اسرائیل کے خلاف تیسری انتفاہ (مزاحمتی تحریک) کا آغاز

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا
اسرائیل کے شہریوں اور حکومت پر طویل عرصے بعد خوف کے انتہائی گہرے سائے دیکھے جارہے ہیں۔ اسرائیل کے اندر ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں جگہ جگہ جلاؤ گھیراؤ اور عمارتوں پر حملے کیے جارہے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ عرب فلسطینیوں کے علاقوں میں شیخ جراح سے آبادکاروں کو نکالے جانے کے عدالتی فیصلے پر مظاہروں میں شدت آچکی ہے۔
شیخ جراح مشرقی بیت المقدس کے ساتھ عرب فلسطینیوں کی بنیادی ضرورتوں سے محروم آبادی ہے۔ قدامت پسند اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ یہ زمین 1948 سے بھی پہلے ان کے پاس ہے۔ مقدمہ عدالت میں چلتا رہا اور 1970 میں اسرائیلی قانون نے قدامت پسندوں کو اجازت دی کہ وہ اپنی زمین عرب فلسطینیوں سے حاصل کرلیں۔

ہائی کورٹ نے بھی صیہونیوں کا زمین پر قبضہ جائز قرار دیتے ہوئے فلسطینی آباکاروں کو بے دخل کرنے کا حکم دیا۔ اس حکم کے بعد اسرائیل کے اندر رمضان کے آغاز سے ہی مظاہرے شروع ہو گئے۔
فلسطینیوں نے اسرائیل کے نام نہاد انصاف پر مبنی آئین اور عدالت کے فیصلے کو مسترد کردیا۔ ان کاکہنا ہے صیہونیوں نے فلسطینیوں کی سرزمین پر غیرقانونی قبضہ کیا۔ فلسطینی مسلسل احتجاج اور اپنی جانیں دے رہے لیکن اسرائیل تو کجا عالمی انصاف کے ادارے بھی فلسطینیوں کو انصاف دلانے سے قاصر ہیں۔ اب تو عرب مسلمانوں نے بھی ظالم اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے فلسطینیوں کی پشت زخمی کر دی ہے۔

مغربی کنارہ اور غزہ کی پٹی

مغربی کنارہ اور غزہ کی پٹی کا علاقہ 1967 تک اردن اور مصر کے زیر کنٹرول تھا۔ 1967 میں چھ روزہ جنگ کے بعد اسرائیل نے ان علاقوں پر قبضہ کر کے ہزاروں مسلح یہودیوں کو آباد کر دیا۔ اسی زمین پر فوج کے انتظامی دفاتر بنا دیے گئے۔
دسمبر 1987 تک مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے چالیس فیصہ حصے پر 2200 یہودیوں کو آباد کرادیا گیا اور باقی 60 فیصد حصے پر 6لاکھ 50 ہزار فلسطینیوں کو دکھیل دیا گیا۔ غزہ کی پٹی کا چھوٹا سا علاقہ انتہائی گنجان آباد علاقہ قرار دیا جاتا ہے جو بنیادی سہولتوں سے بھی تاحال محروم ہے۔
حرم الشریف کی دیوار کے ساتھ واقع انتہائی اہمیت کے علاقے شیخ جراح پر مسلمان کی آبادی کو اقلیت میں بدلنے کے لیے اسرائیل مسلسل غیرقانونی حربے استعمال کرتا رہا ہے۔ اس مرتبہ شیخ جراح کو خالی کرانے کی کوشش پر فلسطینی ڈٹ گئے۔
ہنگامہ آرائی کے دوران فلسطینیوں سمیت کئی افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل کے اندر اکتوبر 2000 کے بعد پہلی بار اس طرح کے مظاہرے کیے جارہے ہیں۔
پہلی اور دوسری انتفادہ تحریک کا آغاز بھی اسی طرح کے مظاہروں سے ہوا تھا۔


پہلی انتفادہ تحریک

1987 میں ہنگاموں اور مظاہروں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب 9 دسمبر کو ایک صیہونی انتہا پسند نے فلسطینیوں کے کیمپ پر گاڑی چڑھا دی۔ احتجاجی تحریک کا دائرہ کار وسیع ہوتا گیا پھر مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر اسرائیلی قبضہ کی بیسویں برسی پر پہلی انتفادہ تحریک کا آغاز ہوا۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے سربراہ یاسر عرفات اس احتجاجی تحریک کے روح رواں تھے۔ پانچ سال جاری رہنے والی اس تحریک کے نتیجے میں اسرائیل 1992 میں یہودیوں کی آبادکاری روکنے پر مجبور ہوا۔
اوسلو معاہدہ 1993 کے تحت اسرائیل نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے سے اپنی فوج بھی واپس نکال لی۔ معاہدہ کے ذریعے فسلطینیوں کو علاقے میں خود مختار حکومت بنانے کی راہ ہموار ہوئی۔ اسی معاہدہ پر 1994 میں یاسر عرفات، اسرائیلی وزیر اعظم روبن اسحاق اور وزیر خارجہ شمعون پیریز کا مشترکہ طور پر نوبل انعام سے نوازہ گیا۔
روبن اسحاق کو 1995 میں امن ریلی کے دوران ایک انتہاپسند یہودی نے قتل کردیا جس کے بعد ان کے پیش رو ایریل شمعون پیریز،ایہود براک اور بینجمن نیتن یاہو نے امن کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے لیے کام کیا۔

کیمپ ڈیوڈ معاہدہ اور دوسری انتفادہ

امن عمل کے لیے جولائی 2000 میں کیمپ ڈیوڈ کے مقام پر فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امریکی ثالثی میں مذاکرات ہوئے۔ فریقین کے درمیان معاہدہ بھی ہو گیا لیکن اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کے مشرقی بیت المقدس میں اشتعال انگیزی پر مبنی دورہ نے پھر سے حالات خراب کر دیے۔
اسرائیلی وزیراعظم کی فلسطین مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ستمبر 2000 میں بدترین ہنگامے پھوٹ پڑے۔ پانچ سال جاری اس مزاحمتی تحریک میں 3 ہزار فلسطینی، ایک ہزار اسرائیلی اور متعدد غیرملکی بھی نشانہ بنے۔ باالاخر 8 فروری 2005 کو شرم الشیخ سربراہ کانفرنس کے اعلامیہ پر دوسری انتفادہ کا اختتام ہوا۔

دونوں جنگوں کے دوران فلسطینیوں نے خودکش حملوں، پتھروں اور غلیلوں کے ذریعے صیہونی طاقت کا مقابلہ کیا لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ فلسطینیوں کے پاس ایرانی ساخت کے دور تک مار کرنے والے ہزاروں راکٹ اور میزائل کا ذخیرہ موجود ہے۔۔
حزب اللہ نے 2006 میں اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ میں چار ہزار سے زائد راکٹ اور میزائل داغے تھے۔ 33 روز میں ہی اسرائیل نے گھٹنے ٹیک دیے اور پھر اسے دوبارہ کبھی حزب اللہ پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہوئی۔
اسرائیل نے اس دوران ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کی ہے تو فلسطینیوں نے بھی سامان حرب میں کمال کی مہارت حاصل کر لی ہے۔ یہ جنگ دونوں تحریکوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے جیسا کہ انتفادہ کا مطلب ہی ہلا کر رکھ دینا ہے اور اس کا ثبوت اسرائیل کے دارلحکومت میں دھماکوں اور موت سے ڈرنے والے صیہونیوں کی چیخوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
حملے اتنے شدید کیے گئے کہ اسرائیل کی نصب آبادی زیرزمین بنکرز میں چلی گئی۔ تل ابیب سمیت پورا اسرائیل بند کر دیا گیا اور ایمرجنسی نافذ کر کے ریزرو فوج تعینات کر دی گئی۔

اسرائیل کا خودکار دفاعی نظام “آئرن ڈوم” حماس کے تمام راکٹ روکنے میں ناکام رہا۔ یہی وجہ ہے کہ تیل کی ریفائنری، فوجی چھاؤنی، بجلی گھر، درجنوں عمارتیں، پائپ لائن، بندرگاہ اور پبلک ٹرانسپورٹ کو نقصان پہنچا ہے۔
حماس اور اسلامی جہاد کے شدید حملوں سے لگ یہی رہا ہے کہ انہوں نے تیسری اور فیصلہ کن انتفادہ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مرتبہ پہلی اور دوسری انتفادہ کا نتیجہ ماضی سے مختلف اور حیران کن ہو گا۔ اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرکے فلسطینیوں کی پشت میں خنجر گھونپنے والوں کو بھی ہزیمت اٹھانا پڑے گی۔ تیسری انتفادہ سے صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ اس کے زر خرید عرب حکمرانوں کا تخت بھی کمزور پڑجائے گا۔


شیئر کریں: