پاکستان سعودی عرب تعلقات میں اتار چڑھاؤ

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ نظر آئے۔ پاکستان پر برے حالات ہوں یا سعودی عرب کسی مشکل کے بھنور میں پھنسا ہو، دونوں ممالک نے ضرورت کے وقت ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا۔
دونوں ممالک آپسی تعلقات کو اسٹرٹیجک سے ہٹ کر برادرانہ تعلقات قرار دیتے ہیں۔ ماضی دونوں ممالک کے خوشگوار تعلقات کا عکاس بھی ہے۔
لیکن سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دور میں دونوں دوست ممالک کے تعلقات میں ہلچل دیکھی گئی۔ گزشتہ ایک دہائی میں سعودی عرب اور پاکستان میں کئی معاملات پر اختلاف نظر آیا جس کا براہ راست اثر دونوں ممالک کے تعلقات پر نظر آیا۔

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر اعظم عمران خان سعودی عرب کے دورہ پر ہیں۔ یہ دورہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر ہو رہا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان دہائیوں سے دیرینہ تعلقات رہے ہیں۔ 1960 سے سعودی عرب پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے مالی معاونت کرتا آرہا ہے۔ پاکستان کو جو بھی قرضہ دیا گیا وہ سعودی عرب نے کبھی واپس نہیں لیا لیکن پہلی بار 2020 میں قرضہ کی واپسی کا تقاضہ کیا گیا۔
آخر سعودی عرب کے لہجہ میں تلخی کیوں آئی یہ جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ماضی قریب میں رونما ہونے کے والے کچھ واقعات کو دیکھ لیا جائے۔

یمن جنگ میں پاکستان کا کردار

سعودی عرب کی قیادت میں اکتالیس رکنی مسلمان ملکوں کی فوج نے یمن میں حوثیوں پر جنگ مسلط کی۔ اس جنگ میں پاکستان کو مرکزی کردار کی پیشکش کی گئی لیکن حکومت نے مسترد کرتے ہوئے غیرجانبدار رہنے کو ترجیح دی۔ نواز شریف کی حکومت نے پارلیمنٹ میں اس پیش کش کو رکھا جسے مسترد کر دیا گیا۔
خادم حرمین شریفین اور سعودی عرب کے دفاع کے لیے بنائی گئی مسلمان ممالک (ایران اور عراق شامل نہیں) کی فوج کی قیادت پاکستان کے رٹائرڈ جنرل راحیل شریف کر رہے ہیں۔ بھاری بھرکم فوج کے باوجود حوثیوں کو شکست نہ دی جاسکی اور حوثیوں کے حملے سعودی عرب تک ہونے لگے۔

قطر کی ناکہ بندی

سعودی عرب نے مشرق وسطی کے چھوٹے سے لیکن انتہائی اہم ملک قطر کی 2017 میں ناکہ بندی دی۔ بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر نے بھی ایسا ہی کیا۔ پاکستان نے اس مہم میں بھی سعودی عرب کا ساتھ نہیں دیا۔ ایران سے بہتر تعلقات کی وجہ سے قطر کی ناکہ بندی کی گئی لیکن ریاض کے سامنے دوحہ نے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ صورت حال قطر کے حق میں ہوتی گئی اور پھر باالاخر سعودی عرب نے رواں سال کے اوائل میں دوبارہ سے قطر کے ساتھ تعلقات بحال کر لیے ہیں۔

ایران سعودی عرب تنازع

سعودی عرب اور ایران کے تنازع میں بھی پاکستان غیر جانبدار رہا۔ بلکہ اسلام آباد نے تہران اور ریاض کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کردار بھی ادا کیا۔ راہ ہموار ہوئی تھی عراق میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان کئی سال بعد پہلے براہ راست مزاکرات ممکن ہوئے۔
گوکہ اس ملاقات کا سہرا عراق کے وزیرا عظم کے سرجاتا ہے لیکن اس سلسلے میں پہل پاکستان کی جانب کی گئی تھی۔

5 اگست 2019 کے بعد

بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو کشمیریوں کو حاصل آئینی حقوق سے محروم کیا گیا۔ اس عمل کی سعودی عرب یا کسی بھی عرب ممالک کی جانب سے مزمت نہ کیے جانے پر پاکستان کا رویہ تھوڑا سخت ہوا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عرب لیگ اور او آئی سی کا اجلاس نہ بلانے پر غیر عرب ممالک سے اتحاد بنانے کی دھمکی دے ڈالی۔
صورت حال یہاں سے کچھ زیادہ خراب ہوئی اور سعودی عرب نے بھارت سے تعلقات مزید مستحکم کر لیے۔
اس کا اندازہ بخوبی یوں لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تجارت کا مجموعی حجم 2 عشاریہ ایک ارب ڈالر ہے۔ اس کے برخلاف بھارت کے ساتھ 33 ارب ڈالر سے بھی زیادہ کا حجم ہے۔
سعودی عرب ہی نہیں دیگر عرب ممالک بھی بھارت کے قریب تر ہوتے چلے گئے۔ پاکستان اور بھارت کے تارکین وطن کی سعودی عرب میں تعداد 25 لاکھ تک ہے۔ متحدہ عرب امارات میں بھارتی شہری 35 لاکھ ہیں اور پاکستان کے تارکین وطن کی تعداد صرف 15 لاکھ ہے۔

گوکہ اس دورہ میں حالات کو بہتر بنانے کے لیے سعودی عرب نے پاکستان میں 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کیے ہیں۔
محمد بن سلمان نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے سعودیہ پاکستان سپریم کوآرڈنیشن کونسل بھی بنادی ہے۔
میرے نزدیک یہ سب کچھ کافی نہیں کیونکہ بھارت کے ساتھ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک نے وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے معاہدے کیے ہیں۔ پاکستان کو بھی اس کا جائز حق دینا چاہیے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور اس کی عسکری طاقت سے انکار کسی طور ممکن نہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں پاکستان اور سعودی عرب شادی کے ایسے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں جس میں ظلاق کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔


شیئر کریں: