ماؤں کا عالمی دن اور امبرین کی ماں

شیئر کریں:

تحریر ثنا ءزہرا نقوی

میرا امبرُو , میرا امبرُو ۔ یہ آوازیں کمرے میں داخل ہونے سے پہلے ہی سنائی دے رہی تھیں۔ کمرے میں
داخل ہوئے تو آنٹی نے بستر کی چادر اٹھا کر اس کے نیچے سے امبرین کا ایک جوڑا نکالا اور دکھانے لگ
گئیں کہ دیکھو میری امبرین کے کپڑے ، میرا امبرُو مجھے چھوڑ کر چلا گیا، وہ اب کبھی واپس نہیں آئے
گی کہتے ہوئے اس کے کپڑوں کو سینے پررکھ لیا۔
عمر رسیدہ، بیماراور صدمے میں ہونے کے باعث وہ بستر پر لیٹے ہوئے اپنی بیٹی کی سہیلیوں سے تعزیت
قبول کررہی تھیں۔ اس سے پہلے میں ان کے شوہر کی وفات پر ان سے مل چکی تھی لیکن دو سال کے بعد
ملنے پر میں نے اپنا تعارف کروایا تو انہوں نے لیٹے لیٹے ہی مجھے گلے لگا لیا اور دھاڑیں مار کر رونے لگیں۔
کہا کہ مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا ثناء، میں تمیں پہچان نہیں پائی، تمہارا بھی جوان بھائی دنیا سے گیا تھا
دیکھو میں بھی تمہاری ماں جیسی ہو گئی ان کا حال بالکل میری ماں جیسا ہی تھا۔

امبرین تم میرے ساتھ کیا کر گئی ہو؟

وہی باتیں پھر سے میری سماعتوں کا مقدر ہوئیں جن کے جواب میں کہنے کو دنیا جہان کے تمام الفاظ
بے وقعت ہو جاتے ہیں۔ انہیں بھی امی کی طرح اپنی دنیا سے چلی جانے والی اولاد کے آرام اور سکون
کی فکر ہو رہی تھی۔

امی کو بھی سمجھانا بے سود تھا کہ مرجانے والے کو نا بھوک لگتی ہے ناسردی نا گرمی، امی کو ایسے
بے بس اور کمزور دیکھ کر دل پھٹنے لگتا ہے۔ اپنے دکھوں کا اظہار نہ کرنے والی ہر کسی سے ایک ہی
موضوع پر گفتگو کرتی ہیں وہ ہے ان کا بیٹا ، اس کی مختصر زندگی اور اس کے آخری لمحات۔
امی سے جب کہا جاتا ہے کہ صبر کریں آپ تو اتنی باہمت ہیں آپ نے اپنے شوہر اور بھائیوں کی موت کے
صدمے کو بہادری سے برادشت کیا مگر امی کا جواب یہی ہوتا ہے کہ پہلے مجھے کوکھ کی چوٹ نہیں لگی
تھی۔اس چوٹ کی تکلیف میرے ساتھ قبرتک جائے گی۔

امبرین کو دنیا سے گئے گیارہ روز ہو چکے تھے لیکن ان کی ماں بھی یہ لفظ سننے کو تیار نہیں تھیں کہ
وہ دنیا سے جا چکی ہیں۔ اپنی بیٹی سے بار بار کہہ رہی تھیں کہ یہ مت کہو اس کی فاتحہ دلوائی ہے
یہ کہو کہ اسے کھانا بھیجا ہے ۔وہ ہر تھوڑی دیر بعد یہی سوال کئے جا رہی تھیں کہ میں اس کے بغیر
کیسے جئیوں گی؟
اسے کہیں سے ڈھونڈ لاؤ، وہ میری سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی تھی۔ ماں کے بین اور التجائیں سینہ
چھلنی کر رہی تھیں لیکن سوائے لفظی تسلی کے ہمارے پاس انہیں دینے کے لئے کچھ نہیں تھا وہ بھی
ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر جب ماؤں کو اچھے سے اچھا تحفہ دیا جاتا ہے۔
انہیں خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ انہیں خاص ہونے کا احساس دلایا جاتا ہے۔ اس موقع پر وہ اپنی
جوان بیٹی کا غم کلیجے سے لگائے بے سدھ پڑی تھیں۔

میری امی (امبرین زمان خان کی ایک سال پہلے کی تحریر)

ہمارے ارد گرد کئی ایسے لوگ موجود ہیں جو والدین کی شفقت سے محروم چکے ہیں وہ ایسےخاص دنوں
پر ان کی کمی اور زیادہ محسوس کرتے ہیں۔ اولاد کے لئے ماں باپ کا نہ ہونا بھی بہت بڑا دکھ ہے، شاید
اولاد کے دل و دماغ میں بوڑھے ہوتے والدین سے جدائی کا اندیشہ موجود رہتا ہے لیکن والدین اپنی جوان
اولاد کے جنازے کا کبھی تصور بھی نہیں کرتے ہوں گے یہی وجہ ہے کہ وہ اولاد کی موت کو زہنی طور قبول ہی
نہیں کر پاتے۔
واقعی اولاد کا دکھ تمام دکھوں سے عظیم ہے۔ا ب سمجھ میں آتا ہے یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ ماں کا
کوئی نعم البدل نہیں۔ ماں کا رشتہ ایک ایسا عظیم رشتہ ہے جو اولاد منوں مٹی تلے سو جائے تو بھی
اس کی فکر میں مبتلا رہتی ہے ۔ کھانے میں اس کا حصہ نکالتی ہے ۔ اس کی ہر چیز کی ویسے ہی
حفاظت کرتی ہے ۔ اس کی ہر نشانی کو سینے سے لگائے پھرتی ہے۔

ماؤں کے عالمی دن پر ہزار تحفے دے دئے جائیں ، دنیا جہان کی نعمیتں لا کر بھی ماں کے قدموں تلے رکھ
دی جائیں تو بھی ماں کی عظمت کے مقابلے میں کافی نہیں ہیں۔ کاش ماؤں کو تحفے میں پہلی سی صحت،
سکون اور صبر دیا جا سکتا لیکن یہ تو اس مالک کے اختیارمیں ہے جو دکھی دلوں کا معالج ہے اور اسی
سے دعا ہے کہ وہ سب کی ماؤں کو سلامت رکھے اور کسی ماں کو اولاد کا دکھ نا دکھائے۔


شیئر کریں: