موبائل فون چارج کرنے والا “پاور بینک” بھی جانیں لینے لگا

شیئر کریں:

انسان کو جتنی آسائشیں اور سہولتیں میسر آرہی ہیں وہ اتنی ہی اس کی جان کی دشمن بھی بنتی جارہی ہیں۔
ٹیکنالوجی کے اس دور میں انسان کو روز ہی نئی مشینری کی شکل دیکھنی ہوتی ہے۔ جدید دور میں موبائل کی
ٹیکنالوجی نے انسان کو انسان سے دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

سیلفی بناتے ہوئے 2 بہنیں دریائے چناب میں ڈوب گئیں

موبائل کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جہاں رشتوں کی قدریں کھو دی ہیں وہیں یہ موبائل انسان کی جانیں بھی لے
رہا ہے۔ جدید موبائل کا غیر ضروری استعمال سڑکوں اور گھروں میں حادثات کا باعث بھی بن رہا ہے۔

موبائل سے سیلفی بنانے کے جنون میں پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں متعدد جانیں ضائع
ہو چکی ہیں۔ زیادہ دیر تک استعمال کرنے اور بے شمار ایپلیکشنز کی وجہ سے موبائل فون کی بیٹری جلد ختم
ہوجایا کرتی ہے۔ موبائل کی زندگی کو طول دینے کے لیے “پاور بینک” ایجاد کیا گیا۔ اب موبائل کے ساتھ ساتھ
پاور بھی اس کا حصہ بن گیا۔

موبائل چارج کرنے والا پاور بینک بھی جان کا وبال بن چکا ہے۔ کوئی بھی چیز جب آپ زیادہ دیر تک چارج کرنے
کے لیے چھوڑ دیں گے تو وہ خراب یا پھٹ جایا کرتی ہے۔ ایسا ہی کچھ بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے
ضلع اماریہ میں ہوا جہاں ایک شخص نے اپنا موبائل جیسے ہی پاور بینک میں چارج کرنے کے لیے لگایا۔
اچانک زور دار دھماکا ہوا اور 28 سالہ شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

اس سے پہلے بھی ایک دو اموات اسی پاور بینک سے ہو چکی ہیں۔ لہزا لوگوں کو چاہیے کہ وہ کوئی بھی
ڈیوائس چارج کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ ہر چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوا کرتی ہے۔
موبائل یا پاوربینک کو ہر وقت چارج پر نہیں لگانا چاہیے۔ اپنی ڈیوائس موبائل ہو یا پاور بینک اس میں
کچھ گنجائش چھوڑنی چاہیے۔ زیادہ دیر تک چارج پہ لگانے سے جان لیوا حادثہ ہو سکتا ہے۔


شیئر کریں: