حزب اللہ کے بعد حماس نے بھی اسرائیل کو شکست دے دی، عرب ممالک بھی پریشان

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا
اسرائیل کی فوج اور معیشت خطے میں انتہائی طاقتور تصور کی جاتی ہے۔ اسی لیے عرب ممالک مرعوب
ہو کر اس کے ساتھ تعلقات کو وسعت دے رہے ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی کشیدگی کا عرب
ممالک سوچ بھی نہیں سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم پہ خاموش رہتے ہیں ہاں جنگ
بندی کے بعد امدادی سامان بھیجنے میں دیر نہیں لگاتے۔

ظالم کے خلاف آواز بلند کرنے سے جان جاتی ہے اور اپنے عوام کو بھی اس سے روکے رکھتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ
حماس نے ماضی سے کہیں زیادہ جوابی حملے کر کے اسرائیل کا سارا بھرم خاک میں ملا دیا۔

حکومتیں اور عوام کی رائے جدا جدا

عرب ممالک کی بادشاہتیں ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی فلسطینیوں کی نسل کشی پر خاموش رہ کر اسرائیل
کی حمایت کرتی رہیں۔ اس کے برخلاف امریکا، کینیڈا، جرمنی اور بعض دیگر یورپی ممالک کو چھوڑ کر سب
ہی نے مظلوم فلسطینیوں کی کھل کر حمایت کی۔

جو ممالک اسرائیلی حکومت کی حمایت کر رہے تھے ان کے ملکوں میں بڑی بڑی ریلیاں فلسطینیوں سے اظہار
یکجہتی کے لیے نکالی گئیں۔
دنیا کے میڈیا پر اسرائیل اور مغرب کا غلبہ ہونے کے باوجود سوشل میڈیا نے مظلوموں کی کھل کر حمایت کی۔ اسرائیلی بمباری سے عورتوں اور بچوں کی شہادتوں پر کڑی تنقید کی جاتی رہی۔

یہی نہیں بلکہ حماس نے جس جواں مردی کے ساتھ اسرائیل کو بھرپور جواب دیے اس نے بھی صیہونیوں کو پریشان کردیا۔ پہلی بار حماس نے تل ابیب تک راکٹ برسائے۔ اسرائیل کی شہری آبادیاں، ائیرپورٹس، ائیربیسز اور حساس تنصیاب الغرض سبھی حماس کے نشانے پر رہے۔
حماس حملوں کی وجہ سے اسرائیل کی نصب آبادی زیر زمین بنکرز میں پناہ لینے پر مجبور ہوئی۔ پہلی بار اسرائیل کے اندر فلسطینیوں پر بمباری کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے۔ شیخ جراح سے فلسطینیوں کی بے دخلی پر جھڑپیں ہوئیں اور یہ مسئلہ بھی دنیا کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔
حماس کی حکمت عملی نے اسرائیل اور اس کے نئے عرب دوستوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ اگر ہم 2014 کی جنگ کا 2021 کی جنگ سے موازنہ کریں تو واضح طور پر اسرائیل کی شکست ہوئی ہے۔

2014 اور 2021 کی جنگ

اسرائیل نے 2014 میں بھی فلسطینیوں پر جنگ مسلط کی جو 7 ہفتوں تک جاری رہی۔ اس جنگ میں حماس
نے اسرائیل پر تقریبا 4500 راکٹ فائر کیے جو اس نے اب 2021 کی گیارہ روزہ جنگ میں چلائے۔ اس کا
مطلب یہ ہوا کہ حماس نے اپنی عسکری قوت پہلے سے کئی درجہ بہتر کر لی ہے۔ اسرائیل نے 6 ہزار سے زائد
فضائی حملے کیے اور زمینی فوج بھی فلسطینی علاقوں میں داخل ہوئی لیکن اس بار اسرائیل 2014 والی
شدت سے آگے نہیں بڑھ سکا۔

سات ہفتوں کی لڑائی میں 6 ارئیلی شہری اور 67 فوجی مارے گئے۔ فلسطینیوں کا نقصان کہیں زیادہ ہوا مجموعی طور پر 2125 فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ 2021 کی گیارہ روزہ جنگ میں شہری آبادیوں پر بمباری سے 242 فلسطینی شہید ہوئے ان میں 100 سے زائد عورتیں اور بچے تھے۔
حماس کے حملوں میں ایک فوجی اور دو غیرملکیوں سمیت 12 اسرائیلی بھی مارے گئے۔ سیکڑوں اسرائیلی زخمی بھی ہوئے اور بڑے پیمانے پر نقصان الگ ہوا۔
14 سال سے کڑی ناکہ بندی اور مصر کی جانب سے سرحدوں پر پہرہ کے باوجود حماس کی جنگی تیاری نے اسرائیل کو پہلی بار غیرمشروط طور پر جنگ بندی پر مجبور کیا۔

بلاشبہ حماس کی اس تاریخی کامیابی سے اسرائیل کے ساتھ سرمایہ کاری کے معاہدے کرنے والے متحدہ عرب امارات اور بحرین کی پریشانیاں بھی بڑھ گئی ہوں گی۔
یقینی طور پر اسرائیل کی ندامت سے حماس کا قد خطے بلکہ دنیا کے سامنے بہت بڑھ گیا۔ عرب ملکوں اور مغرب کی آنکھ میں پہلے حزب اللہ کھٹکتی تھی اب 2021 کی جنگ میں اسرائیل کی شکست کے بعد دوسری آنکھ سے حماس کبھی محو نہیں ہوگی۔


شیئر کریں: