شدید گرمی اور دھوپ میں لو لگنے سے انسان بے حال کیوں ہوتا ہے؟

شیئر کریں:

پاکستان کا موسم زیادہ تر گرم ہی رہتا ہے۔ باالخصوص کراچی سمیت سندھ بھر میں سال کے 11 مہینے
موسم شدید گرم رہتا ہے۔ اسی طرح جنوبی پنجاب کے لوگوں کا بھی دھوپ میں برا حشر رہتا ہے۔ دھوپ کے
باوجود معاش کے لیے ہمیں باہر نکلنا ہوتا ہے۔

بعض لوگ شدید دھوپ برداشت نہیں کرپاتے اور گرمی کی شدت سے وہ اچانک چند سیکنڈ میں دم توڑ جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے ایسا کیوں اور کیسے ہوتا ہے؟
سائنس بتاتی ہے کہ ہمارے جسم کا درجہ حرارت ہمیشہ 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے جس پر ہمارے اعضاء
کام کر رہے ہوتے ہیں۔

کراچی میں گرمی کا قہر، جلد درجہ حرارت 40 ڈگری ہو گا

گرمی میں جب ہم باہر نکلتے ہیں تو پسینہ کی لڑی لگ جاتی ہے اس سے ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے۔ پسینہ کا
اخراج صحت مند ہونے کی علامت ہے لیکن اندر کے درجہ حرارت اور پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے وقفہ
وقفہ سے پانی پینا چاہیے۔

درجہ حرارت جیسے جیسے اوپر جاتا ہے ائیرکنڈیشنڈ کی طرح جسم کا کولنگ سسٹم بھی بیٹھ جاتا ہے۔ شدید
گرم موسم میں درجہ حرارت جیسے ہی چالیس کا ہندسہ عبور کرتا ہے جسم کو بھی پتہ لگنے لگتا ہے اور مزاج
تلخ ہونے لگتا ہے کیونکہ اندر کا درج حرارت 37 ڈگری تک بے چین نہیں ہونے دیتا۔

جسم کا درجہ حرارت جب 42 سینٹی گریڈ کو چھوتا ہے تو خون گرم ہونے لگتا ہے۔ پٹھے اکڑنے لگتے ہے سانس
لینے کے لئے ناگزیر پٹھے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
شدید گرمی کی وجہ سے جسم سے پانی کا زیادہ اخراج ہونے کے سبب خون گاڑھا ہونے لگتا ہے۔ بس یہیں سے
گڑبڑ شروع ہو جاتی ہے۔ بھر بلڈ پریشر مسائل کھڑے کرنے لگتا ہے اور دماغ تک خون کی سپلائی میں خلل
پڑنے لگتا ہے۔

اگر احتیاط نہ کی گئی اور فوری معالج سے رابطہ نہ کیا گیا تو کوما میں جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہیں
سے جسم کی مشینری آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ دیتی ہے اور پھر سانسیں بھی ساتھ چھوڑ جاتی ہیں۔
ڈاکٹرز اسی لیے کہتے ہیں پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے۔ یہی پانی ہے جو انسان کا سانس کے ساتھ
تعلق جوڑے رکھتا ہے اور اندر کا درجہ حرارت ضرورت کے مطابق برقرار رکھتا ہے۔
ایک صحت مند انسان کو کم از کم تین لیٹر پانی ضرور پینا چاہیے اس سے زیادہ پینے میں کوئی نقصان نہیں
فائدہ ہی ہو گا۔
شدید گرم موسم میں ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ دوپہر میں 12 سے چار بجے تک غیرضروری گھروں سے نہیں نکلنا چاہیے۔
گرمی جب سڑک پر پڑا ہوا تارکول اور پلاسٹک پگلا دیتی ہے پھر انسان تو انتہائی نازک ہے۔ ہمیں سورج سے
ٹکر نہیں لینا چاہیے جب سورج غروب ہوجائے تو پھر باہر نکلنا چاہیے۔

ایک اور آخری بات شدید گرمی اور سورج کی شدت سے بچنے کے لیے ہم اگر فجر کے ساتھ ہی کام کا آغاز کریں
اور پھر دوپہر میں مکمل آرام کریں تو اس سے مالی نقصان ہو گا اور نہ وقت ضائع ہو گا۔ اس پر سوچ بچار کا
وقت نہیں فیصلہ کریں دیر تک نیند ضروری ہے یا زندگی؟


شیئر کریں: