکل
بھی نہیں رہتی۔
خود تحریک انصاف کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جو الیکشن کسی دوسرے پلیٹ فارم سے لڑنے کا سوچ رہے
ہیں۔ اس لیئے یہ کہنا کہ مقتدرہ کے پاس کوئی آپشن نہیں بچا اور انہوں نے ن لیگ کے بغیر پنجاب اور ملک چلانے
کی کوشش کی لیکن ناکام رہے میراخیال ہے کہ یہ کسی کی ذاتی خواہش کے علاوہ کچھ نہیں۔


شیئر کریں: