بنگلہ دیش بھی اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے لگا، سفری پابندی ختم

شیئر کریں:


فلسطینیوں کی نسل کشی کرنے والے اسرائیل کے ساتھ بنگلہ دیش نے بھی نرم رویہ اختیار کر کے دوطرفہ تعلقات
کی جانب پہلا قدم بڑھا دیا ہے۔ بنگلہ دیش نے اچانک اپنے شہریوں پر سے اسرائیل کے سفر پر عائد پابندیاں
یک طرفہ طور پر ختم کر دی ہیں۔

پاکستان کی طرح بنگلہ دیش کے پاسپورٹ پر بھی لکھا ہوا ہوتا تھا کہ “بنگلہ دیش کا یہ پاسپورٹ اسرائیل
کے سوا پوری دنیا کے لیے قابل قبول ہے” لیکن اب پاسپورٹ سے یہ عبارت ختم کر دی گئی ہے۔

اس سے پہلے اگر کوئی بھی بنگلہ دیشی شہری اسرائیل کا سفر یا وہاں جانے کی دنیا کے کسی بھی ملک سے
کوشش کرتا ڈھاکا واپسی پر کڑی سزا کا سامنا کرنا پڑتا۔

بنگلہ دیش کی حکومت سے یہ اقدام ایسے وقت اٹھایا گیا جب اسرائیلی فوج نے مسجد اقصی میں نمازیوں
کو شہید کیا اور پھر غزہ پر جنگ مسلط کی۔ دنیا بھرمیں اسرائیل کے اس اقدام کی مزمت کی گئی لیکن
بنگلہ دیش کی حکومت نے چپ سادھ رکھی۔

اسرائیل نے گیارہ روزہ جنگ میں ڈھائی فلسطینی شہید اور غزہ کا پورا اسٹرکچر تباہ کردیا۔
بنگلہ دیشی حکومت کے اس فیصلے نے اسرائیل سمیت سب کو حیران کر دیا ہے۔ فلسطین پر جنگ مسلط کرنے
سے پہلے اسرائیل کی جانب سے یہ کہا گیا تھا بہت جلد دیگر مسلمان ممالک بھی تل ابیب کے ساتھ تعلقات
قائم کرنے والے ہیں۔
اسرائیل نے بنگلہ دیش کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور
دو طرفہ تعلقات کا نیا باب شروع ہو گا۔

خیال رہے ترکی، مصر اور اردن کے بعد اگست 2020 میں اسرائیل کے ساتھ سب سے پہلے متحدہ عرب امارات
نے سفارتی تعلقات قائم کیے۔ پھر بحرین، مراکش اور سوڈان نے متحدہ عرب امارات کی پیروی کرتے ہوئے
اسرائیل کو تسلیم کیا۔

اب جنوبی ایشیا کے غیرعرب مسلمان ملک بنگلہ دیش نے اسرائیل کی جانب پہلا قدم بڑھا دیا ہے۔ کہا
یہی جارہا ہے کہ دیگر مسلمان ممالک بھی جلد یا دیر اسرائیل سے اپنی پوشیدہ قربت کا اظہار کر دیں گے۔
بنگلہ دیش کو اسرائیل کے قریب لانے میں بھارت نے اہم کردار ادا کیا ہوگا۔
بھارت نے پچھلے دو سال کے دوران بنگلہ دیش سے اپنے تعلقات مزید مستحکم کیے تھے یہی وجہ ہے شیخ حسینہ
نے چین اور پاکستان سے یکدم قربت کو دوری میں بدلنا شروع کر دیا تھا۔
عوامی لیگ کی سربراہ شیخ‌ حسینہ 2009 سے اقتدار میں ہیں انہوں‌ نے ملک کا مزہبی تشخص
ختم کر کے ایک سیکولر سوسائٹی کی بنیاد رکھی ہے یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی کو تقریبا
ختم ہی کر دیا ہے۔
بنگلہ دیش میں‌ ہائبرڈ جمہوریت ہے جہاں‌ طاقت کا مرکز وزیر اعظم شیخ حسینہ کے گرد ہی
گھومتا ہے اور ان ہی پالیسیوں‌ پر ملک چلایا جارہا ہے۔


شیئر کریں: