سندھ حکومت کے قابل تقلید کام بمقابلہ پروپیگنڈا سیلز

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا
پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے میڈیا ٹرائلز، بے جا تنقید اور پروپیگنڈا کا سامنا کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ ذوالفقار
علی بھٹو سے بلاول بھٹو تک ہر دور میں پیپلز پارٹی کو مختلف شکلوں میں دیگر سیاسی جماعتوں کے میڈیا
سیلز کا سامنا رہا۔

پیپلز پارٹی دشمنی

کبھی ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان دشمن اور وطن فروش کے القاب سے نوازا گیا تو کبھی بے نظیر بھٹو کی فوٹو
شاپ تصاویر جہاوزوں سے پھینکوا کر ان کی کردار کشی کی گئی۔

کبھی آصف علی زرداری پر بے نظیر بھٹو کے قتل کے الزامات عائد کیے گئے تو کبھی بھٹو کو پرچی چیئرمین
کہہ کر مخاطب کیا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں پاکستان نے جس ایک شعبے میں نمایاں
ترقی ہے کہ وہ عدم برداشت اور سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں اور مخالفین کی کردار کشی شامل ہے۔

تحریک انصاف کے میڈیا سیل آئے روز بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں۔
تحریک انصاف کے سندھ کے ارکان اسمبلی اور عہدیدار موجودہ دور میں خود کیمرہ مین بن چکے ہیں۔

کبھی خرم شیر زمان ہزاروں بہترین اسکولوں میں سے کسی ایک اسکول کی چھوٹی سے خامی تلاش کر کے
اسے سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور تو سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ
کسی رورل ہیلتھ سینٹر میں خالی کمرے دیکھانے پہنچ جاتے ہیں۔

تحریک انصاف کے سندھ میں عہدیداروں کو مشورہ ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین پر تنقید ضرور کریں مگر یہ
تنقید اصلاح کے لیے ہونی چاہیے نہ کہ تنقید برائے برائے تنقید اور دوسرے کو نیچا دیکھانے کے لیے۔

علاج کے لیے سب کراچی کیوں‌ آتے ہیں؟

اگر صحت کے شعبے میں تحریک انصاف کی حکومت انقلاب لے آئی ہے تو پنجاب اور خیبرپختونخوا کے شہری
آج بھی علاج کی غرض سے کراچی کا رخ کیوں کرتے ہیں؟

اگر پنجاب اور کے پی کے میں معیار زندگی بہترین ہے تو ان صوبوں سے لوگ کراچی کیوں ہجرت کر رہے ہیں؟
سندھ حکومت کے بےشمار کام قابل تقلید ہیں جن کا ذکر کرنا انتہائی ضروری ہے۔
صوبہ سندھ کی حکومت نے سکھر میں غریب خاندانوں کے لیے نہ صرف گھر بنائے بلکہ گیارہ سو گھروں کی
چابیاں غریب دیہاڑی دار افراد کو فراہم کرکے ان کو مالک بھی بنا دیا ہے۔

اسی طرح صحت کے بجلی کی کمی کو پورا کرنے میں سندھ بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ سندھ حکومت نے دو لاکھ
گھروں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا سپلائرز کے ساتھ معاہدہ بھی کرلیا ہے۔

کورونا وائرس پر بہتر حکمت عملی کس کی رہی؟

سندھ حکومت کی صحت کے شعبہ میں خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان میں سب سے بڑا کورونا
ویکسین سینٹر کراچی میں بنایا گیا ہے۔ پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے شہر کراچی کو سندھ
حکومت نے اپنی بہترین حکمت عملی کے ذریعے کورونا کی بدترین لہر میں نقصان سے بچایا۔

پڑوسی ملک بھارت کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں کراچی سے کم آبادی والے شہروں میں کورونا متاثرین
آکسیجن کے لیے اسپتالوں کے باہر لائنوں میں لگے ہوئے تھے اور گنگا میں ہرروز کورونا سے ہلاک ہونے
والے درجنوں نامعلوم افراد کی لاشیں بہہ رہی ہوتی تھیں۔

یہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی ہی حکمت عملی تھی جس نے نہ صرف کراچی بلکہ سندھ کو بڑی
تباہی سے بچایا۔
کورونا کی پہلی لہر کے دوران جب وفاقی حکومت لاک ڈاون سے انکاری تھی اور بدترین حالات کی منتظر تھی
تب پیپلز پارٹی نے سندھ میں لاک ڈاون نافذ کرکے وفاقی حکومت کو راہ دیکھائی کہ کس طرح بروقت فیصلے
بڑی تباہی سے بچا سکتے ہیں۔

کورونا کے علاوہ بھی پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ میں صحت کے بے شمار منصوبے مکمل کرچکی ہے۔ سندھ میں
امریکا اور یورپ کے تعاون سے کئی اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال مکمل ہوچکے ہیں اور شہریوں کا علاج
شروع کردیا گیا ہے۔

اسی طرح پیپلزپارٹی اپنے میں منشور میں کیے گئے وعدوں کے مطابق ہمیشہ کسان کی آواز بنی۔ رواں سیزن جب
وفاقی اور پنجاب حکومت نے گندم کی فی من قیمت اٹھارہ سو روپے مقرر کی تو پیپلزپارٹی نے گندم کی فی من
قیمت دو ہزار روپے مقرر کی جس کا براہ راست فائدہ کسان کو پہنچا اور ملک میں ریکارڈ رقبے پر گندم
کاشت کرکے پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔

خدمت بلاتفریق

ان تمام منصوبوں کے علاوہ بھی پیپلزپارٹی نے ہرطبقے کے لیے کام کیا۔ پیپلز پارٹی اپنی کارکردگی پر توجہ دیتی
رہی لیکن ماضی میں ن لیگ اور موجودہ دور میں تحریک انصاف نے پروپیگنڈا میں مہارت حاصل کرلی۔
ان دونوں جماعتوں نے اس بات پر عملی کام کیا کہ جھوٹ اتنا بولا جائے کہ وہ سچ محسوس ہونا شروع جائے۔
ن لیگ اور تحریک انصاف اپنے آپ کو ایک دوسرے کا سیاسی مخالف تو کہتی ہیں لیکن جب پیپلز پارٹی
اور صوبہ سندھ کی بات ہو تو دونوں جماعتیں ایک پیج پر نظر آتی ہیں۔

آج بھی پیپلزپارٹی کو گالیاں دینا ہوں، آصف زرداری پر الزامات عائد کرنے ہوں یا بلاول کے خلاف اخلاق سے
گری باتیں کرنی ہوں ن لیگ اور تحریک انصاف کے میڈیا سیلز یک زباں نظر آتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ بہتر کارکردگی کے ساتھ بہترمیڈیا ہینڈلنگ پربھی توجہ دے۔ یہ دنیا کا دستور ہے
کہ جودکھتا ہے وہ بکتا ہے۔


شیئر کریں: