بھارت غزہ فلسطینیوں پر اسرائیل کی بمباری کا حامی کیوں؟

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا
بھارت شروع سے ہی فلسطینیوں اور دو ریاستوں کے نظریہ کا حامی رہا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی
کہ بھارت نے یاسر عرافات کی تنظٰیم فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کا 1975 میں نئی دہلی میں دفتر قائم کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی بھارت فلسطینی تحریک کی حمایت کرتا رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ
فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے 29 نومبر 1981 کو ایک یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا تھا۔ اندرا
اندھی اور نہرو بھی مظلوم فلسطینیوں کے شدت سے حامی تھے۔

فلسطینیوں کے ساتھ اتنے گہرے روابط پھر کس طرح ختم ہوئے اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت یکدم غاصب
صیہونی ریاست کی طرف کیسے چلی گئی۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا بلکہ بھارتیہ جنتہ پارٹی کی حکومت
کے دور میں انتہا پسندانہ نظریہ کی بنیاد پر نریندرا مودی اور بنجمن نیتن یاہو قریب سے قریب تر ہوتے چلے گئے۔

جیسا کہ بھارت 1947 سے کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے بالکل اسی طرح انتہا پسند یہودیوں نے بھی 1948
سے فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے محروم کر کے ان پر مسلسل ظلم روا رکھا ہوا ہے۔

اسرائیل اور بھارت کے تعلقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی اہم کردار رہا ہے۔ ٹرمپ ہی مودی اور
نیتن یاہو کو قریب لائے۔ ٹرمپ کی کوششوں سے مودی نے جولائی 2017 میں اسرائیل کا دورہ کیا۔ اس
طرح مودی اسرائیل کی سرزمین پر قدم رکھنے والے پہلے بھارتی وزیراعظم بنے۔


دورہ اسرائیل کے بعد سے اسرائیل اور بھارت کی دوستی گہری ہوتی چلی گئی۔ اس وقت بھارت اسلحہ کی
خریداری میں اسرائیل کا سب سے بڑا شراکت دار ہے۔ اسرائیل کی پیدوار کا 46 فیصد اسلحہ بھارت ہی
درآمد کرتا ہے۔

متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ریاستوں سے بھی بھارت کے دیرینہ تعلقات ہیں۔ کئی لاکھ بھارتی شہری
روزگار کے لیے انہی ریاستوں میں موجود ہیں۔ ان ممالک سے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ بھارت جاتا ہے۔ پہلے
عرب ممالک کی وجہ سے بھارت اسرائیل کے زیادہ قریب نہیں جاتا تھا لیکن جب سے عرب ملکوں کے تعلقات
اسرائیل کے ساتھ بہتر ہونے لگے مودی نے بھی صورت حال کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔

اسی لیے جس طرح فلسطینیوں کی نسل کشی پر عرب ممالک خاموش رہتے ہیں بالکل ویسے ہی انہوں نے
اب کشمیریوں کی نسل کشی پر بھی چپ سادھ رکھی ہے۔

امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں دونوں ملکوں کے دیرینہ تعلقات کا انداز اس چیز سے
بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مودی نے 2017 میں اسرائیل کا دورہ کیا۔ فلسطینی سرزمین پر اسرائیل نے کیسے
قبضہ کیا اور فلسطینی عوام پر کیسے ظلم کیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ سیکھ کر مودی نے 5 اگست 2019 کو
مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ کو حاصل آئینی حیثیت ختم کر کے انہیں بھارت میں شامل کر لیا۔ گو
کہ یہ معاملہ اقوام متحدہ میں موجود ہے اور کئی قرار دادیں بھی منظور کی جاچکی ہیں بالکل فلسطین
کی طرح لیکن اسرائیلی نقشہ قدم پر چلتے ہوئے مودی نے مقبوضہ اور متنازعہ علاقوں کو بھارت کا
حصہ بنا لیا۔

مسلمان اکثریت والی جنت نظیر وادی کشمیر کو بھارت نے دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل بنا رکھا ہے۔
جہاں کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جانا معمول ہے۔ خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے۔
گھروں پر قبضے کیے جارہے ہیں۔ علاج معالجے کی انہیں سہولت میسر نہیں اور کورونا وائرس سے بچاؤ کی
ویکسین بھی نہیں دی جارہی ہے صرف اپنے خاص خاص لوگوں کو ویکسین لگائی جارہی ہے۔

اس ظلم و ستم پر عرب مسلمانوں کی جانب سے مزمت تو درکار بلکہ اسے بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے
کر کشمیریوں کے لیے درست اقدام قرار دے دیا گیا۔

اسرائیل اور بھارت کے وزرائے اعظم کی سوچ اور قول و فعل ایک جیسے ہیں۔ دونوں ہی تاحیات وزیر اعظم
رہنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ظالم دوسرے ظالم کی مدد کیے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اسی مفروضہ
پر عمل کرتے ہوئے مودی اپنے پیرو کاروں کے ذریعے سوشل میڈیا پر اسرائیل کی حمایت میں بھرپور مہم
چلا رہے ہیں۔

دنیا کے کسی بھی مذہب میں انتہا پسندی، دہشت گردی اور ظلم کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ تمام ادیان میں
ظالم سے نفرت اور مظلوم سے ہمدردی کا درس ملتا ہے لیکن اسرائیل، بھارت اور عرب ممالک کے گٹھ جوڑ نے
انسانیت کو مزاق بنا کر رکھ دیا ہے۔

عرب ممالک بھی مل کر مسلمان ملکوں پر حملہ کر رہے ہیں۔ ان ملکوں کے دوست اسرائیل اور بھارت بھی
مسلمانوں پر حملے کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان بے حس حکمرانوں کے برعکس ان ممالک کے عوام برملا ظالم
اسرائیل سے برات اور مظلوموں سے ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں۔
اس موقع پر شاعر ساحر لدھیانوی یاد آرہے ہیں جنہوں نے اس حقیقت کو بڑے احسن انداز سے لفظوں کی لڑی میں پرویا ہے۔
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
خاک صحرا پہ جمے یا کف قاتل پہ جمے
فرق انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے
تیغ بیداد پہ یا لاشۂ بسمل پہ جمے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں
خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ
سازشیں لاکھ اڑاتی رہیں ظلمت کی نقاب
لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ
ظلم کی قسمت ناکارہ و رسوا سے کہو
جبر کی حکمت پرکار کے ایما سے کہو
محمل مجلس اقوام کی لیلیٰ سے کہو
خون دیوانہ ہے دامن پہ لپک سکتا ہے
شعلۂ تند ہے خرمن پہ لپک سکتا ہے
تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں آ نکلا ہے
کہیں شعلہ کہیں نعرہ کہیں پتھر بن کر
خون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں سے
سر اٹھاتا ہے تو دبتا نہیں آئینوں سے
ظلم کی بات ہی کیا ظلم کی اوقات ہی کیا
ظلم بس ظلم ہے آغاز سے انجام تلک
خون پھر خون ہے سو شکل بدل سکتا ہے
ایسی شکلیں کہ مٹاؤ تو مٹائے نہ بنے
ایسے شعلے کہ بجھاؤ تو بجھائے نہ بنے
ایسے نعرے کہ دباؤ تو دبائے نہ بنے


شیئر کریں: