امریکی ہتھیاروں اور نئے دوستوں کی تھپکی سے فلسطینیوں کی نسل کشی

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل کو امریکا اور نئے عرب دوستوں کی آشیرباد ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور عرب ممالک کے ساتھ بعض مغربی ملکوں کو چھوڑ کر سب ہی اسرائیل پر تنقید کر رہے ہیں اس کے باوجود وہ ہر روز غزہ پر بم برسا رہا ہے۔


اسرائیل نے 10 مئی سے غزہ اور مغربی کنارے کے فلسطینیوں پر حملوں کا باقاعدہ آغاز کیا۔ کارروائی شروع کرنے سے پہلے 5 مئی 2021 کو امریکا نے 735 ملین ڈالر کے ہتھیار اسرائیل کو فروخت کیے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض امریکی سینیٹرز نے بھی جوبائیڈن انتظامیہ کے اس عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی جارحیت کی حمایت پر چین کا امریکا کے خلاف شدید ردعمل

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مشترکہ اعلامیہ کو بھی امریکا ہی نے ویٹو کیا۔ اجلاس بلانے میں تاخیر کی وجہ بھی امریکا ہی بنا تھا۔ چین نے امریکی طرز عمل کی کھلم کھلا مخالفت کی اور اسے دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔
اسی طرح سعودی عرب نے بھی اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) کا اجلاس میں بلانے میں تاخیری حربے استعمال کیے۔ پوری دنیا کے مسلمان اور فلسطینی اجلاس بلانے کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن یہ اجلاس سلامتی کونسل کے اجلاس والے دن ہی بلایا گیا تاکہ ان کے دیرینہ دوست اسرائیل کو مزید مہلت جائے۔

سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک اپنے کلمہ گو بھائیوں کے خلاف کسی بھی قسم کا بیان دینے میں ایک منٹ بھی ضائع نہیں کرتے لیکن فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی پر محض تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس دوہرے معیار پر سعودی عرب اور تمام عرب ملکوں کو سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
بعض افراد کا کہنا ہے کہ امت مسلمہ پہلے بھی موثر کردار ادا کرنے سے قاصر رہی ہے لیکن اسرائیل اور امریکا کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی پر مسلمانوں باالخصوص عربوں کی خاموشی نے رہا سہا بھرم بھی توڑ دیا ہے۔
دوسری جانب امریکا ہے جو کھلے عام اسرائیل کے حملوں کی حمایت کر رہاہے۔ یہی نہیں بلکہ امریکا دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھاتا رہتا ہے لیکن اسے بمباری سے 60 سے زائد فلسطینی بچوں کی شہادتیں دیکھائی نہیں دیتیں۔
آپ کو حیرت ہو گی امریکا جس ملک کو بھی امداد دیتا ہے اسے انسانی حقوق کے پیمانہ سے جانچتا ہے جہاں بھی معمولی سی خلاف ورزی ہو اس ملک کی امداد روک لیا کرتا ہے۔ امریکا سالانہ اسرائیل کو 3.8 ارب ڈالر کی امداد دیا کرتا ہے لیکن یہاں اسے انسانی حقوق کی برملا کی جانی والی خلاف ورزیوں سے مبرا قرار دیا گیا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق نومبر 2020 تک اسرائیل کو امریکا کی جانب سے 146 ارب ڈالر سے بھی زائد امداد دی جا چکی ہے۔ کیا عرب اور مسلمان ملکوں کو سمجھ نہیں آتا کہ اسرائیل کو مالی مدد کر کے کیوں مضبوط کیا جارہا ہے؟
یہاں بات پھر وہی سچ ہے کہ دنیا کمزور سے جینے کا حق چھین لیا کرتی ہے یہاں جیتا وہی ہے جس کے پیر مضبوط ہوں جو طاقت رکھتا ہو۔ ظلم پر آنکھیں بند کر کے بے غیرت ،بے حس، کم ظرف اور بزدل اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے بظاہر کچھ وقت کے لیے ظالموں سے سانسیں تو ادھار لے لیتے ہیں لیکن وہ زندہ لاش سے زیادہ کچھ نہیں ہوتے۔


شیئر کریں: