بیوروکریسی: کون ہیرو کون ہیروئین؟

شیئر کریں:

سیدفخرکاکاخیل

اگر آپ کی عمر ویکسین لگانے کی ہے تو آپ کو یقیناً پاکستان کی بیوروکریسی کے مزاج کا بھی پتا ہوگا
اور آپ کو “شہنشاہ” نامی بالی ووڈ فلم بھی یاد ہوگی۔ لیکن اس پر بات کرنے سے پہلے جیسے کہ گزشتہ کالم
میں ذکر ہوا تھا پروٹوکول کا اور اس کے بعد سوشل میڈیا پر جس طرح وزیر اعظم عمران خان گاڑی چلاتے
ہوئے ایک مارکیٹ گئے اس کی وڈیو وائرل ہوگئی اسی طرح سیالکوٹ میں ایک اسٹنٹ کمشنر کی
صوبائی مشیر پنجاب سے تلخ کلامی کی وڈیو بھی وائرل ہوئی۔
دونوں خواتین کے بیچ کی لڑائی جب سوشل میڈیا کے میدان میں اتری تو جیسے پورے ملک میں آگ لگ
گئی۔ کوئی اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کے حق میں بول رہا تھا اور کوئی مشیر اطلاعات پنجاب فردوس
عاشق اعوان کے حق میں دھڑا دھڑ پوسٹ شئیر کر رہا تھا۔ ایسے میں ذہن بے اختیار اس عمل کی طرف
چلا گیا کہ جس میں یہ وی ائی پی لوگ یکایک کسی عوامی جگہ کا رخ کرتے ہیں تصویریں بناتے ہیں
کسی کو جھڑکیاں، جگہیں سیل کرنا بلکہ بعض دفعہ تو بندے گرفتار بھی کر دیئے جاتے ہیں۔
وڈیوز بنتی ہیں اور واہ واہیاں سمیٹی جاتی ہیں۔ گو کہ کچھ روز بعد یہ بھی کوئی نہیں پوچھتا کہ اس
کے بعد کیا ہوا اور کاروبار زندگی اسی طرح چلتا رہتا ہے کہ جیسے تھا۔

دراصل ہمارا معاشرہ داستانوں کا معاشرہ ہے اور ہمارے عوام تماش بین،کہ جس میں ایک ایسے کردار
کو ہیرو کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے کہ جو عوام کے حقوق کے لئیے میدان میں اتر کر ظالموں کی دھلائی
کرتا ہے۔ یہ کردار فرسٹریشن کا شکار معاشرےمیں اور پذیرائی حاصل کرتے ہیں۔ لیکن کیا منافع خوری
پر قابو پایا گیا؟ کیا بازار میں ملاوٹ کا راج نہیں؟ کیا گرانفروشی عروج پر نہیں؟ کیاادویات میں ہیرا
پھیری نہیں ہوتی؟ جنرل ضیاء کے مارشل لائی دور میں بھی کرپشن، اقربا پروری اور انتظامی بدعنوانیاں
موجود تھیں۔
یہی وجہ تھی کہ جنرل ضیاءکے دور میں گنڈاسہ کلچر فلموں میں پروان چڑھا۔ اس طرح ہندوستان سے
ایک فلم شہنشاہ کے نام سے اسمگل ہو کر آئی جس نے یہاں خوب پذیرائی حاصل کی۔ اس سے قبل
مغرب میں رابن ہڈ کا تصور تھا جو نیک دل ڈاکو تھا جو امیروں سے دولت لوٹ کر غریبوں میں
بانٹتا تھا۔
پردے پر یہ سب کچھ دیکھ کر استحصال کے شکار عوام کی فرسٹریشن دور ہو جاتی کہ گویا حقیقت
میں ایک ایسا مسیحا بھی ہے۔ شہنشاہ فلم میں البتہ یہ کردار ایک پولیس والے کے روپ میں
امیتابھ بچن نے ادا کیا ہے۔ جب وہ یہ بولتا تھا کہ “رشتے میں تو ہم تمہارے باپ لگتے ہیں پر نام
ہے شہنشاہ” تو حاظرین پر ایک جذبہ طاری ہوتا تھا۔
اس طرح ایک جگہ پر وہ کہتے ہیں کہ “لیکن تم نہیں جانتے کہ اس شہر میں ایک اور افسر آیا ہے
جو پولیس کی نوکری نہیں کرتا لیکن کام پولیس کے کرتا ہے۔ جو قانون کی نوکری نہیں کرتا بلکہ
خود قانون بناتا ہے۔” تو عوام کو ہر دور میں ایک ایسے کردار کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس کو
دیکھ کر وہ اپنی کیتھارسس کرتے ہیں یعنی اپنی فرسٹریشن دور کر سکیں۔
جب ہندوستانی فلم دبنگ آئی تو ہمارے کئی پولیس دوست افسران جیسے خود کو اس کردار میں
محسوس کرنے لگے۔ اب اکیسویں صدی ہے اب کسی کو فلم کی ضرورت رہی نہیں یہ افسران اب
خود اپنے اکاؤنٹس پر اپنی وڈیوز اور تصویریں چڑھا کر خود کو ہیرو ثابت کرتے ہیں۔
کئی خواتین افسران تو ان تصویروں میں کسی سرکاری اہلکار سے زیادہ ماڈلز نظر آتی ہیں جو
مہنگے مہنگے برانڈ کے کپڑے پہن کر بازار میں پولیس سیکیورٹی(گویا باڈی گارڈز ہوں)میں نظر
آتی ہیں۔ اکثریتی افسران کے ٹوئٹر اکاؤنٹس ہیں بلکہ اب تو اضلاع کی سطح پر ان کے باقاعدہ
فیس بک پیجز بنے ہیں۔ کہ جس میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ “لیکن تم نہیں جانتے کہ اس شہر
میں ایک اور افسر آیا ہے۔” چھاپے، پکڑ دھکڑ، عوام میں گھل مل گئے، گراں فروش اندر کردئیے،
اہلکاروں کو ڈانٹ پلا دی، وغیرہ وغیرہ جیسے جملوں کے ساتھ یہ تصاویر سوشل میڈیا کی زینت
بنتی رہتی ہیں۔
یہ سوال ایک دفعہ ایک افسر سے کیا تو موصوف فرمانے لگے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں کیونکہ
موجودہ سیٹ اپ میں آپ سوشل میڈیا پر نہیں تو کہیں نہیں ہیں۔ کئی تو یہ کہتے پائے گئے کہ
اب ہمیں کسی اخبار یا ٹی وی کی ضرورت نہیں ہے۔ دراصل اندھیری راتوں میں سنسان راہوں پر
ایک مسیحا والی شہنشاہ اور عوامی غمگسار کی جو تصویر وہ پیش کرنا چاہتے وہ اپنے اپنے پلیٹ
فارم سے شئیر کرتے ہیں۔ لیکن جب کسی مؤقر ادارے کا رپورٹر سوال کرتا ہے تو بتایا جاتا ہے کہ
سرکاری ملازمت کی وجہ سے وہ کوئی بیان نہیں دے سکتا۔ اگر کوئی ٹی وی چینل بلاتا ہے تو
جواب ملتا ہے کہ اوپر سے اجازت نہیں ہے۔
مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے جو کہا یقیناً یہ زیب نہیں دیتا لیکن اسٹنٹ کمشنر نے
اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جس طرح اپنا امیج دکھایا ہے وہ بھی تو حقیقت سے دور ہے۔حقیقت تو یہ
ہے کہ شدید گرمیوں میں ان کا زیادہ تر وقت ایئر کنڈیشنڈ کمرے کے ٹھنڈا ٹھار ماحول میں ایک
بڑی میز کے پیچھے درجن بھر فائیلز پر دستخط کرتے ہی گزرتا ہے۔

ہمارے سرکار شاہی سے وابستہ افسران کو یاد رکھنا چاہئیے کہ جھوٹ کو سچائی سے جینا فنکار کا کام
ہوتا ہے کسی حاضر سروس افسر کا نہیں۔ اگر یہ اس طرح معاملات چلاتے رہے تو ان کا ذکر فلموں میں
تو ہوسکتا ہےتاریخ میں نہیں۔صرف شہنشاہ والی امیج ظاہر ہے فلموں میں ہی ہو سکتی ہے اور اچھی
لگتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عوام کل بھی رل رہے تھے عوام آج بھی رل رہے ہیں۔ یہ کسی افسر یا
شخصیت اور شخصیت پرستی سے حل ہونے والے مسائل نہیں بلکہ نظام میں تبدیلی ہی اصل
تبدیلی ہوگی۔


شیئر کریں: