او آئی سی کا مستقبل اور مسلم ممالک کا غیر عرب اتحاد

شیئر کریں:


تحریر ندیم رضا
اسرائیل اور فلسطین کے درمیان 2021 کی گیارہ روزہ جنگ نے عربی اور عجمی ممالک میں ایک واضع لائن کھینج دی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے قتل عام پر جہاں دنیا کے غیر مسلم ممالک صیہونی سیاہ کاریوں پر تنقید کرتے نظر آئے وہیں عرب ممالک کی پراسرار خاموشی نے کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
اسرائیل میں فلسطینی شہری علاقوں پر حملوں کے بعد پاکستان، ترکی اور ایران متحرک نظر آئے۔ ایران نے حماس کو لاجسٹک سپورٹ میں مدد فراہم کی جس کی بدولت اسرائیل کو ناقابل یقین حد تک شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ غزہ سے ایران کے لانچنگ پیڈ اسرائیل پر آگ برساتے رہے۔ یہ پہلا موقع تھا جب اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ کی گئی، دارلحکومت تل ابیب سے لے کر اسرائیل کا کوئی بھی حصہ حماس کے میزائلوں سے محفوظ نہ رہا۔
اسرائیل کی جارحیت جب زیادہ بڑھی اور اس نے شہری آبادی کو نشانہ بنانا شروع کیا تو پاکستان اور ترکی نے سفارتی محاذ سنبھال لیا۔ دونوں ممالک نے دیگر مسلم ممالک کو اسرائیل کے خلاف متحرک کرنا شروع کیا۔ پاکستان کی سفارتی محنت تھی کہ سعودی عرب نے تاخیری ہربوں کے باوجود مجبور ہو کر مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کا اجلاس طلب کیا۔
او آئی سی اجلاس کے بعد پاکستان اور ترکی کو بڑی سفارتی کامیابی تب ملی جب دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کی جنگ لڑی۔ شدید عالمی دباو اور حماس کے بھرپور جوابی حملوں کے بعد اسرائیل نے گیارہ دن کی بمباری کے بعد جنگ بندی کا اعلان کردیا۔

سفارتی محاذ پر پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے فلسطین کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑا۔ شاہ محمود نے سی این این کو انٹرویو میں امریکی میڈیا کا مکروح چہرہ بے نقاب کیا اور دوٹوک انداز میں امریکی میڈیا پر اسرائیل کی یکطرفہ حمایت کو غیراخلاقی ثابت کردیا۔
پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی دھوم اسرائیل سمیت پوری دنیا میں ہے۔ سوشل میڈیا پر پاکستان اور شاہ محمود قریشی ٹاپ ٹرینڈز پر رہے۔ فلسطینی عوام، مسلم دنیا اور دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں پاکستان کی کاوشوں کی معترف ہیں۔
بلاشبہ فلسطینیوں نے پروردگار کی مدد سے اسرائیل کو بدترین شکست دی لیکن اس جنگ کا افسوس ناک پہلو عرب دنیا کی پراسرار خاموشی ہے۔ گیارہ دن تک فلسطینیوں کا قتل عام ہوتا رہا لیکن عرب ممالک کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ عرب دنیا کی خاموشی یقینا ان کے اسرائیل کے ساتھ نومولود سفارتی تعلقات ہیں۔ یواے ای نے تو اس جنگ میں اخلاقی گراوٹ کی حد کردی۔ متحدہ عرب امارت کے صحافیوں اور نام نہاد دانشوروں نے اسرائیل کے جرائم کی مزمت کرنے کی بجائے الٹا حماس اور معصوم فلسطینیوں کی جدوجہد پر سوال اٹھانا شروع کردیے۔
انہوں نے حماس پر الزام عائد کیا کہ وہ غیرقانونی طور پر اسرائیل پر میزائل داغ کر فلسطینیوں کے بچوں اور شہریوں میں چھپ جاتے ہیں۔

عرب دنیا کے اس رویے پر جہاں دنیا بھر میں سوال اٹھ رہے ہیں وہیں مسلم دنیا کا ایک نیا متحرک دھڑا الگ نظر آرہا ہے۔ اقوام متحدہ کے بعد دنیا کا سب بڑا فورم 57 اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کا ہے لیکن بدقسمتی سے یہ فورم عرب ملکوں کے مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔
اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) کی غیرفعالیت کے بعد پاکستان، ترکی، ایران، ملائیشیا اور دیگر غیرعرب ممالک کا نیا اور موثر اتحاد بنتا نظر آرہا ہے۔ ان غیرعرب ممالک نے مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر انتہائی احسن طریقے سے سفارت کاری کر کے مسلمانوں کے حقیقی جذبات کی ترجمانی کی ہے۔
او آئی سی کو اگر اسی طرح بااثر عرب ملکوں نے اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھائے رکھا تو پھر بہت جلد طاقت کا مرکز عرب سے عجم کی طرف منتقل ہو جائے گا۔
بقول میر انیس
عالم ہے مکدر کوئی دل صاف نہیں ہے
اس عہد میں سب کچھ ہے پر انصاف نہیں ہے


شیئر کریں: