ایک بار پھر ملالہ پہ برستے تیر دشنام

شیئر کریں:

تحریر عامر حسینی

میں نے برطانیہ کے فیشن میگزین “ووگ” کا جولائی میں آنے والے شمارے کے سرورق پہ ملالہ یوسف زئی کی تصویر دیکھی جس میں وہ لندن کی قمیص اور شلوار میں ملبوس نظر آرہی ہیں۔ اس لباس کو رسالے کے بقول کبیریلا ہیرسٹ نے سیا۔ جس اسٹائل میں ملالہ نظر آرہی ہے وہ کیٹ فیلان کا ترتیب دیا ہوا ہے۔ یہ فوٹو بنایا نک نائٹ نے تھا۔ ملالہ اس لباس میں واقعی بہت جاذب نظر لگ رہی ہے۔ بیک گراؤنڈ میں سرخ شیڈ نے تصویر کو آرٹ کا نمونہ بنادیا۔

ووگ رسالے کے سرورق کی اس تصویر کو سوشل میڈیا پہ جابجا دیکھا جاسکتا ہے۔ برطانیہ کے مشہور معروف فیشن میگزین کے جولائی کے شمارے میں ملالہ کا ایک انٹرویو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس انٹرویو کو رسالے کی ویب سائٹ پہ پہلے سے ہی ڈال دیا گیا ہے۔

میں ملالہ ہوں

ملالہ کا یہ انٹرویو ان کی کتاب “میں ملالہ ہوں” کے مندرجات کی طرح اس کے کئی پیراگراف کی وجہ سے دنیا بھر میں وائرل ہوچکا ہے۔ پاکستان میں بالخصوص ملالہ کی جانب سے مسلم اکثریت کے سماجوں کے باہمی کلچر میں پائے جانے والے فرق پہ کشادہ ذہن سے کیے گئے تبصروں پہ قدامت پرست حلقوں کی طرف سے شور مچا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پہ ایسا لگتا ہے جیسے اکثریت انٹرویو پڑھے بغیر ہی ملالہ بارے نئی بحث میں کود پڑے ہیں۔

فیشن میگزین کی ویب سائٹ پہ انٹرویو کی سرخی کا اردو قالب یہ بنتا ہے۔
“میں اس طاقت سے واقف جو ایک نوجوان دوشیزہ اپنے دل میں لیے پھرتی ہے”۔ ملالہ کی غیرمعمولی زندگی

انٹرویو کا انٹرو / ابتدائیہ کہتا ہے:

“ملالہ یوسف زئی نے دس سال بچیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کی ہے۔ اب آکسفورڈ سے فارغ التحصیل ، اپنی زندگی کے اہم دوہراہے پہ کھڑی 23 سالہ نوجوان اس نوجوان لڑکی نے سیرین کلے کے سامنے پیار، خاندان اور اس دنیا کو جسے وہ پیچھے چھوڑ آئی کے بارے میں اپنے خیالات کو کھول کر رکھ دیا۔ ساتھ ساتھ اس نے اپنے پیغام کو نشر کرنے کے لیے اپنے نئے بلند عزائم سے معمور منصوبوں کے بارے میں بھی بتایا۔”

تاريخ میں سب سے کم سن نوبل انعام یافتہ لڑکی روزمرہ کی زندگی سے حواس باختہ ہوجانے سے پاک نہیں ہے۔ جب میں نے اس سے پوچھا کہ اگلے دس سالوں میں وہ اپنے آپ کو کہاں دیکھتی ہے تو ملالہ یوسف زئی نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا ” بستر پہ لیٹے ہوئے گھنٹوں جاگ کر میں سوچتی رہتی ہوں کہ اب مجھے آگے کیا کرنا ہوگا؟

“ووگ ” کے لیے گزشتہ روز کے شوٹ سے تازہ دم 23 سالہ ملالہ بات جاری رکھتی ہے۔

“آگے مجھے کہاں جانا ہے؟ کیا مجھے زندگی یہیں برطانیہ میں گزار دینی چاہئیے یا مجھے پاکستان چلے جانا چاہئیے یا کسی اور ملک؟ دوسرا سوال ہے، مجھے کس کے ساتھ رہنا چاہئیے؟ کیا مجھے بس خود اپنے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہئیے؟کیا مجھے اپنے والدین کے ہمراہ رہنا چاہئیے؟ حال میں تو میں اپنے والدین کے ساتھ رہ رہی ہوں ، میرے والدین مجھے پیار کرتے ہیں، ایشیائی ماں باپ خاص طور پہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ہمیشہ ان کے پاس رہیں۔”

ہم سنٹرل لندن ہوٹل کے پرسکون گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ملالہ کے بال کھلے تھے اور سر ڈھکا ہوا نہیں تھا۔ اس کا اسکارف اس کے گردن کے گرد لپٹا ہوا تھا۔ وہ کہنے لگی،”میں جب کبھی باہر ہوتی ہوں اور پبلک میں ہوتی ہوں تو اسے پہن لیتی ہوں۔ ایک پرسکون میز کے گرد بیٹھی ہوئی تھی ۔ اس کی حفاظت پہ معمور بظاہر نظر نہ آنے والے حفاظتی اہلکار نزدیک ہی بیٹھے تھے۔” گھر پہ ایسے ہی اچھا لگتا ہے، اگر میں اپنے دوستوں کے ساتھ ہوں تب بھی یہ ہی اچھا ہے۔ وہ وضاحت کرتی ہے کہ سر ڈھانپنا اس کے مسلمان عقیدے سے کہیں زیادہ کی بات ہے۔ ہم پشتونوں کے لیے یہ ثقافتی علامت ہے، تو یہ دوپٹہ نمائندگی ہے اس جگہ کی جہاں سے میں آئی ہوں۔ مسلمان لڑکیاں یا پشتون لڑکیاں یا پاکستانی لڑکیاں ہوں، ہم جب بھی اپنے روایتی لباس پہنتے ہیں تو ہمیں مجبور یا دوسری صورت میں بے آواز سمجھا جاتا ہے یا ہمیں سمجھا جاتا ہے کہ ہم پدر سریت کے تحت زندگی گزار رہی ہیں۔

اس سے آگے ملالہ کی زندگی اورجدوجہد کا مختصر احوال ہے۔

اور ہاں ابھی مجھے یہ بھی پتا چلے گا کہ 23 سالہ تعلیم یافتہ لڑکی کورونا کے پھیلاؤ کے سبب سفر کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔ اپنے والدین کے ساتھ رہنے والی ملالہ اپنے کمرے میں ایک ویڈیو گیم کھیلتی رہتی ہے اور یہ پتا چلانے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ کیا جاہتی ہے؟آکسفورڈ کے بعد جونہی وہ عملی زندگی کی طرف جاتی ہے تو دنیا کی سب سے زیادہ مشہور جامعہ سے رخصت ہونے والی لڑکی کے سامنے جو سوال ہے وہ یہی ہے کہ اب آگے کیا ہو؟

پہلے تھوڑا سا پریشان خیال رکھتی ہے پھر ملالہ یاد کرتی ہے ،وہ پرجوش اور جیسا کہ ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ آپ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلیتی ہے،” رات کے دو بجے کا وقت ہوگا، میں بیڈ پہ بیٹھی ، اپنا نجی انسٹا گرام کو اسکرول کرتے ہوئے سوچ رہی تھی،”میں کیا کررہی ہوں؟” گزشتہ سال مارچ میں جامعہ سے گھر آتے ہوئے ، ڈگری کورس ختم کرکے اور کورونا وبا کے ختم ہونے کا انتظار کرنے کے ساتھ ، وہ کویڈ کلاس آف 2020 کی رکن بن گئی تھی: بے روزگار تھی،بے سمتی تھی اور بوریت طاری تھی۔ بچپن کے دنوں کے بیڈروم میں ، اس نے یہ اندازہ لگایا کہ اس کے پاس آپشن کتنے ہیں؟ ظاہر ہے ملالہ فنڈ کے ساتھ اس کا کام جاری تو رہنا تھا لیکن زندگی کے عظیم دوہراہے پہ اب وہ اور کیا کرنے جارہی تھی؟

کیا اسے کوئی نوکری تلاش کرنا ہے؟
ماسٹرز کے لیے اپلائی کرے؟ بیرون ملک دورے کرے؟
اس دوران وہ سوتی بھی رہی، اپنی ماں کے ہاتھوں کے بنے بھیڑ کے گوشت کے سالن سے بھی لطف اندوز ہوئی اور مطالعہ بھی کرتی رہی-
اس سال اس نے اپنے لیے 84 کتابیں پڑھنے کا ہدف مقرر کیا ہے اور موبائل پہ ایپ اسکرولنگ بھی جاری رہی۔ اس نے انکشاف کیا،”ٹوئٹر پہ اعلانیہ آنے سے ایک سال پہلے میرا ایک خفیہ ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی تھا جس کو چار ہزار لوگ فالو کررہے تھے۔ میں بہت اچھا جارہی تھی۔”(اس بات کا انکشاف کرنے سے پہلے اس کے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ کے فالورز کی تعداد 18 لاکھ ہوچکی تھی اور اس میں اضافہ جاری تھا۔

اس کو مہمیز اس کے بڑی من پسند چیزوں میں سے ایک سے ملی اور وہ تھا ٹیلی ویژن ۔ اسے ہمیشہ سے “داستان گوئی” کی قوت و اثر کا پتا تھا- جب وہ محض 11 سال کی تھی تو اس نے گل مکئی کے قلمی نام سے بی بی سی پہ بلاگ لکھنا شروع کردیا تھا۔ وہ بلاگوں میں بتاتی کہ طالبان کے راج کے اندر زندگی بسر کرنا کیسا ہوتا ہے۔ سسیکس و اوبامہ جیسوں کی طرح جو مسائل انہیں درپیش تھے پہ بات کرنے کے لیے براڈکاسٹنگ سے جڑ گئے تھے ، ایسے ہی ملالہ نے بھی خود اپنے پروگراموں بارے میں بھی سوچنا شروع کردیا اور اس نے ساری دنیا سے ایسے ٹیلنٹ کی فہرست بنانا شروع کردی جو اس کی اس کام میں مدد کرسکیں۔

اس نے بڑےنشریاتی مراکز سے ملاقاتیں کیں: ظاہر ہے انھوں نے دلچسپی دکھائی لیکن ایک مرکز اٹھ کھڑا ہوا۔ مارچ میں اس نے ایپل ٹی وی کے ساتھ کئی سالہ شراکت داری کا اعلان کیا۔ اور پھر ایک نئے نام “ایکسٹرا کری کیولر” سے پروڈکشن کمپنی کی شروعات کرڈالی۔

وہ اس پیش رفت کے اولین مرحلوں بارے یاد کرتے ہوئے کہتی ہے:

“میں ان شوز کو تفریح دینے والے اور ویسا بنانا چاہتی تھی جیسے دیکھنا مجھے پسند رہے تھے۔”
اورتب اصرار سے مزید یہ کہتی ہے:

اگر میں ان کو دیکھ کر نہ ہنستی یا محظوظ نہ ہوپاتی تو میں ان کو آن سکرین نہ لاتی”

تو انتہائی سنجیدہ مسائل جیسے “لڑکیوں کی تعلیم اور حقوق نسواں” ہیں پہ ڈاکومینٹریاں بنانے کے ساتھ وہ طنز و مزاح پہ بھی کام کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔ ملالہ ٹیڈ لیسو کی بڑی فین ہے کیونکہ اپیل ٹی وی کی ہٹ سریل کا اسٹار بالکل ویسی مونچھیں رکھتا ہے جیسی اس کے ابا کی ہیں۔ وہ عالمی شخصیت ہوسکتی ہے لیکن ساتھ ساتھ وہ ایک نوجوان عورت بھی ہے جسے جمیکا کے ڈھابے اور “رک اینڈ مارٹی” جیسی سیریل پسند ہیں۔

تفصیلات تو ابھی بھی واضح نہیں، لیکن ہم یہ توقع کرسکتے ہیں کہ اگلے سال سے اس کی کارکردگی دیکھنا شروع کردیں گے۔ اینی میشن فلمیں، ڈرامے ، بچوں کے شوز یہ سب ابھی زیر تکمیل ہیں۔۔۔۔۔۔ اسے یہ بھی امیدیں ہیں کہ وہ ایسا پلیٹ فارم مہیا کرے گی جس پہ ساری دنیا سے ٹیلنٹ متعارف ہوگا۔ وہ کہتی ہے:
“میں جس پس منظر آئی سے آئی ہوں وہ بالکل مختلف ہے۔”

وہ بڑے نشریاتی اداروں کی روایتی نمائش کو زیر غور لاتے ہوئے کہتی ہے:

“میں حیران بھی ہونے کے ساتھ سوچتی ہوں کہ پاکستان کی ایک وادی سے آنے والی عورت اگر ساؤتھ پارک بنائے تو وہ کیسا لگے گا؟”

ایپل ٹی وی کے سی ای او ٹم کوک نے کیلی فیورنیا میں اپنے آفس سے ويڈیو کال پہ بات کرتے ہوئے کہتا ہے،” میں نہییں سمجھتا کوئی دوسرا بالکل اس جیسا نہیں ہے۔ وہ بہت ہی اوریجنل ہے۔”
وہ 2017ء میں ملالہ کو آکسفورڈ میں ملا تھا اور فوری اس سے متاثر ہوگیا تھا۔ کوک کہتا ہے:

“عمر کے 23 سالوں میں اس کے پاس زندگی بھر کا تجربہ ہے۔ اس کے پاس اپنی زندگی، اپنی ساری کامیابیوں کی کہانی ہے۔ اور اس کی ساری توجہ دنیا میں بدلاؤ لانے پہ لگی ہے۔ وہ نارتھ اسٹار کا سا ملکہ رکھتی ہے – لوگوں میں یہ بات مجھے ہمیشہ بہت متاثر کرتی ہے۔ اپنی تمام تر کامیابیوں کے باوجود وہ بہت عجز و انکسار کی مالک ہے۔ بہت نمانتا ہے اس میں۔ اس کے ساتھ وقت گزارنے میں لطف آتا ہے۔”

یقینی بات ہے وہ مسلسل جیت رہی ہے۔ دنیا داری کی چالاکیوں سے اب بھی انجان ، وہ پہلے ہمیں اکٹھے سیلفی بنانے کو کہتی ہے اور بہت ہی مخلص ہے۔ ہماری باہمی گفتگو بار بار “لڑکیوں کی تعلیم” کے موضوع پہ پلٹ آتی ہے لیکن بوریت پیدا کرنے والی تکرار کے ساتھ نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ موضوع ہمیشہ اس کے دماغ میں سب سے اول مقام پہ قبصء جمائے رکھتا ہے۔ بہت پیای عادات کی مالک وہ اپنے دوستوں میں ‘مل’ کہلاتی ہے ، وہ ایک ایسی نوجوان عورت ہے جو اپنے لطائف پہ خود بھی خوب ہنستی ہے، اپنے ناخنوں کو (بے دھیانی میں) چپانے لگتی ہے، کرکٹ میچ دیکھنے کا اسے بہت شوق ہے (پانچ روزہ ٹیسٹ میچ تو اسے نعمت غیر مترقبہ لگتا ہے) اور جب کبھی وہ آپ کو کسی مشکل میں پائے گی تو لازمی آپ کو واپس ٹیکسٹ میسج کرے گی۔ اس کی حس مزاح شاندار ہے۔۔۔۔۔ وہ انکشاف کرتی ہے کہ ایک بار وہ اپنے اسکول میں ہیڈ گرل کی پوزیشن کھوبیٹھی تھی۔ میں قریب قریب چیخ کر کہتی ہوں،”تمہارے سے زیادہ اس کا اہل کون ہوسکتا تھا؟” تو وج جواب میں کہتی ہے “اسکول والوں نے ایسا نہیں سوچا تھا” اور یہ کہتے ہوئے وہ سازشی انداز میں اپنے دیدے گھماتی ہے اور اور بہت ہی عاجزی و انکساری دکھاتی ہے۔

بعض اوقات وہ زرا سی خفا بھی دکھائی دیتی ہے۔ اسے مسلسل مخالفت کا سامنا رہتا ہے جب وہ لڑکیوں تعلیم کی وکالت کرتی ہے اور یہ بات اس کا من بہت خراب کرتی ہے۔ سیاست دان اسکولوں کی تعمیر کا وعدہ کرتے ہیں اور پھر رقم ٹینکوں اور بموں پہ خرچ کردیتے ہیں۔وہ کہتی ہے:

” پہلے پہل آپ کو لگتا ہے وہ جو کہہ رہے ہیں واقعی ایسا ہی ہوگا اور جو ہدف آپ نے طے کیے وہ حاصل ہوجائیں گے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ میں نے ان میں سے کچھ کو (وعدے) پورے کرتے دیکھا اور کچھ کو نہیں”

لیکن پھر بھی اس کا انداز مفاہمت والا ہوتا ہے برا بھلا کہنے والا نہیں: وہ لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو ترجیح دیتی ہے- وہ سوشل میڈیائی اٹینشن اکنامی سے اوب بھی جاتی ہے جس کا ایندھن تبدیلی کی بجائے محض کلک کرنا اور عمل کی بجائے محض برہمی اور غیظ و غضب ہے۔ وہ گھمبیرتا کے ساتھ کہتی ہے:
“ہم نے ایکٹوازم/ سرگرمی کو بس ٹیوٹر سے جوڑ دیا ہے۔ اسے بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ ٹوئٹر مکمل طور پہ ایک مختلف جہان ہے۔”

وہ پہلے ہی “زیڈ جنریشن” کے ایک نئے گروپ کے لیے بزرگ مدبر خاتون جیسی کوئی چیز بن چکی ہے اور اس کی دوستی 18 سالہ تبدیلی ماحولیات کی سرگرم کارکن گریٹا تھنبرگ سے ہے جس نے آکسفورڈ میں اس سے ملاقات کی تھی اور 21 سالہ گن کنٹرول کمپئن چلانے والی 21 سالہ ایما گونزالیز بھی اس کی دوستہے۔ دونوں اسے ٹیکسٹ کرتیں اور مشورے مانگتی ہیں۔ ملالہ کہتی ہے:

” میں جانتی ہوں کہ ایک نوجوان لڑکی کے دل میں کیا ہوتا ہے جب اس کا کوئی وژن اور مشن ہوتا ہے۔”

یہی اس کا وصف ہے جسے باراک اوبامہ اور مشعل اوبامہ دونوں نے اس کے اندر پالیا۔ مشعال اوبامہ نے مجھے ای میل کے زریعے بتایا:

“گزشتہ پانچ سالوں میں ملالہ پہ تعریفوں کے پل باندھے گئے ہیں لیکن یہاں ایک بات ہے کہ جو اس کے بارے میں کہا گیا وہ سـچ ہے۔ وہ واقعی غیر معمولی ہے۔ باراک اور میں ملالہ سے ملے جب ووہ 2013ء میں ہم سے ملنے وائٹ ہاؤس ہائی تھی۔ اور یہ درست ہے کہ اسے اچھے سے پتا تھا کہ وہ صدر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ ایک کورے میں ہے اس کا پوز ، اس کی ذہانت اور ہر ایک لڑکی کی طااقت پہ اس کا یقین ۔۔۔۔۔ یہ سب اس پہلی ملاقات میں جانا نہیں جاسکتا تھا۔”

ملالہ سے جڑی جو چیز بھی ہے، اس کا وہ انتخاب اپنا نہیں ہے۔ اس نے خود یہ انتخاب نہ کیا تھا۔ اس کا ایک ایکٹوسٹ باپ کے گھر پیدا ہونا اس کا اپنا انتخاب نہیں تھا۔ جس نے اسے ناانصافی کے خلاف لڑنا سکھایا جب وہ ایسا ہوتا دیکھے۔ وہ کہتی ہے:

“وہ ہمشہ اس وقت قدم اٹھاتے ہیں جب انھیں یہ محسوس ہو کہ کچھ ٹھیک نہیں ہورہا۔”

طالبان اس کی سوات وادی میں آئیں ، یہ بھی اس کا اپنا انتخاب نہ تھا۔ وہ ہمیں بتاتی ہے:

” میری سرگرمی/ایکٹوازم نوعمری سے شروع ہوگئی تھی اور اس پہ اثر ان واقعات کا تھا جو باہر وقوع پذیر ہورہے تھے۔ اور وہ ہمارے اختیار میں تو نہیں تھے”

لیکن پہلی بار یونیورسٹی کے زمانے میں ملالہ کے پاس اختیار تھے۔ وہ دیر سے اٹھتی ، شاپنگ کرتی اور ڈھابوں سے آڈر منگوالیتی۔

وہ کہتی ہے:

” میں بہت سی چيزوں بارے پرجوش تھی۔ میکڈونلڈ جانا اور سویٹ چلّی میں لپٹا چکن اور کیرمل فریپی کا آڈر دینا، دوستوں سے مل کر پوکر کھیلنا یا ان کے ساتھ مل کر کہیں بات کرنے جانا یا کسی ایونٹ پہ پہنچنا۔ میں ان سب چیزوں سے لطف اٹھا رہی تھی۔ کیونکہ اس سے پہلے یہ سب کچھ تو میں نے دیکھا نہیں تھا۔ اس حادثے کی وجہ سے میں اپنے ہم عمر لوگوں میں کافی عرصے سے نہیں نہیں رہی تھی۔ اپنے ہم عمر لوگوں کی صحبت نہ رہنے کی وجہ پوری دنیا کا اس دوران سفر ، ایک کتاب شایع کرنا اور ایک ڈاکومینٹری تیار کرنا اور اردگرد بہت کچھ ہونا تھا۔ یونیورسٹی میں آخرکار مجھےاپنے لیے وقت مل ہی گیا۔”

سن 2017ء میں انڈر گریجویٹ پروگرام شروع کرنے سے پہلے ، اس کی کالج پرنسپل لیڈی مارگریٹ ہال میں گارڈین اخبار کی سابق مدیر ایلن رسبرجر نے انھیں پیش کش کی کہ وہ طالب علموں کو ای میل کے زریعے اس کی نجی زندگی کا احترام کرنے کو کہہ سکتی ہیں۔ اس کو اس پہ اعتراض تھا تو اس نے بتایا،”میں نہیں چاہتی تھی وہ مجھے ویسے دیکھیں ، جیسا کہ آپ جانتی ہیں کہ جو وہ ٹی وی پہ دیکھتے تھے اور اس طرح سے جیسے دوسرے ملالہ بارے بیان کرتے ہیں۔ میں تو بس یہ چاہتی تھی وہ مجھے دوسرے طلبآء کی طرح ہی دیکھیں۔”

کم سنی میں وہ برطانیہ پہنچنی تو وہ تنہائی کے احساس کے ساتھ برمنھگم میں ایڈبسٹن ہائی اسکول فار گرلز میں اپنا مقام پانے کی سعی کررہی تھی ۔ ملالہ یاد کرتی ہے:

“لوگ مجھ سے ایسے سوال کرتے تھے،’ تمہیں کیسا لگا جب تم ایما واٹسن سے ملیں یا انجلینا جولی یا اوبامہ سے؟ اور مجھے سمجھ ہی نہیں آتا تھا کہ میں کیا جواب دوں۔ یہ بہت مشکل تھا کیونکہ اسکول کی عمارت کے باہر ہیتم “ملالہ” کو چھوڑ دینا چاہتی تھی، تم تو بس ایک طالبہ اور ایک دوست کے طور پہ دیکھے جانا چاہتی تھی۔ وہ تسلیم کرتی ہے کہ اس نے نوبل پرائز بارے آکسفورڈ میں اپنے ذاتی احوال میں کچھ نہیں لکھا۔

“میں تھوڑی شرم آگئی تھی”

ملالہ نے اپنے آپ کو سمجھایا کہ یونیورسٹی میں چیزی مختلف ہوجائیں گی۔”سارے نئے آنے والے تازہ دم ہیں اور انھوں نے ابھی دوست نہیں بنائیں ہوںگے”- اس نے جلد ہی اپنا حلقہ پالیا۔ اس کی بہترین دوست
Vee Kativhu
کہتی ہے،”جب وہ یونیورسٹی آئی تو وہ ملالہ ہونے کی وجہ سے بہت بڑی تھی جسے دنیا جانتی تھی؛ ڈپلومیٹس اور عالمی لیڈروں کے ساتھ پیش آمدہ صورت حال سے نمٹنے کے سبب وہ بڑی عمر کے لوگوں میں گھری رہی تھی ۔ وہ تھوڑی سی لیے دیے رکھنے والی، سنجیدہ تھی، کیونکہ اسے اس ترتیب میں اپنے آپ کو لیکر چلنا تھا۔ وہ یونیورسٹی میں ایک بالغ (عورت کے روپ میں) آئی اور ایک نوجوان بالغ (لڑکی) کے روپ میں وہان سے گئی”

درس و تدریس کی زندگی کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ کرنے کا یہ جو عمل تھا وہ سب سے مشکل کام تھا۔ ملالہ کہتی ہے:

“جب میں نے آکسفورڈ میں داخلہ لیا تو پہلے چند درس مجھے یاد ہے کے دوران میں واقعی اداس تھی۔ پھر اچانک سے آپ آکسفورڈ کے اوسط درجے کے طالب علم بن جاتے ہو اور آپ کا دنیا کے چند روشن ترین دماغوں سے مقابلہ ہوتا ہے۔ لیڈروں سے مقابلہ کرنے کی بجائے میں نے فن اور مزے کرنے کو چن لیا۔ میں ن فیصلہ لیا کہ اگر مں دو ایک کا تناسب بھی لیا تو یہ بہتر ہوگا۔ میں بہتخوش ہوں گی۔ آپکو پتا کہ کہ ایک کہاوت ہے : آکسفورڈ میں تین کام ہوتے ہیں، سونا، سماجی میل میلاپ اور پڑھنا اور تم یہ سب اکٹھے نہیں کرسکتے۔ سماجی میل میلاپ میرا ایک (انتخاب) تھا۔”

اصل میں یونیورسٹی میں اس کا کمرہ ہینگ آؤٹ اسپاٹ بن چکا تھا، کیونکہ ملالہ کے ہاں ہمیشہ سنیک ہوتے۔ اپنے والدین سے اس نے ایک جو چیز سیکھی تھی وہ تھی “میزبانی” جو پشتون ثقافت کا بڑا حصّہ تھی۔ وہ شراب خود تو نہیں پیتی تھی لیکن اپنے دوستوں کے ساتھ پب میں جایا کرتی ، ان کوشرب پی کر مدہوش ہوتے اور پھر بریگزٹ بارے چلا چلاکر باتیں کرتے دیکھ کر محظوظ ہوا کرتی۔ وہ ہمیشہ کالج ہال کی طرف دوڑ لگاتی تاکہ ناشتہ سروس ختم ہونے سے پہلے ناشتہ کرلے۔ اور ہمیشہ سے
Essay- Crisis Queen
اور ہمیشہ اسائنمنٹس مکمل کرنے کی آخری تاریخ سے ایک رات قبل انھیں تیار کیا کرتی۔ ملالہ کہتی ہے:
“مجھے اپنے آپ پہ بہت غصّہ آتا جیسے کہ میں رات کے دو بجے یہاں کیوں بیٹھی یہ مضمون لکھ رہی ہوں۔ ایسا ہر ہفتے ہوا کرتا۔؟ میں نے پڑھائی کیوں نہیں کرلی؟

ملالہ ڈیڈ لائن کی صبح آٹھ بجے

Horrible essay
جمع کرادیتی اور یہ عزم کرتے ہوئے بستر پہ سونے چلی جاتی کہ اگلی بار مہ ایسا تجربہ نہیں کرے گی۔ اور آنے والے ہفتے میں پھر اسی طرح کی صورت حال سے دوچار ہوجاتی۔

اور ‘ریلشن شپ” کے بارے میں کیا؟ کیا آکسفورڈ میں وہ کسی سے ملی تھی؟(جو اس کے دل کے تار چھوتا) تھوڑی دیر کو ایسے لگا جیسے کہ وہ اپنے اوپر بے ساختگی سے طاری ہونے والی شرماہٹ پہ قابو پانے کی کوشش کررہی ہو۔ کچھ دیر دہشت زدہ سی ہوکر توقف کرنے کے بعد آخرکار وہ بولی:

” میں کہا کرتی تھی کہ میں ایسے لوگوں سے رابطے میں آؤں جو بہت اچھے ہوں ، اور میں امید کیا کرتی تھی کہ میں کسی ایسے شخص کو پاؤں جو مجھے سمجھے،میری عزت کرے، اور مجھ سے پیار کرے اور میرا دھیان رکھے۔” مجھے لگ رہا تھا کہ میں کسی بلونگڑی کو اذیت دے رہی ہوں، تو میں ٹاپک بدل دیتی ہوں۔ کیا کبھی وہ کسی اسٹار کا شکار ہوئی؟ وہ مجھے براڈ پٹ سے اپنی ملاقات کے بارے میں بتاتی ہے۔ کیا وہ واقعی “ہینڈسم” تھا؟ ملالہ کھی کھی کرکے ہنستی ہے اور دونوں ہاتھوں سے اپنے منہ کو ڈھک لیتی ہے اور کہتی ہے،”ہاں نا!”

ملالہ کے گرد لوگ اس کے ساتھ جو ہوا اس کو “حادثہ” کہتے ہیں ، جو ایک بچی کو قتل کرنے کی کوشش کو بیان کرنے کا زرا عجیب و غریب انداز ہے۔ حملے کے بعد پاکستانی طالبان نے ان کو قتل کرنے کی دوسری دھمکی دے ڈالی تھی ۔ ملالہ اور ان کا خاندان برمنگھم نقل مکانی کرکے آگیا، جہاں وہ تب ہی سے رہ رہا ہے۔ اور جہاں سے سے وہ ملالہ فنڈ کو پوری دنیا میں ترقی دینے کے لیے جاتی رہتی ہے۔ ان پروازوں کے دوران وہ دن میں بھی اپنے گھر جانے کے خواب دیکھتی رہتی تھی ۔ اسے یاد ہے

“میں میں اسکرین پہ نقشہ کو تکا کرتی تھی اور تصور کرتی جہاز پاکستان اتر رہا ہے۔” اور زیادہ مرکوز ہونے کے لیے وہ بادلوں پہ نظریں جمائے دیکھا کرتی، ان کی صورت اور ان کا اسٹرکچر ، کیسے وہ مرغولہ بنتے اور پھر کیسے پتلی سی دھویں کی لکیر جیسے ہوجاتے تھے۔ اس کا نجی انسٹاگرام اکاؤنٹ آسمان کی ایسی ساری تصویریوں سے بھرا ہے۔

ملالہ پاکستان جانے کی خواہش رکھتی ہے لیکن پاکستانی حکام اس کی سلامتی کو لاحق خطرات کے سبب اسے ایسا کرنے سے منع کرتے رہتے ہیں۔ مارچ 2018ء میں ، اس کے پاس کافی بہانے تھے۔ اس نے یاد کیا:

“میں نے اپنے والد کو بتایا کہ پاکستانی سیاست میں آپ کو کبھی مناسب وقت نہیں ملے گا۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ ہورہا ہوتا ہے۔”

وہ مان گئے۔ ملالہ کہتی ہے،” جیسے ہی طیارا اترا اور ہم پاکستان کی فضا میں سانس لے رہے تھے۔ مجھے یہ سب خواب لگ رہا تھا۔ مجھے یقین نہیں ہورہا تھا۔” وہ اپنی دادی اور پھپھو کو آخری بار دیکھ رہی تھیں ۔۔۔ دونوں عورتیں اب راہی عدم ہوچکیں۔

وہ مجھے بتاتی ہے کہ اس کا سب سے بڑا خوف ان بے آواز لڑکیوں کا ناکام ہوجانے کا خوف ہے جنھوں نے مجھ پہ بھروسہ کیا ہے: وہ لڑکیاں جن کی رقم ان کے والدین بچاکر ان کے بھائیوں کو اسکول بھیجتی ہیں؛ وہ عورتیں جو اپنے سے کہیں زیادہ عمر کی عورتوں سے بیاہی جاتی ہیں؛ وہ لڑکیاں جو پڑھنا نہیں جانتیں۔ ملالہ ان ہی بچیوں کے بارے میں سارا وقت سوچتی رہتی ہے۔ وہ کہتی ہے:

“میں اپنے کام کا بہت خیال کرتی ہوں اور میں یہ سوچ کر پریشان ہوتی رہتی ہوں کہ جو اہداف ہم نے رکھے ہیں ان تک پہچنے میں کتنا وقت لگے گا۔لوگ کہتے ہیں،ملالہ، پرییشان مت ہو، یہ آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، لیڈروں کو اس بارے فکر ہونی چاہئیے۔ لیکن اگر میں آگاہی و بیداری کو تیز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں تو مجھے کرنا چاہيے۔”

میں کہتی ہوں، یقینی طور پہ بطور سیاست دان تم اندر زیادہ اثر ڈال سکتی ہو۔ وہ زیر لب مسکراتی ہے:”یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے میں مکمل طور پہ رد کرچکی ہوں۔” ملالہ عام طور پہ بات کرتے ہوئے سیاست پہ بات کرنے سے کتراتی ہے۔ ملالہ فنڈ آٹھ ممالک میں کام کرتا ہے اور سیاست میں جانے سے یہ انتہائی گراس روٹ سطح کا کام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ لیکن فروری میں اس نے اس حوالے سے ایک استثنا کیا، ایک طالبانی جس کا تعلق اس پہ فائرنگ کرنے والوں میں سے تھا، احسان اللہ احسان جیل سے بھاگ نکلا اور اس نے ٹوئٹر پہ اسے دھمکی دی۔ تو ملالہ نے ٹوئٹ کیا

“وہ کیسے فرار ہوا؟”

اس نے اس ٹوئٹ کو وزیراعظم عمران خان کو ٹیگ کیا۔ ملالہ نے مجھے بتایا اس کی آواز میں فرسٹریشن تھی ،” وہ بہت سارے لوگوں کو مار ڈالنے کی ذمہ داری قبول کرچکا تھا۔ اور وہ دہشت گرد تنظیم کا ترجمان تھا اور لوگ ہیں کہ اسے ایسے ہی جانے دے رہے ہیں اور اسے اجازت دے دیتے ہیں؟

“میں سوچتی ہوں سیاست میں آنےسے پہلے آپ کو یہ پتا ہونا ضروری ہے کہ آپ کس کام کے لیے بنے ہو، اور کس کے ساتھ تم کام کرنا چاہتے ہو۔ آپ جانتی ہیں کہ ساری سیاسی جماعتیں جو پاکستان میں ہیں ان کی تاریخ صاف نہیں ہے۔ کیا تم ان کا دفاع کرتے ہو اور کیا نہیں کرتے؟کیا تم پارٹی بدلتے ہو؟کیا تم اپنی جماعت بناتے ہو؟ عمران خان نے یہ کیا اور اسے 30 سال لگے۔”

ہم ہوٹل سے روانہ ہوجاتے ہیں اور نزدیک میں واقع سینٹ جیمز پارک کی طرف جاتے ہیں- پلکن درختوں اور تفریح مناتے خاندانوں کے پاس سے گزرتے ہیں۔ ملالہ پفر جیکٹ پہنے ہوئے میرے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلتی ہے اور اس کی ہیل کی ٹک ٹک کی آواز آرہی ہے۔ کوئی بھی پہچان نہیں پاتا کہ نوبیل انعام یافتہ شخصیت ان کے درمیان ہے۔ غیر متوقع طور پہ اس کی گفتگو پھر واپس محبت پہ آجاتی ہے۔ وہ وضاحت سے بتاتی ہے کہ وہ اسے لگتا ہے کہ اس کے سب دوست شریک حیات کی تلاش میں ہیں اور اسے یقین نہیں ہے کہ وہ کیا چاہتی ہے۔وہ مجھے بتاتی ہے کہ وہ تھوڑی سی نروس ہے۔ “خاص طور پہ ریلشن شپ کے بارے میں سوچتے ہوئے ۔ تمہیں پتا ہے کہ سوشل میڈیا پہ ہر کوئی اپنے تعلقات کی کہانیاں شئیرکرتا ہے اور تم پریشان ہوجاتی ہو۔۔۔” میں اس سے پوچھتی ہوں ۔”کیا رومانوی تعلقات کے بارے میں؟ وہ احتیاط سے کہتی ہے،”ہاں! کسی پہ آپ کیسے اعتماد کرسکتے ہو یا نہیں۔ اس بارے میں بالکل یقین سے کیسے کچھ کہا جاسکتا ہے؟”

ملالہ کے والدین کی شادی باقاعدہ طے ہونے والی پسند کی شادی تھی – جیسا کہ وہ اس بارے میں بتاتی ہے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو پسند کیا باقی کام ان کے والدین نے کیا۔ وہ یقین سے کہہ نہیں سکتی کہ وہ کبھی شادی کرے گی۔

“مجھے اب تک سمجھ نہیں آتی کہ لوگ شادی کیوں کرتے ہیں۔ اگر آپ کسی فرد کو اپنی زندگي میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے نکاح نامے پہ دستخط کیوں ضروری ہیں؟ شراکت داری کیوں نہیں ہوسکتی؟ اس کی ماں ۔۔۔۔ دوسری اکثر ماؤں کی طرح اختلاف کرتی ہے۔ ملالہ ہنستے ہوئے کہتی ہے،”میری ماں ایسے کہتی ہے،” ایسا کچھ بھی کہنے کی جرآت کیوں کرتی ہو، نہ کرو،تمہیں شادی کرنا ہوگی، شادی تو بہت ہی خوبصورت ہوتی ہے۔” اس دوران ملالہ کے والد کو ای میل کے زریعے سے پاکستان سے بہت سے رشتے آتے ہیں۔ وہ محظوظ ہوتے ہوئے کہتی ہے،” لڑکا کہتا ہے وہ کئی ایکٹر زمین کا مالک ہے اور بہت سے گھروں کا مالک ہے تو کیا مجھ سے شادی کروگی؟”

یہاں تک کہ میرے یونیورسٹی کے دوسرے سال تک ،” وہ جاری رکھتی ہیں ، “میں نے صرف اتنا سوچا ،‘ میں کبھی شادی نہیں کروں گی ، کبھی اولاد پیدا نہیں کروں گی – بس اپنا کام کیے جاؤں گی۔ میں ہمیشہ خوش رہوں گی اور ہمیشہ اپنے کنبے کے ساتھ رہوں گی۔ “مجھے یہ احساس نہیں تھا کہ آپ ہر وقت ایک ہی شخص نہیں ہوتے ہیں۔ آپ بھی تبدیل ہوتے ہیں اور بڑھوتری کی طرف جارہے ہوتے ہیں۔

ایک غیرمعمولی لچک دار زندگی کے بعد ، آپ کو لگتا ہے کہ آخرکار آپ کے پاس کئی آپشن ہیں۔

وہ مسکراتے ہوئے کہتی ہے،

” آپ کو اپنا مستقبل خود تلاش کرنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی جانتا ہے کہ اسے کیسے کرنا ہے تو وہ ملالہ ہے۔”


شیئر کریں: