کورونا وائرس کی جان لیوا وبا تفریح اور ہم

شیئر کریں:

تحریر محمد امنان

کورونا کی ابتلاء کوئی ایک سال سے زائد عرصے سے ہمارے ساتھ رہ رہی ہے ہم سب کا اس سے کوئی خاص تعلق نہیں لیکن ہم میں سے بہت سوں نے اس کے ساتھ ناجائز رشتہ جوڑ کر اسے زبردستی اپنے ہاں روک رکھا ہے۔

بہت ساری وجوہات ہیں جن پہ بات کی جا سکتی ہے مثال کے طور پہ حکومت ابھی تک ویکیسن بنا نہیں سکی یا منگوا نہیں سکی۔ حکومتی پالیسیاں اور انتظامی معاملات میں کوتاہیوں سے بھی حالات بگڑے ہیں لیکن میری دانست میں کورونا کو سر پہ چڑھانے کی جو واحد وجہ ہے آج اس پہ کچھ لکھنے کو دل ہو رہا تھا تو کی پیڈ پہ کھٹ کھٹ شروع کر دی۔

حکومتی انتظامات اور لوکل گورنمنٹس کے امور کی بات ہی چھوڑئیے ہمارے ہاں ستر بہتر سال سے ہر ابتلاء یا آزمائش کو ہمیشہ روایتی انداز میں کاہلی کے ساتھ ہی نمٹایا جاتا ہے اور آخر میں ہر بار کی طرح حالات بے قابو ہونے پر پاک فوج کی منتیں ڈالنا پڑتی ہیں کہ جوانو آو اور اس اڑیل قوم کو نکیل ڈالو یا کم از کم ہماری مدد ہی کر دو۔

کورونا وائرس نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کے رکھا ہوا ہے بڑے بڑے پالیسی میکر بھی اس کے سامنے ہاتھ جوڑ چکے ہیں ہمارے ہاں آجکل بازاروں میں روایتی گہما گہمی ہے گو کہ دو تین سال پہلے کی طرح بازاروں میں عید اسٹالز نہیں لگ پائے لیکن عوام کا رش آج بھی ہمارے بازاروں میں جوں کا توں ہے۔


ہم پچھلے ستر بہتر سال سے ملکی حالات پر کبھی آمریت کبھی سیاستدانوں اور کبھی بیوروکریٹس کو کوسنے دے کر پلہ جھاڑ لیتے ہیں لیکن اصل مسلہ جوں کا توں ہے یعنی اس ملک میں سب سے بڑا مسئلہ میں خود ہوں یعنی عام آدمی۔

پڑھنے والوں یا بازاروں میں گھومنے والوں کو مثال نہیں بناوں گا میں خود کو سامنے رکھتے ہوئے بات کرنا یہ چاہوں گا کہ ہمارے ہاں تفریح کی کمی ہے اور اخلاقیات کی پستی سے بھی پرے کا آدمی ہوں میں۔

کورونا وائرس کی بگڑتی صورتحال سب کے سامنے ہے روز خبروں میں دکھایا بتایا جا رہا ہے مگر ہم ہر بار کی طرح “او جانے” کہہ کر سر تلے بازو رکھ کر سو رہے ہیں۔

خاص طور پہ پنجاب کی بات کروں تو یہاں میں اور مجھ جیسے کروڑوں مڈل کلاس اور اس سے نچلے طبقے کے لوگ کورونا کا ٹھٹھا اڑاتے ہوئے بازاروں میں نکل جاتے ہیں کہ “پائی کیہڑا کورونا” ایسا کچھ نہیں ہے سب پیسے اینٹھنے کے معاملات ہیں۔

ابھی کل کی بات ہے کہ حکومت نے اعلان کر رکھا تھا کہ پنجاب میں کورونا کی بگڑتی صورت حال کےبپیش نظر 8 مئی سے 16 مئی تک لاک ڈاون نافذ کیا جا رہا ہے۔

ایک دن قبل ہی مجھ جیسے لوگوں کو اچانک خیال آیا کہ بھئی صرف آج شام 6 بجے تک کا ٹائم ہے اس کے بعد ناجانے کیا ہو آخری آخری شاپنگ کر لو اور خوب دبا کر کرو بچوں کو نکالو فیملیز کو نکالو عید کونسا روز روز آتی ہے کورونا تو ایک نا دن خود ہی چلا جائے گا۔

تو بھیا بازاروں میں شام 6 بجے سے پہلے حالات کچھ یوں تھے کہ کھوے سے کھوا چھل رہا تھا ایسا تھا مانو ہفتے کے روز سے قیامت کا کاونٹ ڈاون شروع ہے اگر قیامت کے کپڑے نہ سلوائے یا خریدے تو لوگ اور شیطان میں باتیں بنیں گی۔

پنجاب کے لوگ بات بن جانے سے بڑا ڈرتے ہیں اب کسی کے منہ سے نکلنے والی بات کو لیکر یہ لوگ اتنے جذباتی ہیں کہ آخری حد تک چلے جاتے ہیں چاہے کچھ ہو جائے بس کوئی بات نہ کر جائے دوکانداروں نے بھی لاک ڈاون سے پہلے کی پابندیوں کو اس طرح نبھایا کہ دکانوں کے شٹر گرا کر باہر ایک بندہ صرف اس لیے بٹھا دیا جو آنے والے گاہکوں کو بتا سکے کہ صرف شٹر گرا ہے کام چالو ہے۔

یہ دکان کے باہر والا آدمی آنکھ دبا کر شٹر اٹھا کر گاہک کو اندر پھینکتا ہے اور پولیس کا دھیان رکھتا ہے پولیس والے بیچارے کہاں تک روکیں اس تفریح پسند عوام کو پولیس بھی کما رہی ہے لیکن مجھے انتظامیہ اور پولیس کے لوگوں پر ترس بھی آتا ہے۔

بیچارے کیا کریں گے کیسے روکیں گے خواتین کے تو کیا ہی کہنے انکی شاپنگ تو عام دنوں میں بھی مکمل نہیں ہو کے دیتی اب تو پھر کورونا ہے ہم ایسی تفریح پسند قوم ہیں کہ ہم لوگ لاک ڈاون میں ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے کے لیے آنے والے پاک فوج کے دستوں کو دیکھنے گھروں سے نکل آتے ہیں اور خوب رش جما لیتے ہیں۔

اب شاپنگ تو ہوئی ہے اور ڈھیروں ڈھیر ہوئی ہے ایک اندازے کے مطابق صرف فیصل آباد کے آٹھ بازاروں میں کپڑے کی مارکیٹوں میں کوئی 7 کروڑ کا کپڑا 3 دن میں فروخت ہوا ہے لیکن ہر دوسرا بندہ حالات کا رونا رو رہا ہے۔

آپ سڑکوں پہ دیکھ لیں نئی کمپنیز کی مہنگی کاروں کے نئے نویلے ماڈلز ہر دوسرا بندہ لیکر گھوم رہا ہے اور اسکے باوجود ہم غریب ہیں اصل غریب تو بیچارہ ڈر کے مارے زبان پہ لاتا ہی نہیں کہ میرے حالات کیا ہیں اور کیوں ہیں۔

بلا کے ڈرامے باز اور مکار لوگ ہیں ہم اور ہم کوسنے حکمرانوں اور حالات کو دے رہے ہوتے ہیں شاپنگ یا بازاروں میں گھومنے کی بات آپ میں اور کوئی بھی نہیں مانے گا لیکن بازار کھچا کھچ بھرے رہے اور ہم کورونا کو گلے لگا لگا کر اس کی بلائیں ضرور لی ہیں۔

اصل میں اور آخر میں صرف اتنا ہی لکھنا چاہ رہا ہوں کہ ہمیں کورونا کے علاج سے قبل ہمارے دماغوں کا علاج ڈھونڈنا چاہیے جب تک ہم اخلاقی طور پر صحت مند نہیں ہوں گے تب تک ہم یونہی ایک دوسرے اور روایت کے مطابق حکمرانوں کو قصور وار ٹھہراتے رہیں گے اپنے گریبانوں میں غور سے جھانکنے پہ معلوم ہو گا کہ مسائل کی اصل جڑ ہم لوگ خود ہیں۔
جیسے عوام ویسے حکمران
اور اس کے بعد ویسے ہی حالات
یہ سب جو ہو رہا ہے ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ ہے اور ہمیں ہی اسے بھگتنا ہو گا۔

جو قوم ہمسایہ ملک میں بگڑتی صورتحال کو دیکھ کر بھی سبق نہ لے اسکا پھر اللہ ہی حافظ ہے۔
اللہ حافظ


شیئر کریں: