اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینیوں کا مقدمہ لڑنے کا ڈرامہ

شیئر کریں:

بین الاقوامی منظر نامے پر لاشوں کی سیاست کے کھیل میں مزید تیزی آگئی ہے۔ اس بار مسلم امہ کے
علمبردار ترکی، پاکستان اور سوڈان فلسطینیوں کی لاشوں پر کھڑا ہو کر اپنا قد اونچا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنے ترک اور سوڈانی ہم منصب کے ساتھ نیویارک جا رہے ہیں۔ جہاں وہ
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینیوں کا مقدمہ لڑیں گے۔ تینوں ممالک کی طرف سے اس سلسلے میں
باقائدہ پریس ریلیز جاری کی گئیں۔

سر عام ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ فلسطینیوں کا ہم سے بڑا غمگسار کوئی اور نہیں۔ بیچارے عوام پاکستان، ترکی
اور سوڈان کے سیاسی پینترے کو سمجھ نہ پائے کیوں کہ بڑے بڑے میڈیا ہاوسز، اینکر اور یوٹیوبرز ہمیشہ
کی طرح اس پر بھی بغیر تحقیق حکومت کی باتوں پر یقین کر بیٹھے۔

امریکی ہتھیاروں اور نئے دوستوں کی تھپکی سے فلسطینیوں کی نسل کشی

پاکستان اور ترکی کے اس فیصلے پر میں بھی بہت حیران ہوا کہ پاکستان جیسا ملک کیسے اتنا بڑا فیصلہ کرسکتا ہے۔ جو ملک اپنی معیشت چلانے کے لیے دوسروں کی امداد پر اکتفا کرے وہ بین الاقوامی محاذ پر اتنا بڑا مقدمہ کیسے لڑسکتا ہے؟ وہ بھی ایسے موقع پر جب تیل کی دولت سے مالا مال پاکستان کی ہر گھڑی مدد کرنے والے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اسرائیل کی مزمت کرنے سے گریزاں ہوں۔
جب میں نے اقوام متحدہ کی ویب سائیڈ کا بغور مشاہدہ کیا تو اقوام متحدہ کے پہلے سے مرتب کردہ شیڈول نے پاکستان، ترکی اور سوڈان کا مکروح چہرہ بے نقاب کردیا۔ یہ تینوں ممالک سیاست کے سوا کچھ نہیں کر رہے۔ اقوام متحدہ کا شیڈول پہلے سے مرتب شدہ تھا اور ان تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی شرکت پہلے سے طے شدہ تھی۔
مگر ہاتھ کی صفائی چیک کریں کہ تینوں ممالک نے اس قدر مہارت سے پراپیگنڈا کیا کہ عوام تو عوام میڈیا بھی بیوقوف بن گیا۔
ذرا غور کریں سوڈان پر جو امریکی امداد کی بحالی اور دہشت گرد ممالک کی فہرست سے باہر نکلنے کے لیے اسرائیل کو تسلیم کر چکا ہے۔ ملک کی معاشی حالت ٹھیک کرنے کے لیے جو ملک اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرے وہ کیا فلسطینیوں کے حق میں اور صیہونیوں کے خلاف آواز اٹھا سکتا ہے؟
اب زرا ترکی پر نظر ڈال لیتے ہیں یہ وہ ملک ہے جس کے اسرائیل کے ساتھ 1949 سے تعلقات قئم ہیں۔ ترکی اسرائیل کے ساتھ 6 ارب ڈالر سے زائد کی سالانہ تجارت کرتا ہے۔ بڑی تعداد میں اسرائیلی سیاحت کے لیے بھی ترکی کا رخ کرتے ہیں۔ ترکی کے اسرائیل کے انٹلی جینس کے تبالہ، دفاعی اور فوجی معاہدے بھی ہیں۔
عراق میں جو ترکی نے کیا وہ سب کے سامنے ہے کہ کس طرح داعش کے ساتھ مل کر کردوں کا قتل عام کیا گیا۔
آرمینیا سے جنگ کے دوران اسرائیل ترکی اور آزربائیجان کو مکمل عسکری تعاون دے رہا تھا۔

اسی طرح وکی لیکس نے پاکستان اور اسرائیل کی بیک ڈور ڈپلومیسی اور عسکری روابط کو بھی بے نقاب کیا
تھا۔ موجودہ دور حکومت میں نواز شریف دور میں وفود کے اسرائیل دورہ کی خبریں منظر عام پر آئیں۔ اس سے پہلے مشرف دور میں بھی روابط کا سلسلہ چل چکا۔ پھر وزیر اعظم عمران خان کے اس حکومت میں سب سے قریب ترین تصور کیے جانے والے زلفی بخاری کے دورہ تل ابیب کا بھی انکشاف ہوا۔ گوکہ پچھلے دنوں سعودی عرب کے دورہ میں اسرائیلی ٹی وی پر انٹرویو میں مولانا طاہر اشرفی نے اس کی پرزور تردید کی۔
ایسی صورت حال میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ممالک فلسطینیوں کے آزاد وطن اور ان کی نسل
کشی رکوانے میں کس قدر سنجیدہ ہیں۔
اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 75 واں سیشن پیر 17 مئی سے نیویارک ہیڈ کوارٹر میں شروع ہو
چکا ہے۔ 20 مئی کو 67پرینری اجلاس کے ایجنڈہ پر مشرق وسطی، خشک سالی اور ایک ورچول
کانفرنس ہونی ہے۔

ہم فلسطین کے مسئلہ پر بالکل اسی طرح شور شرابا کررہے ہیں جیسا کشمیر پر کیا گیا تھا۔ اس وقت
بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان کی درخواست پر خصوصی اجلاس بلایا گیا اس مرتبہ بھی ایسے ہی آنکھوں
میں دھول جھونکی جارہی ہے۔ اس وقت سے لے کر آج تک کشمیر کے مسئلہ پر کوئی پیش نہ ہو سکی تو
پھر جہاں دنیا بھر کے اسٹیک اسرائیل کے ساتھ ہوں وہاں کیسے کوئی پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔


شیئر کریں: