اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب کی ویب سائٹ کو اپڈیٹ کون کرے گا؟

شیئر کریں:

عامر حسینی چیف رپورٹر ساؤتھ پنجاب

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی سرکاری ویب سائٹ 2019ء کے بعد سے اپ ڈیٹ نہ ہوسکی۔ ویب سائٹ پہ نیوز کے سیکشن میں زیلی سیکشن میڈیا روم پہ آخری خبر چار ستمبر 2019ء کی اپ ڈیٹ ہے۔
ای گورننس بہت بنانے کی دعوے دار پنجاب حکومت سرکاری محکموں میں کرپشن، اختیارات کا ناجائز استعمال روکنے اور سرکاری خزانے میں خرد بُرد کرنے کو روکنے کے لیے بنائے گئے محکمے اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب کی آفیشل ویب سائٹ کو 2019ء کے بعد سے ایپ ڈیٹ کرنے سے قاصر رہی ہے۔
2019ء کے بعد اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب کی آفیشل ویب سائٹ کے نیوز سیکشن کے میڈیا روم میں محکمے کی کارکردگی بارے کوئی معلومات موجود نہیں ہیں۔
کورونا کی تیسری بڑی پھیلتی لہر کے بعد بھی اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب کی ویب سائٹ کا اَپ ڈیٹ نہ ہونا محکمہ کی ای گورننس پہ سوالیہ نشان ہے۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار اور اُن کی مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور سیکریٹری اطلاعات و نشریات راجا جہانگیر کے دعوے محل نظر ٹھہر جاتے ہیں کہ پنجاب حکومت ای گورننس کے میدان میں آگے کی طرف جارہے ہیں۔ کرپشن روکنے کا اہم ترین ادارہ ای گورننس اپنی آفیشل ویب سائٹ پہ اس حوالے سے غیر فعال ہونے کا تاثر پیدا کررہی ہے۔

محکمہ اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب کے تمام سرکل تھانوں میں تعینات سرکل افسران ریڈرز، محرر حضرات پہ کرپشن کی نشاندہی کرنے والوں پہ کرپشن کے الزامات معمول بن چکے ہیں۔
حال ہی ملتان ریجن کے خانیوال کے سرکل افسر اور اس کے ریڈر وحید اقبال کے خلاف ایک انکوائری 272/20 میں فی کس ایک لاکھ روپیہ وصول کرکے ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفس خانیوال اور محکمہ تعلیم خانیوال کے قریب قریب 11 کے قریب افسران و ملازمین کو بلیک میل کرنے کا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔
محکمہ تعلیم میں تعینات ڈپٹی ڈی ای او محمد نعیم نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا کہ اُسے انکوائری نمبر 272 /20 میں بلیک میل اور ڈرا دھماکے بیان لیا گیا۔
ڈپٹی ڈی ای او زنانہ سابقہ شاذیہ حیدر اور موجودہ رخسانہ یاسمیں نے اسے کہا کہ سرکل افسر خانیوال سے اُن کا مُک مکا ہوچکا ہے تو وہ بھی لاکھ دیکر جان بچ بچا سکتا ہے۔


شیئر کریں: